ٹیمپا، فلوریڈا — 23 مئی کو امریکی سینٹرل کمانڈ کی فورسز نے ایران کے خلاف نافذ بحری ناکہ بندی کے دوران 100 تجارتی جہازوں کا رخ موڑنے کا سنگِ میل عبور کر لیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کی فورسز نے صدارتی حکم نامے کے تحت 13 اپریل کو ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے روانہ ہونے والی تمام سمندری آمدورفت کی ناکہ بندی کا عمل شروع کیا۔
گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران 15 ہزار سے زائد امریکی فوجی—جن میں سولجرز، سیلرز، میرینز اور ایئرمین شامل ہیں—100 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ چکے ہیں، 4 مختلف جہازوں کو ناکارہ بنا چکے ہیں، جبکہ انسانی امداد لے جانے والے 26 جہازوں کو خصوصی اجازت کے تحت گزرنے دیا گیا ہے۔
سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ امریکی افواج ایرانی بندرگاہوں سے بحری جہازوں کی آمد و رفت پر پابندی کے مکمل نفاذ کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارے فوجی مرد و خواتین شاندار کام کر رہے ہیں۔ امریکی ناکہ بندی کے باعث ایرانی بندرگاہوں پر سمندری تجارت مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے اور ایران پر معاشی دباؤ بڑھ گیا ہے۔"
امریکی ناکہ بندی کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے 200 سے زائد طیارے اور جنگی بحری جہاز اس مشن کی معاونت کر رہے ہیں، جن میں ابراہم لنکن کیریئر اسٹرائیک گروپ، جارج ایچ ڈبلیو بش کیریئر اسٹرائیک گروپ، ٹریپولی ایمفی بیئس ریڈی گروپ/31ویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ، اور متعدد گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز شامل ہیں۔
یہ ناکہ بندی تمام ممالک کے جہازوں پر یکساں طور پر نافذ ہوگی جو ایرانی بندرگاہوں یا ساحلی علاقوں میں داخل ہوں گے یا وہاں سے نکلیں گے، جبکہ اس میں خلیجِ عرب اور بحیرہ عمان میں واقع تمام ایرانی بندرگاہیں شامل ہیں۔