ٹیمپا، فلوریڈا — امریکی سینٹرل کمانڈ کی افواج 4 مئی سے 'پروجیکٹ فریڈم' کی معاونت کا آغاز کریں گی، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازرانی کی آزادانہ آمدورفت کو بحال کرنا ہے۔
امریکی صدر کے اعلان کردہ یہ مشن آزادانہ نقل و حمل کے خواہشمند اُن تجارتی جہازوں کی مدد کرے گا جو اس اہم بین الاقوامی تجارتی راستے سے بلا رکاوٹ گزرنا چاہتے ہیں۔
دنیا بھر میں سمندر کے راستے ہونے والی تیل کی تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ، اور ایندھن و کھاد کی بڑی مقدار، آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔
سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ 'ہماری جانب سے اس دفاعی مشن کی حمایت علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے جب کہ ہم بحری محاصرے کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔‘
گزشتہ ہفتے امریکی محکمہ خارجہ اور محکمہ جنگ نے مشترکہ طور پر ایک نئے اقدام کا اعلان کیا، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں سمندری سلامتی کے حوالے سے بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان ہم آہنگی اور معلومات کے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔
'میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ‘ کے نام سے اس اقدام میں سفارتی کوششوں کو فوجی تعاون کے ساتھ جوڑا جائے گا، جو 'پروجیکٹ فریڈم‘ کے دوران نہایت اہم کردار ادا کرے گا۔
'پروجیکٹ فریڈم‘ کے تحت امریکی فوجی معاونت میں گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز، 100 سے زائد فضائی اور بحری پلیٹ فارمز، بغیر پائلٹ کے نظام (ڈرونز)، اور 15 ہزار فوجی اہلکار شامل ہوں گے۔