ٹیمپا، فلوریڈا — امریکی سینٹرل کمانڈ کی افواج نے 11 اپریل کو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے ابتدائی اقدامات شروع کر دیے ہیں، جن میں امریکی بحریہ کے دو گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز کی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔
یو ایس ایس فرینک ای پیٹرسن اور یو ایس ایس مائیکل مرفی آبنائے ہرمز سے گزر کر خلیج عرب میں داخل ہو چکے ہیں۔ دونوں جہاز اس مشن کا حصہ ہیں جس کے تحت آبنائے ہرمز کو اُن بارودی سرنگوں سے مکمل طور پر پاک کیا جائے گا جو ماضی میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بچھائی گئی تھیں۔
سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ آج ہم نے ایک نئی محفوظ گزرگاہ قائم کرنے کے عمل کا آغاز کیا ہے، اور جلد ہی اس راستے کو عالمی بحری صنعت کے ساتھ شیئر کیا جائے گا تاکہ تجارت کے آزادانہ بہاؤ کو یقینی بنایا جا سکے۔
آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی سمندری راستہ اور خطے سمیت عالمی معاشی استحکام کے لیے نہایت اہم تجارتی گزرگاہ ہے۔ آنے والے دنوں میں مزید امریکی افواج، بشمول زیرِ آب ڈرونز، اس صفائی کے عمل میں شامل ہوں گی۔