ٹیمپا، فلوریڈا —امریکی سینٹرل کمانڈ نے 12 فروری کو شمال مشرقی شام سے عراق تک شبانہ پروازوں کے دوران داعش کے قیدیوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم منتقلی مشن کامیابی سے مکمل کیا ہے۔
23 روزہ منتقلی کا یہ مشن 21 جنوری کو شروع ہوا تھا، جس کے دوران امریکی فورسز نے 5 ہزار 700 سے زائد بالغ مرد داعش جنگجوؤں کو شام کی حراستی تنصیبات سے عراق منتقل کیا گیا۔
سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا: ”اس انتہائی چیلنجنگ مشن کو بہترین توجہ، پیشہ ورانہ مہارت اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مؤثر تعاون کے ساتھ انجام دینے پر پوری مشترکہ فورس ٹیم قابلِ ستائش ہے۔ ہم عراق کی قیادت کے مشکور ہیں، جس نے اس منتقلی کو علاقائی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔“
امریکی اور اتحادی فورسز نے مشترکہ ٹاسک فورس – آپریشن انہیرنٹ ریزولوکے تحت مشن کی منصوبہ بندی، رابطہ کاری اور عملدرآمد کی قیادت کی۔
مشترکہ ٹاسک فورس کے کمانڈر امریکی فوج کے میجر جنرل کیون لیمبرٹ نے کہا: ”میں اتحادیوں کی غیر معمولی کارکردگی پر بے حد فخر محسوس کرتا ہوں، اس منظم اور محفوظ کارروائی سے شام میں داعش کے دوبارہ اُبھرنے کو روکنے میں مدد ملے گی۔ “
سینٹ کام کی جانب سے 2014 میں قائم کی گئی مشترکہ ٹاسک فورس – آپریشن انہیرنٹ ریزولو نے داعش کے خلاف لڑائی میں شراکت دار افواج کو مشاورت، معاونت اور صلاحیت فراہم کی ہے۔