ٹیمپا، فلوریڈا — علاقائی پانیوں میں گشت کرنے والے دو امریکی بحری جنگی جہازوں پر بیلسٹک میزائل فائر کیے جانے کے جواب میں، سینٹ کام کی فورسز نے 5 ستمبر کو آئی آر جی سی کے 3 تیل بردار جہاز تباہ کر دیے ہیں۔
ایک امریکی طیارہ بردار جہاز اور ایک گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر متعدد بلا اشتعال ایرانی حملوں سے محفوظ رہے، اور کسی امریکی اہلکار کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
ایران کے ناکام حملوں کے بعد سینٹکام نے جزیرۂ خارگ کے ساحل کے قریب پاسدارانِ انقلاب کے خام تیل بردار بحری جہاز 'ایم ٹی ڈاؤنی‘ اور جاسک کے قریب 'ایم ٹی اسٹارک 1‘ کو مستقل طور پر ناکارہ بنا دیا۔
امریکی افواج نے خلیجِ عمان میں خالی خام تیل بردار بحری جہاز 'ایم ٹی کائلو‘ کو بھی مکمل طور پر تباہ کردیا۔ جہاز کے عملے کو اسے چھوڑنے کی ہدایت کیے جانے کے بعد امریکی فورسز نے جہاز کے متعدد اہم حصوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ دوبارہ چلنے کے قابل نہیں رہا۔
یہ تین ایرانی خام تیل بردار جہاز ایک اربوں ڈالر کے خفیہ نیٹ ورک کا حصہ ہیں جو آئی آر جی سی اور اس سے منسلک گروپوں کی مالی معاونت کرتا ہے۔ ایران کے پاس انہیں دفاع فراہم کرنے کی کوئی صلاحیت نہیں ہے۔
امریکی سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ 'آئی آر جی سی کے لیے واضح پیغام ہے: اگر آپ ہمارے دو جہازوں پر فائر کریں گے تو ہم آپ پر اس سے بھی زیادہ معاشی نقصان پہنچائیں گے – اور آپ کے تین جہاز تباہ کر دیں گے۔ ہم امریکی افواج کے دفاع میں کسی تاخیر کا مظاہرہ نہیں کریں گے، اور اگر ضرورت پڑی تو ایران کے محدود اور غیر محفوظ تیل بردار بیڑے کو تباہ کر دیں گے۔‘