ٹیمپا، فلوریڈا — امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے 28 جولائی کو متحدہ عرب امارات کے ساتھ ایک معاہدے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت فوجی مصنوعی ذہانت (AI) کی جدید ایپلی کیشنز کی پیشرفت کو تیز کرنے کے لیے پہلی دو طرفہ اے آئی ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی۔
امریکی اور اماراتی ماہرین پر مشتمل یہ مشترکہ ٹیم جسے Task Force Talon Synapse کا نام دیا گیا ہے — آئندہ چند ہفتوں میں باقاعدہ طور پر کام کا آغاز کرے گی۔ ابوظہبی میں قائم اس ٹیم میں تقریباً 20 امریکی اور اماراتی اہلکار شامل ہوں گے، جو مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اور سائبر سیکیورٹی کے شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں۔
اس موقع پر سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا:"یہ ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوگا، کیونکہ ہم اپنے سب سے قابل علاقائی شراکت داروں میں سے ایک کے ساتھ مل کر اپنے فوجی اہلکاروں کو جدید ترین اے آئی صلاحیتیں فراہم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ہم اور ہمارے اماراتی شراکت دار جدید اے آئی ایپلی کیشنز کو اپنانے کا مضبوط عزم رکھتے ہیں، جس سے تیز رفتار اور وسیع پیمانے پر جدت کو فروغ ملے گا۔"
گزشتہ سال ایڈمرل کوپر اور متحدہ عرب امارات کے قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زاید النہیان نے اس ٹاسک فورس کے قیام کے امکان پر گفتگو کی تھی، جبکہ گزشتہ ماہ خطے کے دورے کے دوران سینٹ کام نے اے آئی انڈسٹری کے رہنماؤں اور اماراتی دفاعی حکام سے بھی تفصیلی ملاقاتیں کی تھیں۔
اس ٹاسک فورس کا بنیادی مقصد خطے کی سیکیورٹی صورتحال کی نگرانی، اہم تنصیبات کے تحفظ، اور انٹیلی جنس سپورٹ کے لیے مصنوعی ذہانت کا انضمام ہوگا۔