ٹیمپا، فلوریڈا — امریکی سینٹرل کمانڈ کی افواج نے 27 جون کو کمانڈر اِن چیف کی ہدایت پر ایران میں متعدد اہداف کے خلاف مزید حملے کیے۔
گزشتہ روز ایم وی ایور لولی نامی تجارتی بحری جہاز پر ایرانی حملے کے جواب میں کی گئی امریکی کارروائی کے بعد ایران کو جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کا موقع دیا گیا، لیکن ایران نے ایسا نہیں کیا اور آج صبح امریکی مشرقی وقت کے مطابق 4:30 بجے اس کی فورسز نے ایک یک طرفہ حملہ آور ڈرون کے ذریعے ایم ٹی کیکو کو نشانہ بنایا۔
پاناما کے پرچم بردار اس ٹینکر میں دو ملین بیرل سے زیادہ خام تیل موجود تھا اور وہ آبنائے ہرمز کے قریب سفر کر رہا تھا۔
سینٹرل کمانڈ کی افواج کی یہ کارروائی ایران کی جانب سے تجارتی جہاز رانی کے خلاف جاری جارحیت کے براہِ راست جواب میں کی گئی۔
امریکی فوجی طیاروں نے ایران کی فوجی نگرانی، مواصلاتی نظام، فضائی دفاعی مقامات، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا۔
آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بدستور جاری ہے اور امریکی افواج اپنی موجودگی اور چوکسی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔