صفحہ اول | مرکزی کمان کے متعلق | اے او آر ممالک | ازبکستان
ازبکستان
imgMapUzbekistan.gif

سینیٹ مسلح سروسز کمیٹی کے روبرو افغانستان ۔ پاکستان کی صورتحال اور امریکہ کے مرکزی کمان کے موقف کے حوالے سے امریکی فوج کے جنرل ڈیوڈ ایچ پٹریاس، امریکہ کی مرکزی کمان کے کمانڈر کا بیان

یکم اپریل 2009

اگرچہ وسطی ایشیا نے اے او آر (AOR) کے ذیلی خطوں کی نسبت کم توجہ حاصل کی ہے تاہم امریکہ وسطی ایشیا اور خطے کی دیگر بڑی طاقتوں کے ساتھ طویل المدت اور تعاون پر مبنی تعلقات قائم کرنے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے تا کہ عالمی امن کے لیے مثبت ماحول پیدا کیا جا سکے۔ روس، چین اور جنوبی ایشیا کے درمیان یوریشین براعظم پر وسطی ایشیا انتہائی اہم مقام پر ہے؛ لہذا یہ علاقائی اور بین الاقوامی تجارت اور افغانستان میں برسرِپیکار اتحادی فوج کے لیے سامانِ رسد کے لیے بڑے راستوں میں سے ایک ہے۔ ایشیا میں استحکام یقینی بنانے کے لیۓ ضروری ہے کہ یہ بین الاقوامی سیاست کے زمانہء قديم  اورپرانے جیت اور ہار کے کھیل سے دست بردار ھو کر انتہا پسندی اور غیر قانونی منشیات کے مشترکہ دشمنوں کا مقابلہ کریں اور انہیںغیر قانونی سمگلنگ جیسے مشترکہ دشمنوں کو شکست دینے کے لیے تعاون پر مبنی سوچ اپنانا ہو گی۔ امریکہ، روس اور چین کو ایک دوسرے کی قربانی دے کر وسطی ایشیائی حکومتوں کو بہلانا یا دبانا نہیں چاہیے۔ اس کے برعکس، تعاون کے ایسے بہت سے مواقع ہیں جن میں تمام متعلقہ فریقین کا مفاد ہے۔

تاہم، کئی دہائیوں پر محیط سوویت اقتدار کے بعد وسطی ایشیا کے سرکاری اور شہری ادارے اب بھی ترقی کے عمل سے گزر رہے ہیں اور امن و سلامتی، تعمیر و ترقی اور تعاون کی کوششوں کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگرچے سماجی، معاشی اور سکیورٹی معاملات پر باہمی انحصار موجود ہے، لیکن ان ریاستوں نے اب بھی امداد باہمی کا طریقہ کار واضع نہیں کیا۔ ان چیلنجوں پر غالب آنے کے لیے تدریجی اور آہستہ آہستہ آگے بڑھنے کی سوچ اپنانے کی ضرورت ہے جس میں قلیل مدتی ضروریات، بہتر گورننس، توانائی اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کے لیے منڈیوں کی دستیابی اور عوام کی سطح تک اقتصادی ترقی پر توجہ دی جائے۔

وسطی ایشیا میں ترقی کے فروغ اور دوستیاں بنانے کی وسیع تر امریکی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر، سینٹکام مقامی سکیورٹی فورسز کی صلاحیت سازی اور علاقائی سطح پر تعاون کے لیے نظام واضع کر رہا ہے۔ شراکتی استعداد بڑھانے کے پروگراموں کے ذریعے مختلف افواج، نیشنل گارڈ اور سرحدی سکیورٹی فورسز کے لیے تربیت، سامان اور سہولیات مہیا کرنے کے لیے ساتھ ساتھ ہم سکیورٹی اور ہنگامی حالات میں ردِعمل کے نظام جیسے معاملات پر قومی سطح کے اداروں کے درمیان گفتگو کا عمل آسان بنانے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، فروری 2008 اور اس کے بعد حالیہ مارچ میں سینٹکام نے وسطی ایشیائی ریاستوں کے وزرا دفاع کی کانفرنسوں کا انعقاد کیا جن میں علاقائی سلامتی کے معاملات پر بات کی گئی۔ سینٹ کام سالانہ علاقائی تعاون کی مشق کا بھی مشترکہ اہتمام کنندہ ہے جس کا مقصد انسدادِ دہشتگردی، سکیورٹی اور قدرتی آفات سے نپٹنے کے لیے علاقائی تعاون جیسے معاملات پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔

سینٹ کام وسطی ایشیا کے ذریعے افغانستان تک مستقل رسائی کو یقینی بنانے کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔ امریکہ کی مواصلاتی کمانڈ کے بے پناہ تعاون سے ہم نے متعدد وسطی ایشیائی ریاستوں سے گزرنے والا جنوبی تقسیم کاری کا نیٹ ورک تیار کر لیا ہے تا کہ نیٹو، امریکہ اور افغان سکیورٹی آپریشنز کے لیے غیر فوجی رسد پہنچانے کے لیے اخراجات اور پاکستان کے راستے گزرنے والے سامانِ رسد سے منسلک خطرات کم کیے جا سکیں۔ اس طرح ہم کرغزستان کی ماناس ایئر بیس کا متبادل بھی تلاش کر رہے ہیں۔ کرغز حکومت کی طرف سے امریکی اور اتحادی افواج کو صرف بیس تک محدود کرنے کا حکم مایوس کن ہے لیکن یہ افغانستان میں اتحادی کارروائیوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ نہیں ہو گا۔

title Filter     عدد دکھائیے 
عدد Item Title
 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 19 times

فیس بُک پر دوست
33,142+