صفحہ اول | خبریں
مملکت متحدہ برائے برطانیہ
منجانب CENTCOM Public Affairs, CENTCOM Public Affairs

ستمبر 2001 سے برطانوی نمائندے مستقل طور پر امریکی مرکزی کمان کے صدر دفتر کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اس وقت یہاں 30 سے زائد برطانوی افراد سینٹکام میں تعینات ہیں جو امریکہ اور 60 اتحادی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہمارے قومی اور مشترکہ مقاصد کے حصول کیلیے کام کررہے ہیں۔

افغانستان

برطانیہ افغانستان میں عسکری طور پر مصروف ہے کیونکہ ملک ان دہشتگردوں کی آماجگاہ بن چکا تھا جو کہ برطانیہ اور باقی دنیا کو دھمکیاں دیتے جارہے تھے۔ طالبان نے القاعدہ کو افغانستان میں محفوظ پناہگاہ فراہم کیں جس سے دہشتگردوں کو منصوبہ بندی اور پوری دنیا پر حملوں، جن میں 11 ستمبر 2011کے مظالم بھی شامل ہیں، کی سہولت ملی۔ واشنگٹن ڈی سی اور نیو یارک پر حملوں کے بعد برطانیہ نے عالمگیر دہشتگردی کے خلاف اپنی مہم میں چار اہم اہداف کی نشاندہی کی، جن میں القاعدہ کا افغان بیس ختم کرنا، انکو افغانستان کے باہر ایک متبادل بیس بنانے سے روکنا، بین الاقوامی طور پر القاعدہ پر حملہ کرنا اور دوسری ریاستوں کی انکی القاعدہ کے خلاف کوششوں میں مدد کرنا شامل ہیں۔

القاعدہ کے تربیتی کیمپ اور انکی حفاظت کرنے والی طالبان حکومت کو افغانستان سے 9/11 کے بعد کے مہینوں میں ہٹا دیا گیا اور بین الاقوامی فوج کی موجودگی انکی واپسی کو روک رہی ہے، مگر افغانستان اب بھی اتنا مضبوط نہیں ہوا ہے کہ اپنی حفاظت کی دیکھ بھال کرسکے۔

برطانوی حکومت چاہتی ہے کہ افغانستان ایک پائیدار اور محفوظ ریاست بنے جو کہ اپنے طور پر دہشتگردی اور شدید انتہا پسندی کو دُبا سکے۔ ہماری فوجی دستوں اور شہریوں کی حکومت افغانستان کے ساتھ کام کرنے کی بہت سادہ وجہ یہ ہے کہ ہماری قومی سلامتی کیلیے انکی دہشتگردی اور انتہا پسندی کو روکنے میں مدد کی جائے۔ اقوام متحدہ نے نیٹو کی قیادت میں بین الاقوامی فوجی مداخلت کی اجازت دی، کیونکہ دہشتگردی ہم سب کی سلامتی کیلیے ایک خطرہ ہے۔  60 سے زائد ممالک، جن میں نیٹو اور غیر-نیٹو اراکین شامل ہیں، حکومت افغانستان کے ساتھ ملکر پائیداری کے قیام کیلیے کام کررہے ہیں۔ اکثر اقوام نے نیٹو کی قیادت میں بین الاقوامی مددگار افواج – ایساف – کیلیے فوجی دستے فراہم کیے ہیں، جن میں برطانیہ حالیہ طور پر 9,500 تعینات افراد کے ساتھ دوسرا سب سے بڑا فوجی دستوں کا فراہم کنندہ ہے۔

اکتوبر 2001 میں پہلے حملے کے ساتھ، برطانیہ افغانستان میں امریکی قیادت میں اتحادی افواج کے ساتھ آپریشن پائیدار آزادی او ای ایف میں شامل ہے۔ رائل بحریہ کے آبدوزوں نے طالبان اور القاعدہ کے نیٹ ورک پر ٹوماہاک میزائل داغے، اور رائل ایر فورس کے جہازوں نے امریکی حملہ آور جہازوں کی مدد کیلیے جاسوسی اور ہوا سے ہوا میں ایندھن کی فراہمی کی صلاحیت فراہم کی۔

برطانوی دستے افغانستان میں سب سے پہلے نومبر 2001 میں تعینات کیے گئے تھے، جب 40 کمانڈو کے رائل میرینز نے بگرام کی ہوائی پٹی کی حفاظت کی مدد کی۔ بعد میں 45 کمانڈو کے رائل میرینز کے ارد گرد 1700 فوجیوں کا ایک گروپ جاکانا ٹاسک فورس کے طور پر تعینات کیا گیا۔ انکا کردار دہشتگردی کے بنیادی ڈھانچے کو روکنا اور تباہ کرنا، اور مشرقی افغانستان میں القاعدہ کی نقل وحرکت میں مداخلت کرنا تھا۔

دسمبر 2001 میں برطانیہ نے بین الاقوامی حفاظتی مددگار افواج -ایساف - کے قیام کیلیے مذاکرات کی قیادت کی اور برطانوی میجر جنرل جان مک کول نے 16 اقوام کے تعاون کے ساتھ پہلی مہم کی قیادت کی۔ اسکے ساتھ ساتھ مرکزی دفاتر کی فراہمی اور ایساف کیلیے مددگار افواج کے زیادہ تر حصے کی فراہمی کے علاوہ، برطانیہ نے بریگیڈ مرکزی دفاتر اور ایک پیدل فوج کی بٹالین بھی فراہم کی۔

2006 میں، جنوب میں ایساف کے پھیلاؤ کے حصے کے طور پر برطانیہ ہیلمند صوبے میں آگے بڑھ کر آیا اور ابتدائی طور پر 3500 اضافی افواج کو تعینات کیا جس سے کل برطانوی تعداد 4000 سےتجاوز کرگئی۔ آپریشن پینتھرز کلاء کی کامیابی کے بعد، جس سے مرکزی ہیلمند میں افغان آبادیوں کے زیادہ علاقے محفوظ ہوئے، برطانوی افواج کی تعداد 9500 تک پہنچ گئی۔

افغانستان میں ایساف اور او ای ایف کی مہموں کا ایک اہم حصہ افغان قومی حفاظتی افواج کی تربیت اور انکی استعداد کو بڑھانا، اور انکو اس قابل بنانا کہ وہ اپنے ملک میں حفاظت کی مزید ذمہ داری لے سکیں، رہا ہے۔ مارچ 2003 میں ہم نے افغان قومی فوج کیلیے جونیر نان-کمیشنڈ افسران کی تربیت کا ایک انتہائی کامیاب پروگرام شروع کیا۔ اس وقت سے ہم نے اس میں کابل میں سینڈہرسٹ کے نمونے پر جونیر افسران کی تربیت اور ہیلمند میں آپریشن مینٹورنگ اور لائژن ٹیم کا اضافہ کیا۔ ابھی حال ہی میں، 6 جولائی 2011 کو وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے افغان قومی افواج - اے این اے - کیلیے کرغہ میں قائم کی جانے والی نئی افسران کی تربیتی اکیڈمی کی قیادت کے منصوبے کا اعلان کیا۔ برطانوی مسلح افواج افسران کی تربیت میں عالمگیر قائد ہیں اور انہیں افغانیوں کیلیے ہدایات کا پروگرام بنانے میں جس سے ایک پائیدار بنیاد پر باصلاحیت افغان قومی فوج کی تشکیل ہوسکے، اپنی مہارات کو استعمال کرنے کے قابل ہونے میں خوشی ہے۔

2003 کی شروعات میں، برطانیہ نے شمالی افغانستان میں مزار شریف میں اپنی پہلی صوبائی تعمیر نو کی ٹیم - پی آر ٹی-  تعینات کی اور اسی سال کے آخر میں ایک دوسری بھی ٹیم بنائی گئی۔ اس میںبیرونی اور کامن ویلتھ کا دفتر اور بین الاقوامی تعمیر کا محکمہ ڈی ایف آئی ڈی کا عملہ شامل تھا، جنکو تقریباً 100 دستوں کے ساتھ مقامی افغان حکام کے ساتھ ترقیاتی پروگراموں میں مدد کیلیے جمع کیا گیا تھا۔ برطانوی پی آر ٹی کے اہلکار صوبائی سطح کی جمہوریت کی مضبوطی کیلیے ہیلمند کے حکام کے ساتھ بھی کام کررہے ہیں اور نومبر 2008 میں ہیلمند کے پہلے قانونی امداد کے دفتر کے قیام میں بھی مدد کرچکے ہیں۔ یہ افغان صوبائی ترقیاتی کمیٹی کو قومی منصوبوں کی سمت میں انکی کوششوں کی ترجیحات بنانے میں مدد کررہے ہیں تاکہ افغان قیادت میں تعمیر نو کی کوششیں آگے بڑھ سکیں۔

افغانستان غیر قانونی منشیات کا دنیا کا سب سے بڑا فراہم کنندہ ہے، جسکی ترسیل افیون، مارفیا، اور ہیروئین کی شکل میں ہوتی ہے اور برطانیہ کی سڑکوں پر موجود ہیروئین کا 90 فیصد افغانستان سے آتا ہے۔ ڈی ایف آئی ڈی اور یو ایس ایڈ کے ساتھ، ہیلمند پی آر ٹی نے گورنر مینگل کی پہلی صوبائی انسداد منشیات کی حکمت عملی کو، جسکے تحت 32,000 کسانوں نے قانونی روزگار کی طرف جانے کے عمل کے حصے کے طور پر گندم کے بیج حاصل کیے، رقم فراہم کی۔ افغانستان کی پوست کی کاشت 2005 سے اپنی کم ترین سطح پر، اور 2007 کی اونچائی سے ایک تہائی کم ہے۔ اس قومی تخفیف کا اثر ہیلمند میں ظاہر ہے۔ اپریل 2011 تک کرمنل جسٹس ٹاسک فورس کی طرف سے گرفت میں لی جانے والی مقبوضہ جات 5.5 ٹن ہیروئن، 385 کلوگرام مارفیا، 26 ٹن افیون، 89 ٹن حشیش، اور 74 ٹن ابتدائی کیمیاوی مواد تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ تمام کامیابیاں چیلنج کے تناظر میں دیکھی جانی چاہئیں، اور دوسرے منشیات پیدا کرنے والے ممالک کا تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ صحیح معنوں میں ترقی کو قائم کرنے میں 20 سال یا اس سے زائد لگ سکتے ہیں۔

6 جولائی کو وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ برطانیہ فروری 2012 تک 426 برطانوی فوجی ملازمین کو واپس بلا لے گا اور یہ کہ برطانیہ اس پوزیشن میں ہوگا کہ اپنی افواج کی سطح کو 2012 کے اختتام تک مزید 500 کی کمی کے ساتھ، 9500 سے 9000 تک لاسکے۔ یہ کمی اس ترقی کو ظاہر کرتی ہے جو کہ افغان قومی حفاظتی افواج کو بنانے میں ہو رہی ہے، اور اس عمل کی ابتدا کی نشاندہی کرتی ہے جو کہ یقینی بنائے گا کہ 2014 کے اختتام تک وہاں برطانوی افواج کی اس طرح کی تعداد جیسی کوئی چیز نہیں ہوگی جو کہ وہاں اس وقت ہے اور وہ جنگی کردار میں خدمت نہیں کررہے ہونگے، اگرچیکہ برطانیہ مستقل عسکری تعلقات جاری رکھے گا۔

20 جولائی 2011 کو برطانوی دستوں نے ہیلمند صوبے کے دارالخلافہ لشکر گڑھ میں افغان افواج کو باقاعدہ طور پر حفاظت کی اہم ذمہ داری سونپ دی۔ یہ تبدیلی کے ایک عمل میں جو 2014 اور اس کے بعد تک جاری رہے گا، ایک نمایاں سنگ میل ہے۔ لشکر گڑھ پورے افغانستان میں ان سات ضلعوں میں چوتھا ہے جہاں حفاظتی ذمہ داری بتدریج ایساف افواج سے انکے افغان مماثل پر منتقل ہورہی ہے۔ برطانوی افواج بقیہ مرکزی ہیلمند میں رکیں گی جہاں وہ افغان قومی حفاظتی افواج  - اے این ایس ایف - کی صلاحیتوں اور استعداد کی تعمیر جاری رکھیں گی۔ برطانیہ افغانستان کے عوام سے طویل المدتی اتحاد کے وعدے پر کاربند ہے۔

عراق

برطانوی جنگی افواج جولائی 2009 میں عراق سے واپس آئیں۔ برطانیہ/عراق تربیتی اور بحری مدد کے معاہدے کے تحت جو نومبر 2009 میں عمل میں آیا، رائل نیوی نے عراقی نیوی کو اپنی بحری حدود اور ساحل سے دور تیل کے بنیادی ڈھانچوں، جن پر کہ قومی معیشت کا استحکام انتہائی منحصر ہے، کی حفاظت کی تربیت دینے میں ایک کردار کی ادائیگی جاری رکھی۔ رائل نیوی نے تربیت اور بحری حفاظت کے مشن میں اپنا تعاون مئی 2011 میں مکمل کرلیا۔ برطانیہ عراق میں نیٹو تربیتی مہم کی مدد دوسرے بڑے تعاون کار کے طور پر افسران کی تعلیم و تربیت کی قیادت، جس میں واپس برطانیہ میں افسر کی تربیت کی پیشکش شامل ہے، کرتے ہوئے جاری رکھے گا۔ اس سے بغداد میں برطانوی سفارتخانے میں دفاع کی موجودگی کے ساتھ ہمارا عراق کے ساتھ مضبوط دفاعی تعلقات کا حصہ تعمیر ہوگا۔ ان کوششوں کے ساتھ برطانیہ ایک مستحکم عراق کیلیے تعاون کررہا ہے، جو کہ اپنے لوگوں اور علاقے کی حفاظتی ضروریات کو پورا کرسکے۔

عراق میں برطانوی موجودگی کی تاریخ

2003 میں حملے کی وجوہات کے بارے میں جو کچھ بھی بحث چل رہی ہو، جو کچھ بھی اس دوران اتحادی غلطیاں ہوئیں، ایک بات ہم صاف سمجھ سکتے ہیں: برطانوی مسلح افواج نے عراق کی آمریت اور علاقائی گروہ بندیوں سے تیزی سے بڑھنے والی جمہوریت اور تعمیراتی شراکت داری تک پہنچنے میں ایک غیر معمولی تعاون کیا ہے۔ 100,000 سے زائد برطانوی ملاح، میرینز، سپاہی، اور ہوا باز اور محکمہ دفاع کے شہری ملازمین، جو کہ علاقے میں خدمات انجام دے چکے ہیں، انکے خاندان میں سے ہر ایک انکے کردار پر فخر کر سکتا ہے جو انھوں نے جنوبی عراق، اور خصوصا انکی حفاظتی افواج کو، اس مقام تک لانے میں مدد کرتے ہوئے ادا کیا ہے۔

افسوس، کہ کچھ، جنہوں نے اس کامیابی میں عظیم ترین تعاون کیا، آج یہاں نہیں ہیں۔ 178 برطانوی فوج کے ملازمین اور محکمہ دفاع کے ایک شہری ملازم اس مہم کے دوران اپنی جانیں دے چکے ہیں، اور بہت سے اور شدید زخمی ہو چکے ہیں۔ ہر نقصان ایک المیہ ہے، مگر وہ قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں۔ انہوں نے عراق کو عراقی عوام کیلیے ایک بہتر جگہ بنانے میں مدد کی ہے اور اسکے نتیجے میں برطانیہ، اسکے شہریوں اور انکے نفادات کی حفاظت کی ہے۔

بڑے جنگی آپریشنز کے دوران مارچ/ اپریل 2003 اپنی اونچی ترین سطح پر یہاں پر آپریشن ٹی ای ایل آئی سی کی مدد کیلیے 46,000 فوجی تعینات تھے۔

اتحاد 600,000 سے زائد عراقی حفاظتی افواج کی تربیت اور انکو ساز و سامان سے لیس کرچکا ہے۔

عراق میں بحریہ کی تربیت کی تاریخ

مئی 2011 تک برطانیہ/عراق تربیت اور بحری مدد کے معاہدے - آئی ٹی ایم ایس اے-  کے تحت رائل نیوی کے تربیت دہندگان نے عراقی بحری حفاظتی افواج کی،  انکی بحری حدود اور ساحل سے دور تیل کی تنصیبات، جو کہ عراقی معیشت کی بحالی کیلیے انتہائی اہم ہیں، کی حفاظت کی صلاحیت کی تعمیر کی اہم ذمہ داری کا بیڑہ اٹھایا۔ برطانوی افواج اس کام میں امریکی افواج کے ساتھ 2003 سے شامل رہی ہیں۔

آئی ٹی ایم ایس اے کے حصے کے طور پر، ایک چھوٹی آرمی اور رائل ایر فورس کے ساتھ 69 رائل نیوی اور رائل میرین کے عملے کی موجودگی، امریکی نیوی، کوسٹ گارڈ، اور میرین کورپس کے ساتھ عراقی تربیت اور مشاورتی مہم-نیوی ام قصر، آئی تی اے ایم –این یو کیو کے حصے کے طور پرعراقی بحریہ کو تربیت دینے کیلیے شامل ہوگئی ہے۔

پچھلے دو سال سے آئی ٹی اے ایم – این کے تربیت دہندگان اپنے عراقی مماثلوں کے ساتھ کام کرچکے ہیں، تعلقات کی تعمیر کرتے ہوئے اور اس بات کو یقینی بنانے کیلیے کام کرتے ہوئے کہ 2012 تک عراقی نیوی اور میرینز عراقی بندرگاہوں، سمندری حدود اور بحری بنیادی ڈھانچوں کی پوری ذمہ داری سنبھالنے کے لائق ہو جائیں، اس میں عراق کے دو  ساحل سے دور بڑی تیل کی تنصیبات شامل ہیں جو ملکی آمدنی کا 85 فیصد پیدا کرتی ہیں۔

50 مختلف کورسز میں کل 1800 عراقی افراد کو تربیت دی جاچکی ہے جس میں بحری مہارات، چھوٹے ہتھیار، تیل کی تنصیبات کا دفاع، اور دیکھ بھال کی تربیت شامل ہے۔ ایک ”تربیت اور تربیت دہندہ ” کی توجہ نے عراقی نیوی کے مستقبل میں ایک خود مختار اور خود سے قائم رہنے والی فوج کی تعمیر کی صلاحیت کو مہمیز دی ہے۔

بحری قزاقی کا رد

رائل نیوی ہارن آف افریقہ کے ارد گرد بین الاقوامی بحری قزاقی کے رد کے آپریشنز میں، اہم بحری جہازوں، خطرے میں گھرے ہوئے جہازوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ان جہازوں کی مدد کو پہنچتے ہوئے جن پر حملہ ہو چکا ہے، عملی طور پر حصہ لے رہی ہے۔ اسکے تمام اقدام بین الاقوامی قوانین کے موافق ہیں۔

بحری قزاقی پر برطانوی حکومت کا رد عمل تین محکموں کے درمیان منقسم ہوتا ہے۔ بیرونی اور کامن ویلتھ آفس بین الاقوامی مربوطی اور تعاون اور اسکے ساتھ ساتھ بحر ہند اور خلیج عدن میں ممالک سے مذاکرات کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے کیلیے کہ مشتبہ بحری قزاقوں پر کافی شواہد کی موجودگی میں مقدمہ چلایا جائے؛ محکمہ مواصلات بحری جہازوں کی صنعت سے ایک ربطہ ہےاور ان معیارات کو طے کرتا ہے جن پر برطانوی جہازوں کو ؛ اور وزارت دفاع کوعمل کرنا ہوتا ہے۔

وزارت دفاع سارے علاقے میں بحری قزاقی کے رد کیلیے آپریشنز میں عملی طور پر تعاون کررہا ہے۔ ہم بنیادی طور پر یہ تین مربوط بحری قزاقی کے آپریشنز – یوروپین یونین کے آپریشن اٹلانٹا، نیٹو کے آپریشن اوشین شیلڈ اور امریکی قیادت میں مجموعی بحری افواج کی مدد کرتے ہوئے بحر ہند اور خلیج عدن میں بین الاقوامی بحری قزاقی کے رد کے گشتوں میں رائل نیوی کے جہاز دے کر کرتے ہیں۔ اس وقت ہمارے متعدد جہاز علاقے میں ہیں جو بحری قزاقی کی رد کی سرگرمیوں کی ذمہ داری اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

برطانیہ قابل ذکر طور پر یوروپین ہونین کے آپریشن اٹلانٹا کیلیے سب سے اہم ملک ہے، جس کیلیے ہم آپریشن کی کمان مہیا کرتے ہیں اور نارتھ ووڈ، لندن میں آپریشن کے مرکزی دفاتر ای یو  این اے وی ایف او آر  کا اہتمام کرتے ہیں۔

ہم دبئی میں برطانوی بحری تجارتی تنظیم بھی چلاتے ہیں، جو جہازوں کی نقل وحرکت کا ریکارڈ رکھتے ہوئے اور بحری قزاقی کے حملے کی صورت میں ایک مربوط فوجی رد عمل کے ذریعے خطرناک پانیوں سے گذرتے ہوئے تجارتی جہازوں کی مدد کرتی ہے۔ وہ بحری تجارتی جہازوں کیلیے بہترین عمل پر ہدایات بھی تیار کرتے ہیں، جیسے کہ اچھی طرح سے ہوشیار رہنا، تجویز کردہ راستوں پر چلنا، اپنے سفر کا اندراج کرانا، اور ایک محفوظ مقام رکھنا جہاں جہاز کا عملہ بحری قزاقوں کے حملے کی صورت میں پناہ لے سکے اور محفوظ رہ سکے۔

بحری قزاقی کا مسئلہ گمبھیر ہے، کیونکہ سمندر جس میں جہاز سفر کرتے ہیں، بہت وسیع ہے – سمندروں کے سیکڑوں مربع میل ایک علاقہ جو یورپ سے دگنے حجم کا ہے اور اس پورے علاقے کو ہر وقت نظر میں رکھنا ناممکن ہے کیونکہ اس میں ہزاروں جہازوں کی ضرورت ہوگی۔ اس وجہ سے بحری قزاقی سے نمٹنا ایک بین الاقوامی کوشش ہےاور اس وقت یہاں 25 سے زائد اقوام بحری قزاقی کے رد کے آپریشن میں شامل ہیں۔ اس بے مثال سطح کے بین الاقوامی تعاون اور مربوطی کے ساتھ بین الاقوامی برادری وہ سب کچھ کررہی ہے جو اس خطرے کو کم کرنے کیلیے کیا جاسکتا ہے۔

عسکری رد عمل، بہر حال، ایک بڑی مہم کا صرف ایک حصہ ہے، کیونکہ یہاں بحری قزاقی کے مسئلے کا کو ئی بھی خالص عسکری حل موجود نہیں ہے ـبرطانوی حکومت مسئلے کیلیے بین الاقوامی پہنچ کی مدد جاری رکھے ہوئے ہے جس کی نظر تمام پہلوؤں پر ہے جس میں انسانی بنیادوں پر صورتحال اور صومالیہ کے معاشی استحکام، مقامی کوسٹ گارڈز کی ممکنہ بحری قزاقی کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی تربیت، اور وہ تمام راستے تلاش کرنے جن سے بحری قزاقوں کے خلاف مضبوط قانونی اقدامات کو یقینی بنانے کی کوششیں شامل ہیں۔ ہم نے اس بات کو یقینی بنانے پر اپنی توجہ مرکوز رکھی ہوئی ہے کہ بین الاقوامی برادری جہازی اور انشورنس کی صنعتوں اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ ملکر اس مسئلے سے نمٹنے کیلیے کام کرے۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 19 times

فیس بُک پر دوست
33,143+