صفحہ اول | مرکزی کمان کے متعلق | اتحادی ممالک | سپین
سپین
flag_spanish.jpg

سپین

سپین کی سیکیوریٹی فورسز نے انسداد دہشت گردی کے لیۓ دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر بہت سی کاروائیوں کو فروغ دیا ہے جن میں بہت سے دہشت گرد پکڑے گۓ، روک دیۓ گۓ یا قانون کے حوالے کیۓ گۓ۔

پس منظر

سپینش مسلح فورسز شروع سے ہی افغان تنازعے میں شامل رہی ہیں، ابتدائی طور پر کاروائی دیرپا آزادی کے ڈھانچے میں شامل ہوتے ہوۓ سپینش مسلح فورسز نے امریکی مرکزی کمان (ٹیمپا) میں نومبر 2011 میں رابطہ ٹیم قائم کی، مناس (کرغستان) میں تین طیارے بھیجے، مناس (کرغستان) میں تین طیارے بھیجے، بگرام میں کیمپین ہسپتال بنایا اور اس کے ساتھ ساتھ بحیرہ ہند میں فریگیٹ اور فضائی نگرانی کے لیۓ افریکہ کے ہارن میں بحری جہاز بھیجا اور یہ سب بہت کم عرصے کے دوران کیا گیا۔

جب نیٹو کا ایساف مشن شروع ہوا تو سپینش مسلح فورسز ایساف میں اضافے کے پہلے مرحلے میں ابتدا ہی سے شامل تھیں اور شروع میں انھوں نے اپنے فوجی کابل اور افغانستان کے شمال میں بھیجے۔

18 مئی، 2011 کو سپین نے مغرب میں اضافے کے تیسرے مرحلے کی قیادت کی اور ہرات میں نئی عارضی بیس [ایف ایس بی] کی قیادت سنبھالی۔ ایف ایس بی ان چار صوبائِ تعمیراتی ٹیموں [پی آر ٹی] کو نظامیہ کی فراہمین میں مدد کرتی ہے جو کہ افغانستان کے مغربی صوبوں چنگچران، ہرات، فراح اور بغدیس میں بھیجی گئی ہیں اور جن کی قیادت لیتھوینیا، اٹلی، امریکہ اور سپین نے سنبھالی ہوئی ہے۔

سپین کی موجودہ شراکت

سپین کی بین الاقوامی سیکیوریٹی امدادی فورس [ایساف] میں موجودہ شراکت ایساف کے صدر دفتر اور  بین الاقوامی امدادی کمیشن (آئی جے سی) کے صدر دفتر پر مرکوز ہے جس کے لیۓ اس کے بہت سے عملے کے افسران اور سپورٹ اہلکار اور خطے کی مشرقی کمان [آر سی - مشرق] میں مصروف عمل ہیں۔

آر سی – مشرق میں جن دو اہم عناصر کی قیادت سپین کے سر ہے ان میں ہرات میں ایف ایس بی [عارضی آپریٹنگ بیس] اور صوبہ بغدیس کے دارالخلافہ قلعہ نوا میں  پی آر ٹی صوبائی تعمیراتی ٹیم شامل ہیں۔

ایف ایس بی میں مہیا کی جانے والی مہارتوں اور سہولتوں میں شامل:

-          رہنما کی حیثیت سے، سپین بیس اور لینڈنگ کی پٹی کی دیکھ بھال کا ذمہ دار ہے۔

-          ایک رول 2 کی سطح کی طبی سہولت جس میں ایک انتہائی نگہداشت کا یونٹ اور دو کاروائیوں کے کمرے، ہسپتال میں داخلہ اور ابتدائی مدد کی خدمات، تجزیاتی کلینک، ریڈیالوجی، دانوں کا شعبہ، نفسیات، شعبہ حیوانات اور فارمیسی کے شعبے شامل ہیں۔ اس میں فضائی طبی منتقلی اور خون کے ذخیرے کے وسائل بھی شامل ہیں۔

-          ایک درمیانے سائز کا کارگو جہاز [سی-130] جو کہ دونوں سامان اور لوگوں کی منتقلی میں استعمال ہوتا ہے۔

-          نگرانی مشن کے لیۓ ڈردون ٹیم۔

-          تین میڈ ای ویک ہیلی کاپٹر اور تین نقل و حمل کے ہیلی کاپٹر۔

-          ایک آرٹلری موبائل تعلیماتی تربیتی ٹیم۔

صوبہ بغدیس میں سپین کی بھیجی گۓ:

-          افغان قومی فوج [اے این اے] کور کے اندر پانچ کاروائیوں کے مشاورتی ٹیمیں (او ایم ایل ٹی)۔

-           قیو آئی این میں ایک بٹالین۔

-          دو پولیس کاروائیوں کی مشاورتی اینڈ لیۓزان ٹیمیں - پی او ایم ایل ٹی۔

کل بھیجی گئی افرادی قوت کی تعداد تقریبا" 1،490 ہے۔

افغانستان کی تعمیر نو میں سپین کی مدد

قلعہ نو میں تعمیر نو کی کوششیں سپین کی پی آر ٹی کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔ پی آر ٹی کا بنیادی کردار افغان حکومت کے ڈھانچے کی ترقی میں مدد دینا، تمام تر صوبہ بغدیس میں حکومت کے کنٹرول کو بڑھانا اور تعمیر نو اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر مدد کی کوششوں میں ہاتھ بٹانا ہے۔ اس کا شہری جزو تعمیرنو کے کاموں کا براہ راست ذمہ دار ہے۔ سپین کی پی آر ٹی (صوبائِ تعمیر نو کی ٹیم) کا فوجی جزو حکومتی کوششوں میں مدد اور ان کو سیکیوریٹی فراہم کرتا ہے۔

پی آر ٹی میں ایک حفاظتی یونٹ، مسلح سروس سپورٹ یونٹ، سگنل یونٹ اور تعمیر سپورٹ یونٹ شامل ہوتا ہے۔ سپین قلعہ نو کے ہوائی اڈے کی لینڈنگ کی پٹی دیکھ بھال اور فضائی بحری گیشن میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔

06-2005 کے عرصے کے دوران پانچ اہم منصوبوں کا بیڑا اٹھایا گیا اور ان کو ختم کیا گیا تھا جس میں 10 ملین یورو کا خرچہ آیا تھا۔ قلعہ نو میں دو کلومیٹر لمبی اور25 میٹر چوڑی فضائی پٹی والی ائیر فیلڈ تعمیر کی گئی، سبزک تک 30 کلومیٹر لمبی سڑک اور پل کی تعمیر شامل ہیں۔  قلعہ نو میں مرمتوں اور بہتر بنانے کے کاموں میں ہسپتال کی سہولتوں میں اضافہ، پانی کی سپلائی اور نکاس کے راستے اور سڑکوں کے عام نیٹ ورک کی مرمت شامل تھیں۔

بہت سے فوری اثر کے منصوبوں پر بھی کام کیا گیا۔ لندن سمٹ [فروری 06] میں سپین نے 2010-2006 کے عرصے کے دوران کے لیۓ مزید 150 ملین یورو کی سرمایہ کاری کا عہد کیا۔

دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی لڑائی

سپین دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اپنی مدد جاری رکھے ہوۓ ہے۔ سپین نے 30 سال سے ذیادہ کے عرصے تک سے 11 مئی کو میڈریڈ میں اور 11 ستمبر کو نیو یارک میں ہونے والے دھماکوں سے کہیں پہلے سے دہشت گردی کے خلاف لڑائی لڑی ہے۔ 11 ستمبر کے حملے کے بعد سپین دہشت گردوں کو ہر میدان میں شکست دینے کی  بین الاقوامی کوششوں اور اس کے ساتھ ساتھ سفارتی، سکیوریٹی اور فوجی کوششوں میں بھی سرفہرست تھا۔

سپین کی ملٹری ویب سائٹس

وزارت دفاع
آرمی
نیوی
ائیرفورس

کارآمد لنکس

سپین میں سیاحت
خارجی امور
سپین کی حبریں

سپین نیٹ پر

title Filter     عدد دکھائیے 
عدد Item Title
 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 19 times

فیس بُک پر دوست
33,143+