صفحہ اول | خبریں | خبریں | امریکی مرکزی کمان نے افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر ہونے والے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا
امریکی مرکزی کمان نے افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر ہونے والے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا

منجانب: امریکی مرکزی کمان عوامی امور

میکڈل فضائیہ بیس، فلوریڈا [نومبر 28، 2011] – امریکی مرکزی کمان کے کمانڈر جنرل جیمز میٹس نے نومبر 25 کو افغانستان کے صوبہ کنار اور پاکستانی سرحد کے اندر مہمند ایجنسی میں ہونے والے واقعے جس میں پاکستانی فوجی اہلکار مارے گئے تھے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

جنرل میٹس نے ہرلبرٹ فیلڈ فلوریڈا میں برگیڈئیر جنرل سٹیون کلارک جو کہ فضائیہ کی خصوصی کاروائیوں کے کمانڈر ہیں کو تحقیقاتی اہلکار کے طور پر منتخب کیا۔ یہ تفتیش سینٹکام کی قیادت اور نیٹو کی تحقیقی ٹیم کی مدد اور حمایت سے ہو گی۔

مزید برآں، تحقیقاتی ٹیم کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بین الاقوامی سیکیورٹی امدادی فورس کی معلومات کو تحقیق میں شامل کریں، اسلامی جمہوریہ افغانستان اور پاکستان کی حکومت کو بھی شمولیت کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ مرکزی کمان کا ان حکومتی اہلکاروں کو شامل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ جس حد تک ممکن ہو اس واقعے کے تمام اطراف کو سمجھ سکیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات رونما ہونے سے روکے جا سکیں۔

تحقیقاتی ٹیم اس واقعے کے متعلق تمام حقائق اور ایسی معلومات کو مدنظر رکھے گی اور ان پر غور کرے گی جس سے اس واقعے جس میں پاکستانی فورسز کی اموات واقع ہوئیں اور وہ زخمی ہوئے، کے ارد گرد کے حالات کو اچھی طرح سمجھا جا سکے۔

جنرل میٹس نے احکام جاری کیے کہ تحقیقات کی ابتدائی رپورٹ کو دسمبر23، 2011 تک فراہم کیا جائے۔

امریکی تحقیقاتی افسر سے درخواست کا خط یہاں پر پائیے۔

رجوع: امریکی مرکزی کمان عوامی امور

یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے

813-529-0218

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
33,151+