| متحدہ عرب امارات اور امریکہ کے مرکزی کمان کی انسداد ڈبلیو-ایم-ڈی مشق |
منجانب , U.S. Central Command
ابوظہبی، متحدہ عرب امارات (6 فروری، 2013)متحدہ عرب امارات - متحدہ عرب امارات اور امریکہ کے آپریشنل ماہر گروپ کے اراکین اور دیگر بین الاقوامی پی-ایس-آئی شراکت داروں کے ساتھ 27 جنوری سے 7 فروری تک ایک کثیر جہتی پھیلاؤ سکیورٹی سرگرمی کی ابو ظہبی میں مشق کی میزبانی کر رہے ہیں -
ابوظہبی، متحدہ عرب امارات (6 فروری، 2013)متحدہ عرب امارات - متحدہ عرب امارات اور امریکہ کے آپریشنل ماہر گروپ کے اراکین اور دیگر بین الاقوامی پی-ایس-آئی شراکت داروں کے ساتھ 27 جنوری سے 7 فروری تک ایک کثیر جہتی پھیلاؤ سکیورٹی سرگرمی کی ابو ظہبی میں مشق کی میزبانی کر رہے ہیں - معروف زاویے کے نام سے جانی جانے والی، اس مشق کا مقصد ممالک کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (ڈبلیو-ایم-ڈی) کے اہم عناصر پر پابندی کے عمل پر توجہ مرکوز کرنے کا ایک موقع فراہم کرنا ہے۔ مشق میں فورمز اور ورکشاپیں شامل ہیں تاکہ ڈبلیو-ایم-ڈی پر پابندی کی حکمت عملی، ٹیکنالوجی، اور طریقہ کار (ٹی-ٹی-پی-ایس) میں بہتری پر تبادلہ خیال اور متعلقہ چیلنجوں کے بارے میں مشورہ شامل تھے۔ انٹرآپریبلٹی کی ترقی کے لئے فیلڈ تربیتی مشقوں کے ذریعے، کچھ حصہ لینے والے ممالک ڈبلیو-ایم-ڈی اور ڈبلیو-ایم-ڈی متعلقہ مواد کے پھیلاؤ کو روکنےکے لیے علاقائی/بین الاقوامی حل کا مظاہرے کریں گے فوجوں کے درمیان لڑائی، اور اتحادیوں کے سامان سے مانوسیت، طیاروں اور بحری جہازوں کا استعمال کرتے ہوۓ۔ 29 سے زائد ممالک سے تقریباً 450 لوگ اس معروف زاویے مشق میں شرکت کریں گے، جس کا اس سے پہلے دو مرتبہ اکتوبر 2006 اور جنوری 2010 ء میں انعقاد کیا گیا ہے۔ معزز مائیکل ایچ کوربن، متحدہ عرب امارات میں امریکہ کے سفیر، جنہوں نے افتتاحی تقریب کے دوران شرکاء کا خیر مقدم کیا، نے کہا کہ"یہ بہت مناسب ہے کہ پھیلاؤ سیکورٹی سرگرمی مشق یہاں منعقد کی جا رہی ہے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات میں دنیا کے لئے ایک سنگم ہے۔" میجر جنرل رابرٹ جی کیٹالانوٹی، مشق ڈائریکٹر امریکی مرکزی کمان کے کمانڈر نے کہا کہ" ہم متحدہ عرب امارات کے پھیلاؤ کی سیکیوریٹی میں طویل المدتی عالمی قیادت کے لئے اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے مواد متعدد ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیۓ تسلیم کرتے ہیں" ۔ "امریکی حکومت کی جانب سے، میں تمام توثیق کرنے والے تمام 102 ممالک کی بھی تعریف کرتا ہوں، اور ہم ممالک غیر-توثیقی ممالک کی پھیلاؤ سیکورٹی سرگرمی کی کمیونٹی میں شامل ہونے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔" پی-ایس-آئی کا آغاز 2003 میں عالمی تعاون کی کوشش کے طور پر کیا گيا تھا جس کا مقصد وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے ترسیل، ان کی کو چلانے کے نظام اور ان سے متعلقہ مواد کو روکنا ہے۔ اس کے قیام سے لے کر اب تک 100 سے زائد ملکوں نے پی-ایس-آئی کے حکم امتناعی کے اصولوں کی توثیق کی ہے۔ پولینڈ اگلے موقعے کی میزبانی کرے گا، جس کا انعقاد مئی 2013 میں پی-ایس-آئی کی 10 ویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے۔
|
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















