| مشورے کے بعد دو قیدیوں کی رہائی |
|
منجانب Master Sgt. Adam M. Stump, Combined Joint Interagency Task Force 435 صوبہ لوگر، افغانستان 14 نومبر 2010 ۔۔۔۔ 13 نومبر کو قیدیوں کی رہائی کے متعلق مشورے کے بعد دو افغان قیدیوں کو ان کے گائوں میں واپس بھیج دیا گیا۔ قیدیوں کی رہائی کے لیے افغان حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے پروگرام جس کا آغاز جنوری 2010 میں کیا گیا تھا کے تحت قیدیوں کی افغان معاشرے میں واپسی پر زور دیا جا رہا ہے۔ پروگرام کے آغاز سے اب تک رہائی کے 50 مشوروں کے بعد 260 قیدی رہا کیے جا چکے ہیں۔ پروان (Parwan) میں واقع قید خانے سے رہا کیے جانے والے قیدیوں کو ضلع محمد آغا میں قبائلی عمائدین کے حوالے کیا گیا۔ افغان قومی فوج کے میجر جنرل اور مشترکہ انٹر ایجنسی ٹاسک فورس 435 کے افغان کمانڈر مرجان شجاع نے اس موقع پر کہا کہ میں رہائی پانے والے ان دو بھائیوں کو دوبارہ اپنے علاقے میں لوٹنے اور بحالی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میں انہیں مبارک دیتا ہوں کہ انہیں رہائی نصیب ہوئی اور دعا گو ہوں کہ خُدا انہیں ہمیشہ سیدھے راستے پر رکھے۔ قبائلی عمائدین میں سے ایک نے اپنے خطاب کے دوران قیدیوں کو رہا اور اپنے گائوں میں واپس جانے کی اجازت دینے پر اتحادی اور افغان فوج کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں یہاں مدعو کیے جانے پر اور بالخصوص اتحادی افواج کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہم اپنے بیٹوں سے محبت کرتے ہیں اور افغان قومی فوج کی کوششوں کو بھی سراہتے ہیں۔ یہ لوگ ہماری مدد کر رہے ہیں اور عوام سے بھی دوستانہ سلوک کرتے ہیں۔ قبائلی سردار نے یہ بھی کہا کہ مقامی آبادی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ افغان اور صوبائی سرحدوں کو محفوظ رکھیں اور افغان حکومت کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ داخلہ اور وزارتِ دفاع کی مدد کریں۔ اگر ہم مشکوک سرگرمیوں کے خلاف ان کی مدد نہیں کر سکتے تو کم از کم انہیں خبردار ہی کریں، ہمیں ان کی مدد کرنی ہے۔ مشورے کے دوران مقامی قائدین نے ضمانتوں کے معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت وہ رہا شدہ افراد کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں گے اور سماج میں شمولیت پر ان کی مدد کریں گے۔ قید خانوں کا انتظام افغانستان کو منتقل کرنے کے لیےCJIATF-435 کی کوششوں میں جنرل مرجان اور ان کا عملہ مل کر کام کر رہے ہیں۔ یہ مشروط منتقلی 9 جنوری 2010 کو ہونے والے اس معاہدے کے مطابق ہے جس پر افغانستان کی وزارتِ دفاع، وزارتِ انصاف، سپریم کورٹ، اٹارنی جنرل، نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی، ہائی آفس آف اوورسائٹ اور وزارتِ داخلہ نے دستخط کیے۔ DFIP پروان میں بگرام فضائیہ فیلڈ سے کئی کلومیٹر دور واقع جدید ترین انٹرنمنٹ فسیلیٹی ہے جسے ستمبر 2009 میں مکمل کیا گیا اور دسمبر 2009 میں یہاں قیدی منتقل کیے گئے تھے۔ DFIP کے ڈیزائن میں قیدیوں کی بحالی کی کوششوں کو مدِ نظر رکھا گیا ہے اور CJIATF-435 اسکو اس قابل بناتا ہے کہ وہ گرفتاری ورہائی کی سرگرمیوں کو افغانستان میں انتہا پسندی کو شکست دینے کی سرگرمیوں سے ہم آہنگ کر سکیں۔ DFIP افغانستان میں اس وقت اور 2011 میں جب یہ عمارت افغان حکومت کے حوالے کر دی جائے گی اس کے بعد بھی سکیورٹی، شفافیت اور قانون کی حکمرانی کے لیے کام کرے گی۔ DFIP قیدیوں کو محفوظ اور انسانی ماحول میں رکھنے اور اہل قیدیوں کو گروپ کی شکل دینے میں مختلف سرگرمیوں، تعلیم اور تربیتی پروگراموں میں شرکت کی اجازت دیتی ہے۔ قیدخانے میں جدید ترین طبی سہولیات، اہل خانہ سے ملاقات کے لیے جگہ، ویڈیو ٹیلی کانفرنسنگ، وسیع تفریحی مقام، ووکیشنل ٹریننگ اور تعلیمی کلاس رومز اور قانونی کارروائی کے لیے اضافی علیحدہ جگہ کی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















