| طالبان نے تخویف کی کوششوں میں وسعت کر دی |
منجانب , ISAF Joint Command شئیرمتعلقہ خبریںکابل، افغانستان (28 جولائی) - ایساف کے مفصل ریکارڈوں اور خفیہ ایجنسی کی رپورٹوں کے مطابق، حالیہ ہفتوں میں طالبان کے افغان عوام کو دھمکانے اور ان سے ظالمانہ سلوک کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ افغان قومی حفاظتی فورسز بین الااقوامی فورسز کے ساتھ مل کر کیۓ جانے والی کاروائیاں باغیوں کو ان کی کاروائیوں میں کسی اہم کامیابی سے روکے ہوۓ ہیں۔ ایساف کا اطلاعتی نظام اور کاروائیوں کی رپورٹیں ہمیں باغیوں کی ظالمانہ اور تخویفی کاروئیوں کی روش کے بارے میں مفصل اطلاعات فراہم کرتیں ہیں۔ فوجی جنرل بریگیڈیئر جوزف بلاٹز، بین الااقوامی سیکیوریٹی امدادی فورس کے نمائندے نے کہا کہ بہت سے حالیہ واقعات یہ واضع کرتے ہیں کہ طالبان افغان شہریوں کے بارے میں پروا بلکل نہیں کرتے اور ان کے افعال یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ دوبارہ حکومت میں آنے کے لیۓ کسی کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ 23 جولائی کو طالبان باغیوں نے خوست کی مندوزئی تحصیل میں ایک مسجد پر بم سے حملہ کر کے 19 افغان شہریوں کو زخمی اور ایک پارلیمنانی امیدوار کو ہلاک کر دیا جو کہ آئندہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لیے اپنی امیدواری کا اعلان کرنے ہی والے تھے۔ حال ہی میں طالبان باغیوں نے غوراند تحصیل کے اٹارنی جنرل اور ہرات صوبے کے پارلیمانی امیدوار ارباب محمد کو اغوا کیا۔ پچھلے ہفتے باغیوں نے اوروزگان صوبے کی خاص اوروزگان تحصیل کے رہنما اور خواجہ ذال قبائلی لیڈر کونسل کے ممبر کو قتل کر دیا۔ طالبان نے قنداھار کے آس پاس کے 50 قبائلی قائدین کو "خطوط" لکھے جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے گھر بار چھوڑ کر پاکستان چلے جائیں ورنہ طالبان جنگجوں کی طرف سے انہیں متشدد نتائج کا سامنا کرنے پڑے گا۔ جنرل بولٹز نے کہا کہ طالبان کی جاری کردہ قتل اور تخویف کی اس مہم کے حصے کے طور پر ایساف کو معلوم ہوا ہے کہ طالبان کی اعلی' قیادت نے تمام افغانستان کے مختلف علاقوں میں بہت سے قبائلی معززین اور منتخب شدہ حکومتی عہدیداروں کے قتل کا حکم دیا ہے۔ افغانیوں کی روائیتی قیادت جس کا لوگ بہت احترام کرتے ہیں اِس پر حملہ کرنے سے طالبان نہ صرف اپنی ظالمانہ فطرت کا مظاہرہ کرتے ہیں بلکہ افغانی روائیتوں اور افغانیوں کی خواہشات کو بھی جُھٹلاتے ہیں۔ حال ہی میں پکڑے جانے والے ملا عمر نے طالبان ممبران کو ہدایات کے پیغام میں یہ کہا کہ جو بھی افغان اتحادی فوجوں کے لیۓ کام کرتا ہو یا ان کی مدد کرتا ہو یا اسلامی جمہوریہ افغانستان کے لیۓ کام کرتا ہو اس کو پکڑ کر مار دیا جاۓ۔ اس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی ایسی افغان عورت جو کہ اتحادی فوجوں یا حکومت کی مدد کرتی ہو یا ان تک اطلاعات پہنچاتی ہو اِسے بھی مار دیا جاۓ۔ ایساف کے جولائی 2010 کے ریکارڈوں کے مطابق طالبان باغی کم از کم 95 شہریوں کی ہلاکت اور 235 لوگوں کے زخمی ہونے کے ذمہ دار ہیں۔ 18 جولائی کو باغیوں نے شمالی زابل صوبے میں افغان مردوں عورتوں اور بچوں کے ایک بڑے گروہ پر جو کہ معمول کے طبی معائینے کے انتظار میں کھڑے تھے ایک چھوٹی توپ چلا کر کافی لوگوں کو مار ڈالا اور متعدد لوگوں کو زخمی کردیا۔ بریگیڈئیرجنرل بولٹز نے کہا کہ باغیوں کی جانب سے تخویف ہمیں افغان لوگوں کی حفاظت اور مدد کی کوششوں سے نہیں روکے گی۔ حال ہی میں خاص اوروزگان کے مقامی افسروں نے علاقے میں افغان قومی پولیس کی تعداد بڑھانے کے منصوبے کی نقاب کشائی کی۔ بزرگوں نے اکٹھے ہو کران باغیوں کے خلاف انصاف کا مطالبہ کیا جو ان کے مطابق مسلمانوں کے خلاف تشدد کی کاروائیوں کے ذمہ دار ہیں۔ بریگیڈئیر جنرل بولٹز نے کہا کہ شہریوں کو خوفزدہ کرنے کی بجاۓ طالبان کی یہ قتل کی اور مجرمانہ کاروائیاں شہریوں کو اور قریب لا رہی ہیں۔ ان افسران کے اقدامات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ افغان لوگوں نے تشدد اور تخویف کو مسترد کر دیا ہے۔ باغی عام افغان شہریوں کی اپنے گاؤں اور قصبوں میں امن اور تحفظ کی خواہش کو توڑ نہیں پا رہے ہیں۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















