| قندھار میں سینئیر طالبان کمانڈر کی حملے میں ہلاکت |
منجانب , ISAF Public Affairs Office شئیرمتعلقہ خبریں
ایساف کے سرکاری معاملات کے آفسر امریکی فوج کے کرنل وین شینکس [Wayne Shanks] نے کہا کہ "صوبہ قندھار کی تحصیل زاہرے پنجوائی اور ارغنداب میں لوگوں کو باغیوں سے بچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ان میں سے ایک کاروائی کا مقصد باغیوں کے کمانڈراور صوبہ قندھار کی تحصیل داند کے حاجی امیر کو نشانہ بنانا تھا۔ امیر قندھار میں دوسرا بڑا خطرناک باغی رہنما تھا اور سرپوسا کی جیل سے 2008 میں فرار ہو گیا تھا۔
شینکس نے کہا کہ حاجی امیر کو میدان جنگ سے ہٹانے کی وجہ سے یہاں طالبان کی کاروائیوں کو شدید دھچکا لگا ہے اور وہ ہماری فورسز اور افغان عوام کو مزید زد نہیں پہنچا سکیں گے۔
حاجی امیر کا کام علاقے میں خود ساختہ دھماکہ خیز آلات کےسلسلہ کو بنانا تھا۔ حاجی امیر اور اس کے جنگجؤں کا کئی دنوں سے پیچھا کیا جا رہا تھا اور جب وہ زنگ آباد کے گاؤں میں کھیتوں کے درمیان ایک خالی مٹی کی بنی جھونپڑری میں رکے تو اتحادی فوجوں نے ہوائی حملے کا حکم دے دیا۔
طالبان لیڈر تحصیل داند، زاہرے،اور پنجوائی میں کاروائیاں کر رہے تھے۔ وہ جون 2008 میں سرپوسا کی جیل سے طالبان کی مدد سے جیل سے فرار ہو گیا تھا۔
شینکس کے مطابق امیر حال میں پاکستانی طالبان کے لیۓ آئیندہ کے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اور اپریل میں اتحادی اور افغانی فورسز کے خلاف حملوں کی رہنمائی کرنے کے لیۓ افغانستان واپس آیا تھا۔
تحصیل زاہرے میں ایک اور کارؤائی کے دوران پچھلے ہفتے ملا زرگئی قندھار شہر کا طالبان کا سب سے اہم کمانڈر، افغان-اتحادی فورسز کی کاروائی میں مارا گیا۔
زرگئی کی کاروائیوں میں خاص طور پر دھماکہ خیز آلات کی وجہ سے قندھار کی تحصیل ارغندآب اور زاہرے میں بہت سے افغان ہلاک ہوۓ۔ وہ سرکاری ملازموں اور گاؤں کے بزرگوں پر تشدد آمیز دھمکیوں، اغوا، اور قتل کی وارداتوں میں بھی ملوث تھا۔
شینکس نے کہا کہ زرگئی کی موت کو جنوبی افغانستان میں طالبان کے رہنماؤں کے لیۓ بڑا نقصان سمجھا جا رہا ہے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 























