صفحہ اول | CJIATF435 | چھ سابقہ قیدیوں کو رہائی کے بعد ان کے خاندانوں قبیلوں کے حوالے کر دیا گیا

 Combined Joint Interagency Task Force-435 

چھ سابقہ قیدیوں کو رہائی کے بعد ان کے خاندانوں قبیلوں کے حوالے کر دیا گیا
منجانب MCC (SW) Maria Yager, Combined Joint Interagency Task Force 435

صوبہ پروان، افغانستان 23 دسمبر 2010 -  22 دسمبر 2010 بدھ کو یہاں ہونے والے شوریٰ کے اجلاس میں چھ سابقہ قیدیوں کو رہائی کے بعد ان کے خاندانوں اور قبائل کے حوالے کر دیا گیا۔

مشترکہ انٹر ایجنسی ٹاسک فورس 435 کے افغان کمانڈر، افغان قومی فوج کے میجر جنرل مرجان شجاع نے تقریب کی صدارت کی اور قیدیوں کو سماج میں دوبارہ شمولیت پر خوش آمدید کہا۔

مرجان نے ایک ترجمان کی مدد سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ ہمارے یہ بھائی رہا ہوئے ہیں۔ میں انہیں مبارکباد دیتا ہوں اور ان کی کامیابی اور خوشیوں کے لیے دعا گو ہوں۔

شوریٰ کے اہم حصے کے طور پر ہر قیدی نے عدم تشدد کے معاہدے پر دستخط کیے اور وعدہ کیا کہ آئندہ دوبارہ ہتھیار نہیں اٹھائے گا اور افغان حکومت کا ساتھ دے گا۔ افغان قبائلی روایات کے مطابق قبائلی عمائدین نے بھی ضمانت کی دستاویزات پر دستخط کیے اور وعدہ کیا کہ وہ سابقہ قیدیوں کو سماج میں دوبارہ شامل ہونے کے لیے ان کی مدد کریں گے اور ان کے چال چلن کی نگرانی کریں گے۔ ضمانت کی دستاویز ایک غیر رسمی معاہدہ ہے جس کی قانونی حیثیت تو نہیں لیکن اسے مقامی روایات کے مطابق تیار کیا جاتا ہے۔

اس موقعے پر ایک قبائلی سردار، جس نے شوریٰ کے دوران سالہا سال کی افغان جنگ کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا نے کہا کہ ہم افغانوں کو اپنے ملک کی تعمیرِ نو اور اسے ان حالات سے باہر نکالنے کے لیے سخت محنت کرنا ہو گی۔ اگر آپ سے کوئی شخص کسی چیز کو تباہ کرنے کا کہے تو آپ خود سے سوال کریں کہ کیوں؟ اگر ہم اسی طرح اس ملک کو تباہ کرتے رہے تو پھر اسے بنائیں گے کیسے؟

قبائلی سردار نے شوریٰ کے شرکاء سے کہا کہ وہ خودساختہ دھماکہ خیز مواد سے دیگر حکومت مخالف سرگرمیوں کا حصہ نہ بنیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی یہاں ہمارے ملک کی تعمیرِ نو اور امن کے قیام میں ہماری مدد کے لیے آئے ہیں۔

میجر جنرل مرجان کا کہنا تھا کہ سابق قیدیوں کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ خطرناک لوگوں اور حالات سے بچیں۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں سے ہمارے تعلقات ہیں ہم ان کی سرگرمیوں سے متاثر ہوتے ہیں، اگر ہمارے رشتے بُرے لوگوں کے ساتھ ہیں تو ہم پر بھی برا اثر پڑے گا۔

سماج میں دوبارہ شمولیت کا مقصد ان افغان جنگجوئوں کو میدان جنگ سے نکالنا ہے جو تشدد ترک کر کے افغان آئین کو قبول کرنے اور عزت و تکریم کے ساتھ دوبارہ اپنے لوگوں میں واپس آنے پر تیار ہوں۔ پروان کے قید خانے میں اہل قیدیوں کو مختلف تعلیمی اور ووکیشنل کلاسوں میں شامل ہونے کا موقعہ ملتا ہے۔ ان کورسز کے ذریعے قیدی رہائی پانے پر روزگار حاصل کرنے کے امکان کو بڑھا سکتے ہیں۔ اس سے انہیں عسکریت پسندی سے دور رہنے میں فائدہ بھی نظر آتا ہے۔

ایک سابقہ قیدی نے کہا کہ وہ رہائی پانے پر ڈی ایف آئی پی میں سیکھے گئے ہنر کو استعمال کرتے ہوئے درزی بننا چاہے گا۔

جنرل نے کہا کہ آپ کے ڈی ایف آئی پی میں آنے کی ایک اور وجہ تھی، لیکن یہاں آپ کو تعلیم دی گئی ہے اور اصلاح کی گئی ہے، میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔

 اسلامی جمہوریہ افغانستان اور امریکہ کے انٹر ایجنسی اور بین الاقوامی ساتھیوں کے اشتراک سے سی جے آئی اے ٹی ایف۔435 عدالتی شعبے اور بائیو میٹرکس میں قید اور اصلاح کا کام کرتی ہے۔ بالاخر، حالات سازگار ہوئے تو، سی جے آئی اے ٹی ایف۔435 کا کنٹرول افغان حکومت کے حوالے کر دے گا جبکہ اس کے ساتھ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔

46th ملٹری پولیس کمانڈ، ٹاسک فورس پیس کیپر، سی جے آئی اے ٹی ایف-435 کا ماتحت، ڈی ایف آئی پر قیدیوں سے متعلق تمام معاملات دیکھتے ہیں۔ ٹاسک فورس پروان کے قید خانے میں قیدیوں سے انسانی سلوک، کنٹرول اور دیکھ بھال کو یقینی بناتی ہے۔ 96th ملٹری پولیس بٹالین، ٹاسک فورس سپارٹن افغان سپاہیوں کو قید خانے کے عملات کی تربیت دیتی اور ترجمان فراہم کرتی ہے کہ زبان کے فرق کے باعث مسائل پر غلبہ حاصل کیا جا سکے۔ یہ کوششیں افغان نیشنل آرمی کو اس قابل کریں گی کہ وہ اپنے امریکی ہم منصبوں سے ذمہ داری لے کر قید خانے کو خود چلا سکیں۔

ڈی ایف آئی پی پروان میں بگرام ایئر فیلڈ سے کئی کلومیٹر دور واقع جدید ترین عارضی فسیلیٹی ہے جس ستمبر 2009 میں مکمل کیا گیا اور دسمبر 2009 میں یہاں قیدی منتقل کیے گئے۔ ڈی ایف آئی پی کے ڈیزائن میں قیدیوں کی بحالی کی کوششوں کو مدِ نظر رکھا گیا ہے اور سی جے آئی اے ٹی ایف۔435 کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ گرفتاری ورہائی کی سرگرمیوں کو افغانستان میں انتہا پسندی کو شکست دینے کی سرگرمیوں سے ہم آہنگ کر سکیں۔

 
ویڈیو، بصری / آڈیو، سمعی / تصویریں

تصویریں

Podcasts

There are no podcasts available at this time.

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
33,163+