| مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے حراستی مراکز، بحالی کی کوششوں کا جائزہ |
|
منجانب MCC (SW) Maria Yager, Combined Joint Interagency Task Force 435 امریکی فوج کی اعلی کمانڈ قیادت برائے بین الاقوامی امدادی سیکورٹی فورس ﴿ایساف﴾ اور امریکی افغان فورسز نے دیگر سات اتحادی ممالک کے اہم فوجی رہنماؤں کے ہمراہ 25 جنوری 2011 کو افغان صوبہ پاروان کے حراستی مرکز کا دورہ کیا تا کہ امریکی ریاستی مرکز اور آپریشنز کے بارے میں زیادہ بہتر طریقے سے سوجھ بوجھ حاصل کی جا سکے۔ تصویر برائے امریکی بحریہ کی مواصلات کی چیف ماریہ یہگر
صوبہ پاروان، افغانستان 25 جنوری2011 - امریکی فوج کی اعلی کمانڈ قیادت برائے بین الاقوامی امدادی سیکورٹی فورس ﴿ایساف﴾ اور امریکی افغان فورسز نے دیگرسات اتحادی ممالک کے اہم فوجی رہنماؤں کے ہمراہ 25 جنور ی 2011 کو افغان صوبہ پاروان کے حراستی مرکز کا دورہ کیا تا کہ امریکی ریاستی مرکز اور آپریشنز کے بارے میں زیادہ بہتر طریقے سے سوجھ بوجھ حاصل کی جا سکے۔ امریکی فوج کے کمانڈر اورایساف فورسز امریکی و افغان فورسز کے سینئر فوجی قائد سارجنٹ میجر مارون ایل ہل کا کہنا ہے کہ ہم ان مراکز کا دورہ کرنے جا رہے ہیں جن کا مقصد آنکھوں دیکھے حال کے ذریعے دنیا کو یہ دکھانا ہے کہ امریکی ریاستی مراکز میں ہم لوگ جوکچھ بھی کرتے ہیں وہ درست ہوتا ہے۔ ہل نے آسٹریلیا، سلواکیہ، اٹلی، ایسٹونیہ اور ہالینڈ کے سینئر فوجی رہنماؤں کے شاہکار تھیٹر حراستی مرکز کے دورے کے دوران ان کی نگہبانی کے فرائض سر انجام دئیے۔ 2300 سے زائد انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں، میڈیا کے لوگوں، امریکا، نیٹو اور افغان حکام نے گزشتہ سال اس حراستی مرکز کا دورہ کیا۔ سارجنٹ میجرمارون ایل ہل کا کہنا تھا کہ جتنا ہم سے ممکن ہوسکا ہم معاملات کو شفاف طریقے سے چلانے کی کوشش کر رہے ہیں ہمارے دروازے ہر کسی کیلئے کھلے ہوئے ہیں کہ وہ یہاں آئیں اور خود اپنی آنکھوں سے سب کُچھ دیکھیں۔ ڈی ایف آئی پی کا ڈیزائن قیدیوں کو ٹھیک کرنے کی کوششوں کو بہتر انداز میں موافق بناتا ہے اور مشترکہ انٹرایجنسی ٹاسک فورس 435 کو اچھے اندازمیں حراستی آپریشن سرانجام دینے کے قابل بناتا ہے جس کا مقصد افغانستان میں انتہا پسند عناصر کو مجموعی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے شکست دینا ہے۔ ڈی ایف آئی پی کے ڈیزائن سے قیدیوں کی آبادی کو تحفظ دینے، انسانی بنیادوں پر بہتر اورموثراندازمیں کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے اس سے خواہشمند قیدیوں کو گروپ کی شکل میں سرانجام پانے والی تعلیمی اور تربیتی سرگرمیوں کے پروگرامز میں بھی حصہ لینے کی اجازت ملتی ہے۔ اس قید خانے میں جدید طبی سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں جس میں فیملی کے دوروں کیلئے بھی الگ سے علاقہ مختص کیا گیا ہے، ویڈیو ٹیلی کانفرنس کی سہولت بھی دستیاب ہے جبکہ تفریحی سرگرمیوں کیلئے بھی وسیع پیمانے پر انتظامات کئے گئے ہیں، مرکزمیں ووکیشنل ٹیکنیکل تربیت اور تعلیمی کمرہ جماعت کا قیام اور قانونی پیش رفت کے حوالے سے بھی اضافی جگہ وقف کی گئی ہے۔ آسٹریلوی ائیرفورس وارانٹ آفیسرکرس سٹیفن جنہیں ایساف فورسز کیلئے تعینات کیا گیا ہے کہتے ہیں کہ یہ مرکز دیکھنے میں انتہائی پیشہ وارانہ تاثردیتا ہے، ہرملازمت کرنے والا رکن یہاں اچھا کام کرتا دکھائی دیتا ہے جو کہ خاصا متاثر کن عمل ہے۔ ٹور میں حراستی مرکز کے رہائشی یونٹ، طبی مرکز، قانونی کاروائیوں کے ڈائریکٹوریٹ، اورایک زرعی فارم کا دورہ بھی شامل ہیں، جہاں اہل قیدی زرعی مہارتیں بھی سیکھ سکتے ہیں اور ان مہارتوں کو یہ لوگ رہائی کے بعد اپنے اپنے دیہاتوں میں عملی شکل میں استعمال بھی کرسکیں گے۔ ڈی ایف آئی پی کوافغان نیشنل آرمی کے فوجی جوان، اورامریکی بحریاور فضائی فوج کے کچھ ارکان مل کر چلاتے ہیں، ان میں گارڈ فورس، طبی، اور قانونی سپورٹ فراہم کرنے والے شعبوں کے فوجی شامل ہیں۔ افغان نیشنل آرمی کے سارجنٹ میجرحنیف جو کہ پاروان صوبہ کے سینئرفوجی مشیروں میں شمار ہوتے ہیں اور پول ای چارکی ملٹری پولیس بریگیڈ کا حصہ ہیں بتاتے ہیں کہ وہ ہر اس شخص کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جو کہ ان کے ساتھ کام کاج میں مصروف ہوتا ہے، وہ سب مل کرایک ٹیم کی مانند کام کرتے ہیں ۔ پاروان اور پول ای چارکی ملٹری پولیس بریگیڈ قیدیوں کی قید وبند اورپورے افغانستان میں سلامتی کے حوالے سے درپیش خطرات سے نمٹنے کی ذمہ دار ہے جبکہ افغان نیشنل آرمی کو تربیت اور اسلحے و دیگر سازوسامان سے لیس کرنا بھی اسی کا کام ہے، اس کے علاوہ یہ افغان نیشنل آرمی کے جوانوں کو گارڈ فورس اور ڈی ایف آئی پی کے صدر دفتر میں عملے کے طور پرتعینات کرنے کا فریضہ بھی سرانجام دیتے ہیں اور بعد میں ڈی ایف آئی پی سے افغان حکومت میں کچھ شرائط پرفوجیوں کو منتقل کرنے کی تیاریاں بھی اسی کے ذمے ہیں۔ ڈی ایف آئی پی میں افغانیوں کے ہاتھوں چلائے جانے والا پہلا ہاؤسنگ یونٹ اس ماہ کھول دیا گیا ہے جسے ایک افغان خود مختار قید خانے کی طرح چلایا جارہا ہے حتمی یونٹ کے ساتھ دو اضافی افغان ہاؤسنگ یونٹ بھی اپریل 2011 تک مکمل کئے جا رہے ہیں جنہیں مقررہ تاریخوں کو باقاعدہ افغانستان کے حوالے کر دیا جائے گا۔ ایساف فورس میں کام کرنے والے بیلجئم آرمی ماسٹر سارجنٹ کرسٹائن وین ہینڈی کا کہنا ہے کہ وہ زندگی میں پہلی بار اس طرح کا حراستی مرکز دیکھ رہے ہیں، ان کا خیال ہے قیدیوں کو اچھی حالت میں رکھنے کیلئے بہت کام کیا گیا ہے۔ رخصت ہونے سے پہلے ہل نے ڈی ایف آئی پیمرکز میں کام کرنے والے اہلکاروں سے ہلکا پھلکا تعارف بھی حاصل کیا اوران کی کوششوں پرحوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں پنا کمانڈ کوئن بھی دیا۔ ہل کا عملے سے کہنا تھا کہ قطع نظر اس کے کہ آپ کا تعلق زمینی یا بحریہ فوج سے ہے، آپ یہاں بنیادی ضروریات کے حوالے سے آئے ہیں اور ہم ان قدروں پر انحصار کرنے کیلئے آپ لوگوں پر انحصارکرتے ہیں۔ ہل نے ایساف، یوایس فور A کمانڈ سینئر قائد کے طور پر1ستمبر2010 میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں، اس سے پہلے وہ 21 ماہ تک امریکی مرکزی کمان کے سینئرکمانڈ کی قیادت کے طور پرخدمات سر انجام دیتے رہے ہیں۔ مشترکہ انٹرایجنسی ٹاسک فورس سی جے آئی اے ٹی ایف۔435 کی کمان بحریہ کے نائب ایڈمرل رابرٹ ایس ہارورڈ ،افغان کمانڈرمیجرجنرل مارجان شجاع کے ہاتھوں میں ہے۔ مشترکہ انٹرایجنسی ٹاسک فورس CJIATF میں امریکی فوج، بحریہ، میرین کور اور ائیرفورس کے حاضر سروس نوجوان، شہریوں اور اتحادی ارکان کی ایک بڑی تعداد شامل ہوتی ہے۔ سی جے آئی اے ٹی ایف۔435 افغانستان کی کئی وزارتوں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے اور اس میں مندرجہ ذیل ایجنسیوں سے لئے گئے افراد بھی شامل ہوتے ہیں، جن میں امریکی داخلی سلامتی کا محکمہ، امریکی محکمہ امیگریشن اور کسٹم، امریکی محکمہ انصاف، منشیات کے خلاف انتظامیہ، امریکی ادارہ برائے عالمی ترقی، ایف بی آئی، بین الاقوامی سیکورٹی امدادی فورس مشترکہ کمانڈ، امریکی مارشل سروس، اور مشترکہ مواصلاتی کمان افغانستان کے محکمے شامل ہیں۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















