صفحہ اول | خبریں | پریس ریلیس | جائزے نے افغانستان میں کوششوں کی توثیق کر دی، مائیک مولن
جائزے نے افغانستان میں کوششوں کی توثیق کر دی، مائیک مولن
منجانب , American Forces Press Service

قندھار، افغانستان 16 دسمبر 2010 – مشترکہ افواج کے سربراہی چیئرمین نے کہا کہ صدر اوباما کی جانب سے افغانستان- پاکستان پالیسی کے سالانہ جائزے نے ان تمام کوششوں کی جو ہمارے جوان پورے میدانِ جنگ میں کر رہے ہیں کی توثیق کر دی ہے۔

گزشتہ برس صدر اوباما کی افغانستان پاکستان کے حوالے سے جائزے میں پالیسی کا ازسرِ نو جائزہ لیا گیا اور ان اہداف پر زور دیا گیا کہ القاعدہ کی سرگرمیوں کو معطل، منتشر اور بالاخر شکست دی جائے۔ جائزے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے ساتھ امریکہ طویل مدتی شراکت قائم کرے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ القاعدہ اور اس جیسے دیگر گرو دوبارہ اس علاقے میں آ کر 11 ستمبر 2001 جیسے حملوں کی منصوبہ بندی نہ کریں جن میں 3000 امریکی ہلاک ہو گئے تھے۔

چیئرمین نے جائزے کو حکمت عملی کے لیے نہایت اہم  قرار دیا ہے۔

مائیک مولن ان دنوں امریکی، نیٹو اور افغان حکام سے ملاقاتوں کے لیے افغانستان کے دورے پر ہیں۔ وہ پاکستان سے ہوتے ہوئے یہاں پہنچے جہاں انہوں نے فوجی اور شہری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔

چیئرمین نے افغانستان میں کیمپ ہینسن شہر مرجہ کے نواح میں میں میرینز اور ملاحوں اور مغربی قندھار میں عارضی بیس ولسن میں فوجیوں اور شہریوں سے ملاقاتیں کیں۔ گزشتہ روز انہوں نے افغان دارالحکومت کابل کے نزدیک بگرام فضائیہ اڈے میں خطے کی مشرقی کمان پر فوجی جوانوں سے ملاقات کی۔ ہر مقام پر انہیں صورتحال کے بارے میں مثبت باتیں سننے کو ملیں کہ کیسے یونٹس حکمت عملی پر عمل درآمد کر رہے ہیں اور کمانڈر اور سروس ممبر میدان میں کیا کچھ دیکھتے ہیں۔

جائزے میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کے حالات میں واضح پیشرفت ہوئی ہے اور طالبان اور القاعدہ کی سرگرمیوں پر کنٹرول حاصل کیا گیا ہے جبکہ بعض علاقوں میں انہیں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔

چیئرمین نے اپنے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جائزے میں سروس ممبرز کو کچھ تبدیل کرنے کے لیے نہیں کہا گیا بلکہ اس کی توثیق کی گئی کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں اور جس پر انہیں توجہ دینی چاہیے۔

مائیک مولن نے کہا کہ جیسے ہی ہم نے سکیورٹی کے شعبے میں خاطر خواہ پیشقدمی کی وہ اپنی کامیابیوں پر نظر ڈالیں گے تا کہ حکمت عملی اور ان کی کوششوں کی توثیق ہو سکے۔

اپنے حالیہ اور خطے میں گزشتہ دوروں میں چیئرمین نے زور دیا کہ افغانستان/پاکستان حکمتِ عملی کے سلسلے میں جولائی 2011 کی اعلان کردہ تاریخ افغانستان میں امریکی سرگرمیوں کے خاتمے کی حتمی تاریخ نہیں، بلکہ اس تاریخ تک سکیورٹی انتظامات افغان انتظامیہ کو منتقل کرنے کے عمل کا آغاز ہو جائے گا۔ جبکہ امریکی فوجی جولائی 2011 کے بعد تک بھی افغانستان میں رہیں گے۔

مولن نے جائزے کے پس پردہ طریقہ کار اور اس نکتے پر تبادلہ خیال کیا کہ یہ گزشتہ برس کے جائزے سے کس طرح مختلف ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس برس مختلف نکات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ گزشتہ برس موضوع یہ تھا کہ حکمت عملی کیا ہے اور اس کے لیے وسائل کہاں سے حاصل کیے جائیں گے۔ اس برس حکمتِ عملی میں مسائل کی تشخیص کی گئ ہے، جیسے کہ ہماری کارکردگی کیسی رہی ہے؟

مولن نے مزید کہا کہ وہ سروس ممبران جنہوں نے حکمتِ عملی پر عمل درآمد کرانا ہے انہیں اس عمل میں ایک برس ہو چکا ہے اور انہیں علم  ہے کہ انہیں کیا کرنا ہو گا۔

چیئرمین نے کہا کہ صحت مند بحث دونوں مرتبہ اس عمل کا حصہ رہی ہے۔ اس سے علم ہوا ہے کہ حکمتِ عملی نتائج پیدا کر رہی ہے۔

مائیک مولن کا کہنا تھا کہ جائزے کے اختتام تک ستمبر، اکتوبر اور نومبر میں،میں نے سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا جس نے دیگر نکات کے لیے دروازے کھولے ہیں۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
33,161+