| پٹریاس نے افغانستان کو عزم کا امتحان قرار دے دیا |
منجانب , American Forces Press Service شئیرمتعلقہ خبریںواشنگٹن ( 29 جون، 2010) – منگل کے روز فوجی جنرل ڈیوڈ پٹریاس نے سینٹ کی مسلح افواج کی کمیٹی کو بیان دیتے ہوۓ کہا کہ افغانستان ہمارے عزم کا امتحان ہے اور دشمن کو معلوم ہونا چاہیۓ کہ امریکہ اور اس کے اتحادی غلبہ حاصل کرنے کے لیۓ پر عزم ہیں۔ یہ شہادت افغانستان میں فورسز کے کمانڈر فوجی جنرل سٹینلے مکرسٹل کی جگہ لینے والے صدر بارک اوبامہ کے نامزد پٹریاس کی توثیق کی کاروائی کا ایک حصّہ تھی۔ جنرل کو نیٹو کی بین الاقوامی سکیورٹی امدادی فورس میں بھی مکرسٹل کی جگہ نامزد کیا گیا ہے۔ اس عہدہ کے لیۓ نیٹو کے ذرائع سے توثیق کی الگ ضرورت ہوتی ہے۔ پٹریاس آج کل امریکی مرکزی کمان کے کمانڈر ہیں۔ اوبامہ کی تقریر جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان دہشت گردوں کے لیۓ جو افغانی سلامتی کو اندرسے تباہ کرنا چاہتے ہیں اور جو پوری دنیا میں معصوم مرد عورتوں اور بچوں پر حملے کر رہے ہیں امریکہ انکی یہ محفوظ پناگاہ برداشت نہیں کرے گآ اور ان الفاظ کا حوالہ دیتے ہوۓ پٹریاس نے پینل کو بتایا کہ افغانستان میں امریکہ کے نہایت اہم قومی مفادات ہیں۔ جنرل نے کہا کہ "مختصرا" ہم القاعدہ اور دوسرے عالمگیر انتہا پسند عناصر کو ایک بار پھر پناہ گاہیں قائم کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں جہاں سے وہ ہمارے وطن یا ہمارے اتحادیوں پر حملے کر سکیں۔ البتہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیۓ ضروری ہے کہ ہم نہ صرف دوبارہ زور پکڑتے ہوۓ طالبان کے عناصر جنہوں نے ماضی میں ان پناہ گاہوں کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا تھا ان کے خلاف جوابی کاروائی کریں بلکہ ہمارے لیۓ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے افغان شراکت داروں کی سکیورٹی فورسز اور انتظامی صلاحیت کی تشکیل میں ان کی مدد کریں تا کہ وہ وقت کے ساتھ اپنے ملک کی سلامتی اور اپنے لوگوں کی ضروریات کو پورا کر سکیں۔ اگر ان کی توثیق ہوجاتی ہے تو پٹریاس قریب قریب 100،000 امریکی دستوں اور 45 دوسری قوموں کے 50،000 سے زیادہ فوجیوں کی قیادت کریں گے۔ جنرل نے کہا کہ چونکہ افغانستان کی مہم کی حکمت عملی میں مکمل شہری– فوجی مل کر کام کرنے کی کاوشوں کی ضرورت ہے وہ حکومت کے طریق کار پر مکمل عمل درآمد کے لیۓ زمینی حالات کے مطابق شہری اداروں کے ساتھ قریب سے مل کر کام کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ منصوبہ میں بین الاقوامی تعاون اور افغان حکومت اور افغان قومی سکیورٹی فورسز کی فیصلہ کن شرکت بہت ضروری ہے۔ بطور مرکزی کمان کے کمانڈر پٹریاس نے صدر کی افغانستان کی حکمت عملی کی تشکیل میں حصّہ لیا تھا۔ جنرل نے کہا کہ میں ان کی نئ پالیسی کی حمایت کرتا ہوں اور ان سے اتفاق کرتا ہوں۔ اس پالیسی کی تشکیل کے دوران میں نے اپنی دو ٹوک فوجی راۓ پیش کی تھی اور میں نے صدر کو یقین دلایا تھا کہ آنے والے مہینوں میں جب ہم اس کا جائزہ لیں گے تو میں ایسا ہی کرونگا۔ اس پر انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ وہ توقع کرتے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ میں ایسے ہی بے لاگ مشورے دوں۔ جنرل نے اس بات کا ذکر کرتے ہوۓ کہ پالیسی کا مدعا یہ ہے کہا کہ جولائی 2011 میں سکیورٹی کی ذمہ داریوں کو افغانی قومی سکیورٹی کو منتقل کرنا شروع کیا جاۓ تا کہ افغان حکومت کو ان کی ذمہ داری فوری پورا کرنے کا احساس دلانے کی ضرورت کی حمایت کی جا سکے۔ پٹریاس نے کہا کہ حالیہ دنوں میں صدر نے یہ یاد دہانی کرائی ہے کہ جولائی 2011 میں اس پر عمل شروع ہوگا اور یہ وہ تاریخ نہیں جب امریکہ بوریا بسترا گول کر کے باہر نکلنے کا رخ کرے گا۔ ہم کو آنے والے لمبے وقت کے لیۓ افغانستان کو مدد فراہم کرنی ہو گی اور یہ بات انہوں نے گذشتہ اتوار کو واضح کیا تھا۔ افغانستان میں پہلے ہی قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے۔ اتحادی فوجوں کی کاروائیوں کی وجہ سے ہونے والی شہری اموات میں کمی واقع ہوئي ہے اور صوبہ ہلمند کو طالبان سے آذاد کرا لیا گیا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ترقی کو محفوظ بنانے کے لیۓ ابھی بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ انسداد بغاوت کی حکمت عملی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ آبادی کی حفاظت کی جاۓ۔ پٹریاس نے کہا کہ بہرحال لوگوں کی حفاظت پر توجہ کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم دشمن کا تعاقب نہیں کریں گے۔ بلکہ حقیقت تویہ ہے کہ آبادی کی حفاظت میں باغیوں کو مارنا یا ان کو پکڑنا اور قید کرنا ناگزیر ہے، ہماری فورسز ایسا کرتی رہی ہیں اور ہم ایسا ہی کرتے رہیں گے۔ درحقیقت ہمارے دستے اور ہمارے افغان شراکت دار حالیہ مہینوں میں جنگ کو بہت حد تک دشمن کی صفوں تک لے جاتے رہے ہیں۔ طالبان اور ان کے دہشت گرد ساتھی اپریل سے بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں جس میں 130 سے زیادہ درمیانے اور اونچے درجے کے کارکن یا تو پکڑے گۓ ہیں یا مارے گۓ ہیں اور ہزاروں عام ارکان کو میدان جنگ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ جنرل نے بتایا کہ ان کامیابیوں کی امریکی اور اتحادی فورسز کو قیمت ادا کرنی پڑی ہے۔ جو افراد افغانستان میں لڑ رہے ہیں میں ان کے ماؤں اور باپوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم وردی پہنے والے مرد اور عورتوں اور افغان سکیورٹی فورسزجن کے ساتھ ایساف کے دستے شانہ بہ شانہ لڑ رہے ہیں کی حفاظت کے لیۓ اپنے تمام اثاثے بروۓ کار لائیں۔ جب زمین پر موجودہ لوگوں کو مشکل حالات کا سامنا ہو تو انہیں وہ تمام مدد ضرور ملنی چاہیۓ جن کی ان کو ضرورت ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اس قدر اہم ہے کہ انہوں نے افغان صدر حامد کرزئی، افغان وزیر دفاع عبدل وردک اور افغان وزیر داخلہ بسم اللہ خان سے اس بارے میں بات چیت کی ہے۔ پٹریاس نے سینیٹرز کو بتایا کہ وہ اس معاملے میں میرے ساتھ پوری طرح متفق ہیں۔ جنرل نے کہا کہ اس تشویش سے جن کا اظہار فوج کے افراد نے جنگ لڑنے کےان قواعد وضوابط اور جنگی چالوں کی ہدایات کے بارے میں کیا ہے وہ پوری طرح آگاہ ہیں جوکہ شہریوں کو زخمی اور ہلاک ہونے میں کمی کرنے کے لیۓ بناۓ گۓ ہیں۔ ان کو معلوم ہونا چاہیۓ کہ میں اس مسئلہ کا بہت باریک بینی سے جائزہ لوں گا۔ افغان سکیورٹی فورس کی ایسی تشکیل کہ وہ اپنے ملک کی ذمہ داری سنبھال سکیں اور تسلسل کے ساتھ کامیابی برقرار رکھ سکیں ایک بہت ہی اہم اور بہت ہی مشکل کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیشک بغاوت کے دوران فورسز کی تربیت اور ان کو ساز و سامان سے لیس کرنے میں میزبان قوم کی مدد کرنا ایک جدید ہوائی جہاز بنانے کی مانند ہے اور ایسا جہاز جب اس کا ڈیزائن بنایا جا رہا ہو وہ پرواز کے دورانیے میں ہو اور اس پر گولیاں چلائی جا رہی ہوں۔ اس میں کچھ بھی آسان نہیں ہے۔ جب سے اس ملک میں تربیتی کوششیں کو بہتر بنایا گیا ہے اس معاملے میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن اس رجحان کو برقرار رکھنے کے لیۓ مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مزید ترقی کے لیۓ پہلے سے بڑھ کر شراکت داری، تربیت میں مزید بہتری، تربیت اور مشاورت کے کاموں میں پہلے سے زیادہ افراد کی دستیابی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے زیادہ مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہوگی اور ان تمام میدانوں میں کام کیا جا رہا ہے۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوۓ کہ جون میں نیٹو کے پہت سے افراد ہلاک یا زخمی ہوۓ ہیں پٹریاس نے کہا کہ افغانستان میں سخت لڑائی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ بیشک حیسے جیسے ہم دشمن کی پناہ گاہیں ان سے چھینتے ہیں اور دشمن کی کاروائیاں کرنے کی آذادی کو محدود کر دیتے ہیں باغی مزاحمت کریں گے اور اگلے چند مہینوں میں یہ مزید سخت ہو سکتی ہے۔ جنرل نے ملک میں موجود امریکی دستوں کے عزم کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک مرتبہ پھر اس غیرمعمولی کام کا ذکر کروں گا جو ہمارے فوجی دستے افغانستان عراق اور دنیا کے دوسرے علاقوں میں کر رہے ہیں۔ ہمارے نوجوان مرد اور عورتیں یقیناً اس تعریف کے مستحق ہیں جو انہوں نے بطور امریکہ کی عظیم ترین نسل کے کمائی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ ہماری قومی تاریخ کی بہترین اور لڑائی کے لیۓ سخت جان افواج ہیں۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















