| بحری حملہ آور فورسز نے قزاقوں سے بحری جہاز دوبارہ اپنے قبضہ میں کر لیا |
منجانب , US Naval Forces Central Command
مناما، بحرین ۔ 9 ستمبر، مقامی وقت کے مطابق تَقريباً صبح پانچ بجے، ۱۵مرین مُہِماتی یونٹزبحریہ) میں متحدہ LPD 8 – Dubuque) -8 کی چوبیس امریکی بحریہ، امیریکی جہاز ڈبوک ایل پی ڈی) کے اثر تاثیر، ایننٹیگوا باربوڈا ایم/وی مجلن اسٹار CTF 151- ( سی ٹی اف 151 ٹاسک فورس جرمن جہازپہ سوار ہوۓ اور قزاقوں سے وہ جہاز (Magellan Star)جو کہ انہوں نے 8 ستمبر کو حملہ آور ہو کر قبضہ کر لیا تھا واپس اپنی تحویل میں لے لیا۔ مشترکہ سمندری ٹاسک فورسسز کا یہ کامیاب مشن جس کی وجہ سے بحری جہاز اور اسکے تمام عملے کو بحفاظت آزاد کرواکر اس کا پورا اختيار جہاز کے شہری عملے کے حوالے کر دیا گیا. ۹ بحری ڈاکو ابهی بهی مشترکہ سمندری ٹاسک فورسسز کی حراست میں ہیں اور ان سے مزید تفتیش جاری ہے. اس بحری جہاز کے عملے نے کسی کے جانی نقصان کا یا پهر گولی چلنے کا کوئی ذکر نہیں کیا، ناہی امریکی مرین مُہِماتی یونٹ نے کسی کے زخمی ہونےکی خبر دی. 8 ستمبر، واقعہ کے روز سی ٹی اف -151 فلیگ شپ، ترکی کی فریگیٹ، ٹی سی جی گوصیدہ ہی سب سے پہلا جہاز تھا جس نے مجیلن اسٹار کی موقعہ واردات ہنگامی امداد کے لۓ واردات کی کال وصول کی۔ مزید دو بحری جنگی جہازایو ایس ایس ڈبوک کی مخصوص جگہ پر پہنچ گے۔ ترکی کی بحریہ فوج کے کمانڈر نائب ایڈمرل سنان ارتوگرول کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی بحریہ فورس کی یونٹز، متحدہ ٹاسک فورس151 کے تحت، قزاقی اپریشن کے مخالف جارحیت و سرگرمی سے حصہ لے رہی ہے۔ حقیقی طور پر یہ ایک اعلاقائي مسلہ ہے جس سے تمام دنیا متاثر ہوئی ہے۔ ہم مکمل طور پر قزاقی کی انتشار انگیز فعل کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں تمام بین الاقوامی برادری کا تعاون حاصل ہے اور ہم عدن کی خلیج اور صومالیہ میں تحفظ و سکون کے لۓ ہر ممکن کوشش کرتے رہیں گۓ۔ سی ٹی اف-151، تین ٹاسک فورسز میں سے ایک ہے جو کہ پچیس ممالک کی مجموعی بحریہ فورسز کے زیرعمل ہے۔ سی ٹی اف-151 جنوری 2009، میں قائم کی گئی تا کہ قزاقی عمل کی مزاحم، انقطاع اور خاتمہ کے علاوہ تمام قوموں کے بحری جہازوں کی حفاظت کرسکے تاکہ عالمی نقل و حرکت میں مکمل آزادی ہو سکۓ۔ ۔ مزید معلومات دستیاب ہونے پر پیش کی جایں گی۔
|
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















