| ایساف کے کمانڈر نے مشرق میں فوجی دستوں کا دورہ اور ہتھیاروں کی صلاحیتوں کا معائنہ کیا |
منجانب ISAF Public Affairs Office شئیرمتعلقہ خبریںکابل، افغانستان (23 ستمبر، 2011) — انٹرنیشنل سیکورٹی اسسٹینس فورس کے کمانڈر، جنرل جان آر۔ ایلن نے کل مشرقی افغانستان میں فوجی دستوں کا دورہ کیا۔ اس دورے کے مقاصد میں تازہ ترین معلومات حاصل کرنے کے لئے ملاقاتیں کرنا، جوابی کاروائی کے لئے ہتھیاروں کی تیاری کا معائنہ، اور عملے کے لوگوں سے ملنا شامل تھے۔ جنرل ایلن نے کہا، "یہ مسلسل مجھے سارے افغانستان میں تعینات ایساف کے ہمارے افراد کے اعلیٰ معیار کی یاد دلاتا ہے اور ایساف کے مرد اورعورتیں اس ملک کے امن سے محبت کرنے والے شہریوں کو باغیوں کی طرف سے لاحق خطرے سے تحفظ فراہم کرنے کے لئے کسی بھی تفویض کردہ کام کوانجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔" اس دورے میں تیزی سے حرکت کرنے والے توپ خانے کے راکٹ کے نظام، یا ایچ آئی ایم اے آر ایس HIMARS کی صلاحیتوں کے بارے میں معلومات اور جوابی کاروائی کے لئے اس کی تیاری کا معائنہ بھی شامل تھا۔ ایچ آئی ایم اے آر ایس طویل فاصلے تک ٹھیک ٹھیک نشانہ لگانے کی صلاحیت رکھنے والا ایک ہلکا متعدد راکٹ چلانے والا لانچر ہے، جس سے اُن معصوم لوگوں کے زخمی ہونے کے مواقع کم ہوتے ہیں جو دہشت گردوں کی قریبی علاقوں میں کاروائیوں یا اُن کے قیام کی وجہ سے خطرے سے دوچار ہیں۔ ایچ آئی ایم اے آر ایس افغانستان میں بڑے موثر انداز میں استعمال کیا گیا ہے۔۔ جنرل ایلن نے کہا کہ ایچ آئی ایم اے آر ایس ہدف میں امتیاز کرنے والا اور ایک بہت موثر ہتھیار ہے۔ تمام موسموں اور دن یا رات میں چلاۓ جانے کی صلاحیت کی وجہ سے ہماری فورسز ضرورت کے مطابق بغیر انتباہ کے ہدف پر ٹھیک ٹھیک نشانہ لگا سکتی ہیں۔ جنرل ایلن تمام افغانستان میں میدان جنگ کے چکر لگاتے رہتے ہیں، جس میں وہ ایساف اور افغان قومی سیکورٹی فورس کے اہلکاروں، صوبائی حکومت کے رہنماؤں اور گاؤں کے بزرگوں کے پاس جاتے ہیں۔ یہ مشن اتحادی کمانڈر کو ضروری زمینی حقائق سے آگاہی فراہم کرتے ہیں۔ ایساف 49 اتحادی اور دوسری شریک قوموں پر مشتمل ہے جس کی کل تعداد تقریباً 130,000 افراد ہے۔ یہ افغان قومی سیکورٹی فورسز کی شراکت میں آبادی کو مدِ نظر رکھتے ہوۓ انسداد دہشت گردی کی کاروائیاں کرتے ہیں اور سیکورٹی کے شعبے کی اصلاحات میں حکومت اور بین الاقوامی برادری کو مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس میں افغان قومی فوج اور افغان قومی پولیس کی مشاورت، تربیت اور آپریشنل مدد شامل ہے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















