| عراق کی منتقلی کی کانفرنس میں حربی شراکت داری پر روشنی |
منجانب , U.S. Central Command شئیرمتعلقہ خبریںواشنگٹن (4 اگست، 2010) – حال ہی میں عراق میں امریکی امداد کے محکمہ دفاع سے لے کر محکمہ خارجہ تک پوری حکومت کے سینیر قائدین نے محکمہ دفاع کی عراق میں بہت سی سرگرمیوں کی محکمہ خارجہ کو منتقلی کی منصوبہ سازی کیلیے قومی دفاعی یونیورسٹی میں ملاقات کی۔ محکمہ خارجہ کے نائب معتمد جیک لیو اور امریکی مرکزی کمان کے قائم مقام کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جان ایلن نے کانفرنس کی مشترکہ میزبانی کی۔ وائٹ ہاؤس قومی سلامتی عملے کے اراکین اور 60 سے زاید سفراء، فوجی قائدین اور سینیرحکام کے ساتھ ساتھ سفیر کرسٹوفر ہل اور جنرل رے اوڈیرنو نے ہوائی سفر کے ذریعے بغداد سے شرکت کیلیے پہنچے۔ عراقی عوام انکی حکومت اور حفاظتی افواج کی کامیابی کا تذکرہ کرتے ہوئے کانفرنس نے شرکاء کو متعدد عنوانات پر جن میں علاقائی تحفظ، عراقی حفاظتی فوج اور پورے علاقے میں حربی شراکت داری شامل ہیں تفصیل سے بات چیت کرنے کا موقع فراہم کیا۔ شرکاء میں سینیر قائدین نے امریکی حکومت کے ان اعلی حکام میں جو کہ محکمہ خارجہ کی قیادت میں تحفظ، ترقی اور حکومتی معاملات کو آئندہ آنے والے مہینوں اور سالوں میں عراقی عوام تک منتقلی کے عمل میں شامل ہونگے عراقی منتقلی کے منصوبے میں عمومی صورتحال سے آگاہی کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز رکھی۔ لیفٹیننٹ جنرل جان ایلن نے کہا کہ ہم اگلے 18 ماہ تک ایک ساتھ کام کرتے رہِیں گے جبکہ ہمارے محکمہ خارجہ اور اداروں کے درمیان شراکت دار اس منتقلی کے دوران قیادت اور عراقی شہریوں کی مدد کرینگے۔ ہم سب اس بات کو یقینی بنانے کیلیے کام کررہے ہیں کہ عراق کے علاقے میں برابر کے اور ذمہ دار شراکت دار کی حیثیت سے اپنی مناسب جگہ حاصل کرسکیں۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















