صفحہ اول | CJIATF435 | گریجویٹ افغانستان میں انصاف کے لیے فورینزک ٹیکنالوجی استعمال کریں گے

 Combined Joint Interagency Task Force-435 

گریجویٹ افغانستان میں انصاف کے لیے فورینزک ٹیکنالوجی استعمال کریں گے
منجانب MCC (SW) Maria Yager, Combined Joint Interagency Task Force 435

بگرام ایئر فیلڈ، افغانستان 20 دسمبر 2010 - مشترکہ مہماتی فورینزک تنظیم 5 کے تربیتی پروگرام سے 18 دسمبر کو  افغان وزارتِ داخلہ کے گیارہ اہلکاروں نے سند حاصل کر کے جرائم کی تفتیش میں فورینزک شواہد استعمال کرنے کی افغان حکومت کی صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔

افغان قومی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل مرزا محمد یرمند، جو وزارتِ داخلہ کے مجرموں کی تفتیشی ڈویژن کے ڈائریکٹر بھی ہیں نے گریجویشن تقریب کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں جرائم کی تفتیش کی تاریخ میں یہ جدید اور بڑی کامیابی ہے۔

فورینزک کسی جائے وقوعہ سے سائنسی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے شواہد جمع کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کا نام ہے۔ تفتیش کار افغانستان کے عدالتی نظام میں استعمال کے لیے اپنی نئی مہارتوں کے بل پر مجرموں کی نشاندہی اور زیادہ بہتر انداز سے فورینزک شواہد حاصل کر پائیں گے۔

فورینزک کی مدد سے تفتیش کار بم بنانے میں استعمال ہونے والے آلات سے انگلیوں کے نشانات حاصل کر کے انہیں قومی ڈیٹا بیس کی معلومات میں محفوظ نشانات سے جانچ سکیں گے جس سے مجرموں کی نشاندہی ممکن ہو سکتی ہے یا اس سے تفتیش دیگر مقدمات کی تفیش سے بھی منسلک کی جا سکتی ہے۔

گریجویٹ غلام موسیٰ کہتے ہیں کہ افغان تفتیش کاروں نے 1960 کے عشرے میں شواہد سے معلومات جمع کرنے کے لیے پرنٹ ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کیا۔ اب ہمارے پاس بیلسٹک، اسلحے، فورینزک فوٹوگرافی اور ڈی این اے جمع کرنے کے ذریعے شواہد اکٹھے کرنے کی زیادہ بہتر صلاحیت آ چکی ہے جسے عدالت کے سامنے پیش کر کے ہم بے گناہوں کو رہا اور مجرموں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال سکتے ہیں۔

تربیتی پروگرام دو حصوں پر مشتمل تھا، جو چھ ہفتوں پر مشتمل فورینزک کا تعارف اور 16 ہفتوں پر مشتمل رسمی ہدایات فوٹوگرافی، لیٹنٹ پرنٹ ایگزیمینیشن، ڈی این اے، اسلحے اور بیلسٹک کے فورینزک شعبوں پر مشتمل تھا۔ تربیت میں اصطلاحات، آلات، طریقہ ہائے کاروں سے واقفیت حاصل کرنا اور حقیقی تفتیش پر کام کرنا بھی شامل تھا۔

گریجویٹ عبداللہ مہر نے کہا کہ تربیت بہت اچھی اور میرے لیے بہت اہم رہی ہے۔ ہم وزارتِ داخلہ میں واپس جا کر یہ ہنر آزمائیں گے۔

یہ تفتیش کار، جنہیں کابل کی جرائم تکنیکی لیب میں تعینات کیا گیا تھا، مشترکہ انٹر ایجنسی ٹاسک فورس 435 کے تعاون سے چلنے والے امریکی تربیتی پروگرام سے فارغ التحصیل ہونے والے اولین افغان اہلکار تھے۔ اگلی کلاس جنوری میں شروع ہونے جا رہی ہے۔

اس موقعے پر یرمند کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان نے علم حاصل نہ کیا تو کامیابی نصیب نہیں ہو گی کیونکہ علم ہی طاقت کا سرچشمہ ہے۔ افغانستان کے لیے یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

سی جے آئی اے ٹی ایف۔435 امریکی سروس ممبرز، شہری، اتحادی ارکان پر مشتمل ہے جنہوں نے متعدد افغان وزاتوں کے ساتھ شراکت قائم کر رکھی ہے تاکہ  افغانستان کے قومی قید خانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو افغان اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ڈھالا جا سکے۔

 
ویڈیو، بصری / آڈیو، سمعی / تصویریں

تصویریں

Podcasts

There are no podcasts available at this time.

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
33,163+