| جنرل پٹریاس کی کمان سبھنالنے پر تقریر |
|
منجانب , ISAF Public Affairs Office کمان سنبھالنے کی تقریب جنرل ڈیوڈ پٹریاس کمانڈر، ایساف/ امریکی فورسز- افغانستان 4 جولائی 2010 اسلام علیکم۔ آپ سب کو صبح بخیر۔ وزراء وردک، خان، سپینٹا، دوسرے وزیر، سفیر، جنرل رمس، جنرل کریمی اور ہمارے دوسرے افغانی شراکت دار، معزز مہمانانِ گرامی، بین الاقوامی سکیورٹی تعاون کی فورس اور امریکی فورسز-افغانستان کے ارکان آپ سب کا یہاں ہمارے ساتھ شریک ہونے کا شکریہ اور جنرل رمس، آج کی اس تقریب کی صدارت کرنے اور گزشتہ متعدد سال بطورکمانڈر نیٹو مشترکہ فورسز کمانڈ- برونس سم اپنے عہدہ کی پوری مدت کے دوران اِس مشن میں عظیم تعاون کے لیۓ آپ کا شکریہ۔ اور یہاں اِس صبح میں 101 ویں عظیم ائربورن ڈیویژن اور افغانی بینڈ اور اِس شاندار پرچم بردار گارڈ کا خاص طور سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ سب سے پہلے میں اپنے پیش رو جنرل سٹین میکرسٹل کی غیرمعمولی خدمات کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں۔ گذشتہ ڈیڑھ سال سے ہم سب نے مل کر افغانستان میں کام صحیح طریقے سے شروع کرنے پر بہت محنت کی ہے کہ ایسے اداروں کی تعمیر کی جاۓ جن کی انسداد بغاوت کے لۓ شہری-فوجی جامع مہم چلانے میں ضرورت ہے اِن اداروں کی نگرانی کے لیۓ ممکنہ بہترین افراد متعین کیۓ جائیں اور اِس بات کو یقیفی بنایا جاۓ کہ ہمارے منصوبے اور تصورات صحیح ہیں اور اِن منصوبوں اور تصورات کو عملی جامع پہنانے کے لیۓ فورسز اور دوسرے وسائل کو اکٹھا کیا جاۓ اور اِن کی صف آرائی کی جاۓ۔ صحیح کام شروع کرنے کے سلسلے میں جنرل مکرسٹل سے زیادہ کسی دوسرے فرد نے مدد نہیں کی ہے۔ حالیہ مہینوں میں ہونے والی پیش رفت، ایک ثابت قدم دشمن کی موجودگی کے باوجود، بہت لحاظ سے اُس بصیرت، توانائیاور قیادت کا نتیجہ ہے جو انہوں نے بطور ایساف کمانڈر کے اپنی مدت کے دوران فراہم کی۔ آج صبح جب میں ان اداروں کے نمائندوں کو دیکھ رہا ہوں جو افغانستان میں مصروف عمل ہیں اس اہم وقت پر اس فیصلہ کن جدوجہد میں شامل ہونا میں اپنے لۓ باعثِ اعزاز سمجھتا ہوں۔ آپ میں سے ہر ایک جانتا ہے کہ ہم ایک کٹھن لڑائی میں مصروف ہیں۔ سالوں کی لڑائی کے بعد ہم ایک فیصلہ کن مرحلے پر آ گۓ ہیں۔ ہمیں افغان عوام اور دنیا کو دکھانا ہے کہ القاعدہ اور اس کے انتہا پسند اتحادیوں کے جال کو اب دوبارہ افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں بنانے کی اجازت نہیں دی جاۓ گی جہاں سے وہ افغانی عوام اور دنیا بھر کی آذادی سے پیار کرنے والی قوموں پر حملے کر سکیں اور اب ایساف فورسز میں اضافہ اور ہمارے افغانی شراکت داروں کی نمو سے ہمارے پاس بالکل ایسا ہی کرنے کا ایک نیا موقع ہے۔ یہ ہمارے درمیان قوتِ ارادی کا مقابلہ ہے۔ ہمارے دشمن افغانی عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے لیے جو کچھ بھی کر سکتے ہیں کر رہے ہیں. ایسا کرنے کے لیۓ وہ روزآنہ معصوم افغانی عوام کو ہلاک کر رہے ہیں اور اُن کو اپاہج بنا رہے ہیں۔ باغیوں کے لۓ کوئی بھی چال بری نہیں ہے، حملے کرنے کے لیۓ یقیناً وہ بےخبر معصوم بچوں کو استعمال کرتے ہیں، وہ بے گناہ شہریوں کو ہلاک کرتے رہتے ہیں اور اکثر ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن کے نتیجے میں افغانی شہری زخمی ہوں۔ اس کے جواب میں ہمارے لیے لوگوں کو اور طالبان کو یہ دکھانا ضروری ہو گا کہ افغانی اور ایساف فورسز افغانی لوگوں کی حفظت کے لۓ یہاں موجود ہیں اور یہ کہ ہم یہاں جیتنے کے لیے آئے ہیں۔ یہ ہمارا واضح ہدف ہے۔ جیسا کہ صدر اوبامہ اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل راسموسن نے توجہ دلائی کہ میرا کمانڈ سنبھالنا فرد کی تبدیلی کو ظااہر کرتا ہے پالیسی یا حکمتِ عملی کی تبدیلی نہیں۔ یہ معلوم کرنے کے لیۓ کہ مزید بہتری کی ضرورت کہاں ہو سکتی ہے ایسا کسی بھی نۓ کمانڈر کو کرنا چاہیے اور میں یقیناً ایساف، افغان اور سیاسی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اپنی شہری اور فوجی کوششوں کا جائزہ لوں گا۔ مگر ہمارے فوجی اہداف یہی رہیں گے۔ اپنے افغانی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہمیں افغانستان کے عوام کو محفوظ بنانے اور ان کی خدمت کرنے کی ضرورت ہے۔ اُن کی سکیورٹی فورسز اور انتظامی صلاحیت کو یہتر بنانے کے لیے ہمیں افغانی رہنماؤں کی مدد کرنے کی ضرورت ہے تا کہ وقت کے ساتھ ساتھ وہ اپنے ملک کو محفوظ بنانے کا کام سر انجام دیں سکیں اور لوگوں کی ضروریات پوری کر سکیں اور واضح طور پر اس کام میں ہمیں باغیوں کا بڑی بے جگری سے تعاقب کرنے کی ضرورت ہے۔ یرّی بحری، فضائی فوج کے جوانوں میرینز، ایساف اور افغانستان میں امریکی فورس کے شہری ملازمین کے ساتھ میں عہد کرتا ہوں کہ بہترین قیادت، صحیح سمت اور مثال فراہم کرنے کے لۓ جو کچھ بھی بن پڑا میں وہ کروں گا۔ اس سال آپ کے کارنامے بڑے اثر انگیز رہے ہیں۔ آپ نے متعدد اہم معاملوں میں پیش رفت کرنے میں مدد دی ہے۔ توقع کے مطابق ہم جوں جوں طالبان کے زور کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں اور باغیوں سے محفوظ پناہ گاہیں چھین رہے ہیں دشمن مزاحمت کر رہا ہے۔ حالیہ مہینوں نے افغانستان میں سخت لڑائی اور شدید مجروح اور ہلاک ہونے والوں کو دیکھا ہے۔ جوں جوں ہم اپنے اِس اہم مشن میں آگے بڑھ رہے ہیں ہمیں معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کو کم سے کم رکھنے کی کوششوں کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ مگر اس دوران جو لوگ زمین پر اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہے ہیں ہم ان کی اور افغانی فورسز کی حفاظت کے لیۓ جن کے ساتھ وہ شانہ بہ شانہ لڑ رہے ہیں تمام وسائل کو بروکار لانے میں بالکل تأمّل نہیں کریں گے۔ اس کے علاوہ اس فیصلہ کُن جدوجہد میں آپ کی قربانیوں کے لۓ میں آپ میں سے ہر ایک کا – اور آپ کے ہر خاندان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں ۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کی مہارت، ہمت، عزمِ صمیم اور مضبوط قوتِ ارادی کا بھی شکریہ جن کا آپ نے مظاہرہ کیا ہے اور جن پر ہم آنے والے مہینوں میں بھی انحصار کریں گے۔ ہمارے سیاسی اور بین الاقوامی شہری شراکت داروں کے لیے ہم سب – شہری اور فوجی، افغانی اور بین الاقوامی - ایک ٹیم کا حصّہ ہیں جس کا مشن ایک ہے۔ لاریب، ہم سب اس سنگین خطرے کو پہچانتے ہیں جو طالبان القاعدہ اور ان کا انتہا پسند ساتھی" ٹولا" اس ملک اس علاقے اور دنیا کے لۓ پیدا کر سکتے ہیں۔ ہم اپنے مشن کو ساتھ مِل کر کام کیۓ بغیر پورا نہیں کر سکتے۔ آپ کا ہر ادارہ افغانستان میں مشغول ٹیموں کی اس ٹیم میں غیرمعمولی عزم اور بے مثل مہارت اور امتیازی خصوصیت لاتا ہے – اور اب جبکہ ہم ایک ایسی ثقافت کو تقویت دے رہے ہیں جس میں تعاون کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے میں اُن کارناموں کا منتظر ہوں جو ہمارے ادارے ساتھ مل کر انجام دیں گے۔ ہمارے افغانی شراکت داروں کے لیے ہم آپ کو ایک ایسے ملک کی تعمیر میں مدد دیں گے جو طالبان اور القاعدہ کے خوف سے آذاد ہو ایک ملک جس میں تمام شہری ایک دوسرے کے ساتھ امن چین سے رہ سکتے ہوں اور اپنے اور اپنے گھرانے کی کفالت کر سکتے ہوں۔ میں آپ میں سے ہر ایک کو آپ کی جرأت اور افغانستان اور افغانی لوگوں کے لیے آپ کے جذبوں کو سلام کرتا ہوں۔ میں نے کل صدر حامد کرزئی کو بتایا کہ میں اُن کے سب کو ساتھ لے کر چلنے شفّافیت ایمانداری اور جواب دہی کے عہد کو سراہتا ہوں۔ اب جبکہ ہم اپنے مشترک مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں، میں ان کے قول کو حقیقت میں بدلنے کے لیے آپ میں سے ہر ایک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہوں۔ افغانستان میں کچھ بھی آسان نہیں رہا ہے تاہم جو کچھ پیش رفت سکیورٹی کے محاذ پر اور اس سے آگے بڑھ کر ہوئی ہے اس سے ہم سب کو حوصلہ ملتا ہیں۔ بیشک دس سال پیشتر کےمقابلے میں جب دس لاکھ سے کم افغانی بچے اسکول میں تھے اب ستر لاکھ اسکول میں ہیں۔ بچوں کو بیماریوں کے خلاف حفاظتی دوائیں دینے کی ملک گیر شرح اب 70 سے 90 فی صد کے لگ بھگ ہے۔ اس ملک میں جہاں طالبان کے زمانے میں موبائل فون تقریباً ناپید تھے اب یہ ہر جگہ موجود ہیں، اگرچہ طالبان اس کے استعمال کو روکنا چاہتے ہیں۔ کابل ایک پر رونق، مصروف شہر ہے۔ ایسے ہی ہرات، مزار شریف اور جلال آباد مصروف شہر ہیں۔ سڑکیں، پل اور دوسرے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کر دی گئ ہے اور اگر ہم ان لوگوں کی مزاحمت کر سکیں جو افغانستان میں ترقی کی راہ میں آگے بڑھنے کی بجاۓ وقت کو پیچھے دکھیلنا چاہتے ہیں تو مستقبل اس سے بھی زیادہ تابناک ہو سکتا ہے. اپنے وردی میں ملبوس بہت سے افغانی شراکت داروں سے جو اس صبح پمارے ساتھ شامل ہیں: آپ کی زبردست جراَت اور عزم کا شکریہ۔ آپ اور آپ کے رفقاء نے ترقی کے بڑے مدارج طے کیے ہیں جو کارنامے آپ نے انجام دیۓ ہیں ان پر آپ کو فخر ہونا چاہیۓ۔ بیشک افغانی فورسز اب کابل اور متعدد دوسرے علاقوں میں قیادت کر رہی ہیں۔ ایسے واقعات میں افغانی یونٹس ہی وہ فورسز ہیں جن کی مدد کی جا رہی ہے، جو یقیناً ایساف کے تعاون سے کاوائیاں کر رہے ہیں، مگر یہ اس وقت قیادت کی ذمہ داریاں بھی نبھا رہے ہیں۔ جیسے جیسے آپ کی تعداد بڑھتی جاۓ گی اور آپ افغان عوام کو محفوظ بنانے کی بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کو سنبھالتے جائیں گے، ایساف فورسز آپ کے ساتھ شراکت جاری رکھیں گی۔ آپ کے ساتھ مل کر خدمت انجام دینا ہمارے لۓ باعث ِ اعزاز ہے۔ آخر میں افغانستان کے عوام: آپ کے ملک میں آنا اور ایساف کی قیادت کرنا ایک عظیم اعزاز ہے۔ ہمارے ملک کے متعدد رہنماؤں نے حال ہی میں جو وعدے کۓ ہیں میں ان پر زور دیتے ہوۓ کہنا چاہتا ہوں – کہ افغانستان میں ہماری ذمہ داری دیرپا ہیں اور ہم ایک لمبی مدت کے لۓ اس ملک کے عوام کی مدد کے لۓ ان تھک جدوجہد کے وعدے پر قاںم ہیں۔ اس پر نہ آپ نہ باغی اور نہ ہی ہمارے شراکت داروں کو کوِئی شبہ ہونا چاہیۓ۔ یقناً وقت کے ساتھ ہمارے کام کی نوعیت بدل جائیگی۔ بلا شبہ افغانی اور ایساف ممالک کے شہری اُس دن کے منتظر ہیں جب حالات مزید معاملات کو افغانی فورسز کے حوالے کرنے کی اجازت دیں گے۔ اس دوران ایساف میں ہم سب تشدد پسندوں کے خلاف جنہوں نے اپنے دورِ حکومت میں القاعدہ کو محفظ پناہ گاہیں بنانے کی اجازت دی تھی قوم کی حفاظت کرنے میں آپ کی مدد کا عہد کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں، ہم افغانستان کے معصوم عوام کو ہر قسم کے تشدد سے حفاظت فراہم کرنے کو ایک مقدس فریضہ سمجھتے ہیں خواہ وہ دشمن کی طرف سے دانستہ کیا گیا ہو، یا نا دانستہ ہم میں سےان لوگوں سے سرزرد ہو جاۓ جو اس دشمن کے تعاقب میں ہیں اور جب ہم سب مل کر نئے افغانستان کے دسشمنوں کو شکست دینے اور آپ اور آپ کے خاندانوں کے لۓ ایک یہتر مستقبل کی تعمیر کے لۓ کام کر رہے ہیں، ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم اس جد و جہد میں ساتھ مل کر کام کر کے ہی کامیاب ہو سکتے ہیں۔ آپ سب کے ساتھ اور اُن کے ساتھ کام کرنا جن کی آپ نمائندگی کرتے ہیں میرے لۓ ایک اعزاز کی بات ہے۔ افغانستان کے لۓ آپ کی وابستگی اور ہمیں درپیش مشکلات کا ہمت سے مقابلہ کرنے کا شکریہ۔ [مقای زبان میں اور پھر انگریزی میں] آپ کا بہت شکریہ۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















