صفحہ اول | خبریں | خبریں | سابق باغیوں کو باضابطہ طور پر افغان امن اور معاشرے میں یکجہتی کے پروگرام میں شامل کیا گیا
سابق باغیوں کو باضابطہ طور پر افغان امن اور معاشرے میں یکجہتی کے پروگرام میں شامل کیا گیا
منجانب , ISAF Regional Command South
120108_pr1
سابقہ باغی مقامی میڈیا سے معاشرے میں دوبارہ شامل ہونے کے بارے میں اپنی نیتوں کا اظہار کر رہے ہیں۔ (امیج منجانب کارپورل ریمنڈ وینس)

قندھار فصائیہ فیلڈ، افغانستان (8 فروری، 2012) - بارہ سابق باغیوں نے اس ہفتے امن کی راہ پر چلنے کا فیصلہ کیا اور باضابطہ طور پر ترین کوٹ، ارزگان صوبے میں صوبائی گورنر کے کمپاؤنڈ میں افغان امن اور معاشرے میں یکجہتی کے پروگرام (اے-پی-آر-پی) میں شامل ہوۓ۔

ایک بڑی تعداد میں ذرائع ابلاغ کے سامنے ان افراد کا ارزگان کے گورنر محمد عمر شیرزاد کی قیادت میں ایک سرکاری پارٹی کی طرف سے استقبال کیا گیا۔

اے-پی-آر-پی افغان حکومت کی امن و سلامتی کو پہل دینے میں ایک پیش قدمی جو فغانوں نے دوسرے افغانوں کے لیے اسے تجویز کیا اور اگے بڑھایا۔  یہ پروگرام باغیوں کے لئے رضاکارانہ طور پر جنگ ترک کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے تاکہ وہ عزت اور وقار کے ساتھ اپنی کمیونٹیز میں واپس آ سکیں۔ ارزگان صوبے میں قیام امن کی راہ انتخاب کرنے والے سابق باغیوں نے گزشتہ سال کے آخرمیں بہت ہمت کا مظاہرہ کیا جب انھوں نے اپنے طور پر شورش پسندوں کے لیڈروں کے احکامات نہ مانتے ہوۓ، آئی-ای-ڈی کے بچھانے کی یا صوبے ارزگان میں واقع وادی میں اپنے گھروں کے قریب مجرمانہ احکامات کی پیروی کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد اسلامی جمہوریہ افغانستان کی جائز حکومت (جی-آئی-آر-او-اے)  کے نمائندوں کے ساتھ ایک تعمیری بات چیت ہوئی اور پھر اس کے نتیجے میں اس ہفتے سابق دشمنوں نے ترین کوٹ میںایک دوسرے کو دوستانہ طریقے سے گلے لگایا اور امن کا عہد کیا۔

گورنر شیرزاد نے ان بحال شدہ لوگوں کے مثبت اعمال کی تعریف کی اور کہا کہ دوسروں کے لئے بھی پروگرام میں شامل ہونے کا راستہ کھلا تھا۔

جو حکومت کے ساتھ دوبارہ اتحاد میں دلچسپی رکھتے ہیں ان کے لئے ہمارے دروازے کھلے ہیں- افغانستان نیشنل سیکورٹی فورسز یا اتحادی افواج پروگرام میں شامل ہونے پر سوچنے والوں کو تنگ نہیں کیا جائے گا۔ گورنر شیرزاد نے کہا۔ ان جذبات کی عکاسی ایک سابق باغی کمانڈر نے بھی کی جنہوں نے اس ہفتے اپنے ہتھیار پھینک دیۓ۔ انہوں نے کہا  کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے تمام لوگ یہاں آئیں اور اس امن کی پیش قدمی میں شامل ہوں۔  اس نئی شروعات کی علامت کے طور پر اور احترام کے ایک نشان کے طور پر، تمام سابق باغیوں کو نئی روائیتی لُنگی اور قرآن کریم باضابطہ طور پر صوبائی چیف جسٹس مولوی محمد جان سمیت معزز عمائدین اور حکومت کے حکام کی جانب سے پیش کیا گیا۔ اب جب کہ معاشرے سے دوبارہ یکجاہ ہونے کے امیدوار باضابطہ طور پر اے-پی-آر-پی کی جانب سے قبول کر لیۓ گۓ ہیں وہ  رسمی طور پر باغی گروہوں کے ساتھ تمام تعلقات اور دوسروں پر تشدد ختم کرنے، اور افغانستان کے آئین کا احترام کرنے کے لئے عہد اٹھائیں گے۔

 تمام افغانستان میں 3000 سے زائد باغیوں نے اس امن کے پروگرام میں شمولیت اختیار کی ہے۔

 

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
33,151+