صفحہ اول | خبریں | پریس ریلیس | سابقہ قیدیوں کی پروان شوری کے دوران رہائی
سابقہ قیدیوں کی پروان شوری کے دوران رہائی
منجانب Sgt. Jason Boyd, Combined Joint Interagency Task Force 435

صوبہ پروان، افغانستان 4 نومبر، 2010 –4 نومبر کو اپنے پرامن زندگی گزارنے کے عہد کی تصدیق کرنے کے بعد دو سابقہ قیدی پروان کے قید خانے سے رہا کر دیۓ گۓ اور شوری' کے دوران قیدیوں کی رہائی کی گئی اور ان کے خاندانوں اور قبائلی معززین نے ان کو معاشرے میں دوبارہ خوش آمدید کہا۔

افغان قیادت میں چلنے والا قیدیوں کی رہائی کا یہ پروگرام جس کا نفاذ جنوری 2010 کو ہوا تھا افغان معاشرے میں ان کی دوبارہ بحالی کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ جب سے یہ پروگرام شروع ہوا ہے 200 سے زاید قیدی رہا کر دیۓ گۓ ہیں۔

افغان قومی فوج کے میجر جنرل مرجان شجاع جو کہ مشترکہ انٹر ایجنسی ٹاسک فورس 435 کے افغان ڈپٹی کمانڈر ہیں نے شوری کی صدارت کی۔

دفاع کے نائب وزیرعنائت اللہ ناظری نے شوری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خدا آپ کو اپنے خاندانوں اور گاؤں میں واپس جانے میں مدد کرے اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ مستقبل میں بھی اپنے پر امن طرز زندگی کو جاری رکھیں گے۔ یہ ان مردوں کے لیۓ ایک عظیم دن ہے اور یہ اپنے گھروں میں اپنے خاندانوں کی طرف لوٹ رہے ہیں اور میں یہ جانتا ہوں کہ ان کی مستقبل کی زندگی بہتر ہو گی۔

پروان کے قید خانے میں لاۓ گۓ قیدی کو علمی اور فنی تربیت میں حصہ لینے کا موقع دیا جاتا ہے۔ بحالی کے اس تربیتی پروگرام میں ان کوانگریزی، پشتو، درزی گری، زراعت اور روٹی بنانے کے کورس پیش کیۓ جاتے ہیں۔ ڈی ایے آئی پی میں اپنی آمد پر قیدیوں سے فنی انٹرویو کیا جاتا ہے تاکہ ان کی علمی قابلیت کا اندازہ لگایا جا سکے اور اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ بحالی کی کون سی کلاسیں قیدیوں کے لیۓ فائدہ مند ہو سکتی ہیں۔

سی جے آئی اے ٹی ایف-435، اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت اور امریکی انٹر ایجنسی اور بین الاقوامی ساتھیوں کے ساتھ مل کر قید خانے کی کاروائیاں، بحالی کی کاروائیاں اور عدالتی سیکٹر اور بائیو میٹرکس کے کام کرتے ہیں۔ اگر حالات نے اجازت دی تو سی جے آئی اے ٹی ایف-435 قید خانے کی کاروائیوں کو قانون کی بالادستی کے طریقہ کار کو بڑھاتے ہوۓ افغان کنٹرول میں دے دیں گے۔

46ویں ملٹری پولیس کمانڈ، ٹاسک فورس پیس کیپر، سی جے آئی اے ٹی ایف-435 کے ماتحت کمانڈ ڈی ایف آئی پی کی تمام کاروائیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ ٹاسک فورس محفوظ اور ہمدرد قید، قید خانے میں موجود قیدیوں کے کنٹرول اور ان کی دیکھ بھال کو یقینی بناتی ہے۔ ان کی کوششیں افغان نیشنل آرمی کے فوجیوں کو قید خانے کو چلانے کی ذمہ داری اپنے ہم عصر امریکیوں سے سنبھالنے کے قابل بنائیں گیں۔

96ویں ملٹری پولیس بٹالین، ٹاسک فورس سپارٹن افغان فوجیوں کو قید خانے کی کاروائیوں کے لیۓ تربیت دیتی ہے اور لسانی مشکلات پر قابو پانے کے لیۓ ترجمان فراہم کرتی ہے۔

ڈی ایف آئی پی، ایک جدید قید کی سہولت ہے جو کہ بگرام ائیر فیلڈ سے کافی کلو میٹر دور ہے اور ستمبر 2009 میں مکمل کی گئی تھی اور جس میں قیدی دسمبر 2009 میں آۓ تھے۔ ڈی ایف آئی پی جدید ترین طبی سہولت، فیملی ویزییٹیشن سنٹر، فنی اور علمی کلاسوں کی سہولت سے لیس ہے۔ ڈی ایف آئی پی کا ڈیزائین ڈی  قیدیوں کی دوبارہ بحالی کی کوششوں کی گنجائش رکھتا ہے اور سی جے آئی اے ٹی ایف-435 کو قیدیوں کی کاروائیوں کوافغانستان میں شدت پسند بغاوت کے خلاف مجموعی طریقہ کار کے مطابق رکھنے کے قابل کرتا ہے۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
33,151+