| مشترکہ بحریہ فورسز کے بحری جہازنے قزاقوں کا حملہ روک دیا |
منجانب , Combined Maritime Forces
خلیج عدن (28 اکتوبر ، 2010) – ایچ ٹی ایم ایس سمیلیلان کی بورڈنگ ٹیم 28 اکتوبر، 2010 کی صبح کو ایم وی ہیلی سپونٹ پروٹیکٹر پر قزاقوں کے حملے کی کوشش میں ملوث مشتبہ کشتی کی تفتیش کر رہے ہیں۔ ایم وی ہیلی سپونٹ پروٹیکٹر نے بہترین انتظانیہ ردعمل کے طریقہ کار کے مطابق اپنی رفتار تیز کر کے خود کو کشتی سے بچا لیا۔ (فوٹو کمبائینڈ میری ٹائیم فورسز)
خلیج عدن 1 نومبر، 2010 – 28 اکتوبر، 2010 کی صبح کو ٹینکر ایم وی ہیلی سپونٹ پروٹیکٹر پر خلیج عدن میں مشتبہ قزاقوں کی کشتی نے حملہ کر دیا۔ لائیبیریا کے جھنڈے والا یہ تجارتی جہاز بین الاقوامی مشاورتی سفری کاریڈور (آئی آر ٹی سی) سے گزر رہا تھا جب اس پر مشتبہ قزاقوں کا حملہ ہوا، جنہوں نے جہاز پر اے کے -47 اسالٹ رائفلوں سے جہاز پر گولیاں چلانی شروع کر دیں۔ علاقے میں اتحادی بحری موجودگی کی وجہ سے ایچ ٹی ایم ایس سمیلیلان رائل تھائی بحریہ قریب ہی مدد کے لیۓ موجود تھا۔ اس فوسو کلاس کی لبریزی کشتی نے جو کہ اس وقت مشترکہ ٹاسک فورس 151 کی مدد کو رہا تھی فوراً کشتی کی تفتیش کے لیۓ ہیلی کاپٹر بھیجا۔ ایم وی ہیلی سپونٹ پروٹیکٹر کی بڑھتی ہوئی رفتار کی وجہ سے مشتبہ قزاق اس تجارتی جہاز کا پیچھا کرنے کے قابل نہ تھے اور انھوں نے اس کا پیچھا چھوڑ دیا، اپنے ہتھیار پانی میں پھینک دیۓ اور بھاگنے کی کوشش کی۔ چند ہی منٹوں کے اندر، ایچ ٹی ایم ایس سمیلیلان ٹیم نے کشتی کو پکڑ لیا۔ اس کو ریکارڈ میں لاتے ہوۓ کشتی کو واپس صومالیہ کے ساحل پر دھکیل دیا گیا اور مشتبہ قزاقوں کی کاروائی تنبیہ علاقے کی تمام مچھلیاں پکڑنے والی کشتیوں اور تجارتی جہازوں کو بھیج دی گئی۔ مشترکہ ٹاسک فورس 151 (سی ٹی ایف) کے کمانڈر، ترکی کے رئیر ایڈمرل سنان ارتغرل نے کہا کہ ایم وی ہیلی سپونٹ پروٹیکٹر نے اپنی رفتار بڑھانے کا درست قدم اٹھایا، جو کہ قزاقوں کے خلاف بہترین انتظامیہ کے ردعمل میں بتایا گیا ہے۔ ایچ ٹی ایم ایس سمیلیلان نے ایک دفعہ پھر یہ ثابت کر دکھایا کہ علاقے میں موجود اتحادی فورسز کسی بھی قسم کی فوری حالات سے نمٹنے کے لیۓ ہم دم تیار اور قابل ہیں۔ ہم اس علاقے کے پانی میں گزرتے ہوۓ تمام قانونی مسافروں کو بحری تحفظ فراہم کرتے ہوۓ درست اور قانونی طور پر بہتری کے لیۓ موجود ہیں۔ سی ٹی ای-151 کا قیام جنوری 2009 میں مختلف اقوامی قزاقی کے خلاف ٹاسک فورس کے طور پر عمل پذیر ہوا تھا۔ نیٹو اور ای یو بحریہ فورسز (ای یو این اے وی ایف او آر) کے علاوہ، سی ٹی ای-151 کے بحری جہاز صومالی بیسن اور خلیج عدن کے آئی آر ٹی سی میں گشت کرتے ہیں۔ سی ٹی ای-151 بہترین انتظامیہ ردعمل کے طریقہ کاروں کو بڑھاوا دیتے ہیں جس کو بحری جہازوں کے کاروبار سے منسلک لوگوں کو قزاقوں سے بچنے کے لیۓ پیش کیا جاتا ہے۔ سی ٹی ای-151 ان تین کاروائیوں میں سے ایک ہے جو مشترکہ بحریہ فورسز(سی ایم ایف) کرتی ہیں، جس میں گلوبل میری ٹائیم شراکت، مشرق وسطی کے 5۔2 کروڑ مربع میل (5۔6 ملین مربع کلو میٹر) بین الاقوامی پانیوں میں تحفظ اور کامیابی کو بڑھانا شامل ہیں۔ سی ایم ایف بنیادی طور پر دہشت گردی کے خلاف، قزاقی کو روکنے غیر قانونی کاروائیوں کو کم کرنے اور محفوظ بحری ماحول کے فروغ پر مرکوز ہے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















