صفحہ اول | خبریں | پریس ریلیس | بحرین نے مشترکہ ٹاسک فورس 152 کی کمان سنبھال لی
بحرین نے مشترکہ ٹاسک فورس 152 کی کمان سنبھال لی
منجانب , Combined Maritime Forces
110106-N-2893B-036
6 جنوری، منیٰ سلمان پیر، بحرین، کویت بحری فورس کے بریگیڈیئر جنرل جسیم الانصاری، بائیں، کمانی ٹاسک فورس، سی ٹی ایف 52 کی کمان میں تبدیلی کی تقریب کے دوران اپنے پیشرو رائل بحرین بحری فورس کے کرنل عیسیٰ الدوسری سے مصافحہ کر رہے ہیں۔امریکی بحری فوٹو، مواصلاتی سپیشلسٹ پہلی کلاس ایرک برائون/جاری کردہ

کویت بحریہ فورس کے بریگیڈیئر جنرل جسیم الانصاری کی جگہ رائل بحرین بحریہ فورس کے کرنل عیسیٰ الدوسری کمانڈر مقرر ہوئے۔

سی ٹی ایف 152 علاقے کی دیگر ریاستوں کے تعاون سے خلیج عرب میں کام کرتی ہے اور علاقے کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں کو ناکام اور سمندری سفر کو زیادہ محفوظ بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ ٹاسک فورس کی جانب سے کاموں میں انسدادِ دہشتگردی، سمندری انفرسٹرکچر کی حفاظت اور میری ٹائم شراکت داروں کو اس میں شامل کرنا ہے۔

سی ٹی ایف 152 کی کمانڈ قبول کرنے کے بعد الدوسری نے کہا کہ بحرین کو دوسری مرتبہ سی ٹی ایف 152 کی کمان سنبھالنے پر فخر ہے۔ ایک جزیرہ ریاست ہونے کے ناطے ہم سمندر کی اہمیت کو سمجھتے ہیں چاہے وہ تجارت کے لیے ہو، دفاع کے لیے یا سفر کے لیے۔ خلیج عرب دنیا کے چند اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے اور عالمی تجارت اور عالمی معیشت میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ لہذا، ان پانیوں کا پُر امن ہونا نہ صرف خلیجی ریاستوں بلکہ مجموعی طور پر بین الاقوامی برادری کے لیے بھی اہم ہے۔

گزشتہ چھ ماہ کا حوالہ دیتے ہوئے الانصاری نے کہا کہ کویت نے پہلی مرتبہ سی ٹی ایف ٹاسک فورس کی کمانڈ سنبھالی تھی۔ اس عرصے میں ہم نے روزمرہ کے سمندری سکیورٹی آپریشنز کے معمولات کے تحت خلیج عرب کی حفاظت میں اہم کامیابیاں حاصل کیں ہیں۔ طویل مدت کے لیے مشقوں اور ارتقا کے عمل سے ہم نے خلیجی ریاستوں اور عالمی برادری کے مل جُل کر کام کرنے کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سی ٹی ایف 152 مستقبل میں کسی بھی قسم کے مشکل حالات سے نپٹنے کی بہتر پوزیشن میں آ چکی ہے۔

کویت نے 9 مئی 2010 کو متحدہ عرب امارات سے سی ٹی ایف 152 کی کمانڈ لی تھی۔ کویت کے عرصہ کمانڈ کے دوران کرنل عبدالدشتی نے بھی سی ٹی ایف 152 کی کمان سنبھالے رکھی۔ متبادل قیادت سے دو بڑے افسران کو ملٹی نیشنل ٹاسک فورس چلانے کا قیمتی تجربہ حاصل ہوا۔

خلیج عرب میں روزمرہ کے سمندری سکیورٹی کاروائی کے ساتھ ساتھ کویت کے عرصہ کمانڈ کے دوران بڑے پیمانے پر تین ارتقائی اقدامات بھی کیے گئے جن کا مقصد کمانڈ اور کنٹرول کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا، مشترکہ منصوبہ بندی کو تقویت دینا اور علاقائی ممالک اور بین الاقوامی ساتھیوں کے درمیان تعاون کوبڑھانا تھا۔ ان میں شامل سٹیک نیٹ، جس میں سمندری تنصیبات کی حفاظت پر توجہ دی گئی، گول کیپر، جس میں مختلف بحری کاروائیوں کے مرکزوں میں معلومات کے زیادہ تیز بہاو پر توجہ دی گئی اور خلیج کی بحالی جس میں قدرتی یا انسان کی مصیبت یا بحران جیسے کہ سمندر میں طبی بحران، حادثہ یا تیل کے بہاو کی صورت میں متاثرہ ملک، اتحادی اور امریکی صلاحیتوں کے درمیان رابطے پر توجہ دی گئی، یہ سب شامل تھے۔

سی ٹی ایف 152 ایک کثیر ملکی ٹاسک فورس ہے جس میں کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات، فرانس، نیوزی لینڈ، اٹلی، آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔

یہ ان تین ٹاسک فورسز میں سے ایک ہے جو مشترکہ سمندری فورسز [سی ایم ایف]، 25 ممالک پر مشتمل ایک اتحادی جس کا مرکزی دفتر بحرین میں ہے کے تحت کام کرتی ہیں۔ سی ایم ایف کے یونٹ مشرقِ وسطیٰ کے 2.5 کروڑ مربع میل بین الاقوامی پانیوں، جن میں دنیا کے چند اہم ترین سمندری راستے بھی شامل ہیں میں امن و امان اور استحکام کے فروغ کے لیے کام کرتی ہے۔ اس کی زیادہ توجہ دہشتگردی کو شکست، قذاقی کا تدارک، علاقائی کا تعاون کا فروغ اور سمندری ماحول کو زیادہ محفوظ بنانا ہے۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
33,161+