Combined Joint Interagency Task Force-435
| افغان قومی فوج کے فوجیوں نے ڈی ایف آئی پی کی منتقلی کے اقدامات کے دوران مذید ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ |
|
منجانب , JTF 435 صوبہ پروان، افغانستان (یکم اکتوبر،2010) – جب یکم اکتوبر کو افغان قومی فوجی پولیس کے فوجیوں نے جو کہ پروان کے امریکی قید خانے میں کام کر رہے تھے نوکری پر حاضری دی تو یہ ان کے ملک کی اس عمارت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی ترقی میں ایک اوراہم سنگ میل بن گیا۔ آج کے افغان قومی فوج یعنی کہ اے این اے کے فوجیوں نے چار میں سے اس جدید ترین قید خانے کے ایک رہائشی یونٹ کی ذیادہ تر ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ افغان فوج کی ڈی ایف آئی پی کی اس سال کے شروع میں افغان اور امریکی حکومت کے درمیان دستخط کیۓ گۓ معاہدے کے مطابق قیادت سنبھالنے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ اے این اے بریگیڈئر جنرل سیف اللہ سیف پروان اور پولی چکری فوجی پولیس بریگیڈ کے کمانڈنگ جنرل نے اپنے ان فوجیوں سے جو ڈی ایچ یو میں اپنی شفٹ کی تیاری کر رہے تھے کہا کہ ہمیں یہ لازمی ثابت کرنا ہے کہ ہم یہ کسی مدد کے بغیر کر سکتے ہیں۔ یہ آج آپ کا امتحان ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ یہ امتحان پاس کریں۔ آپ مدد اور اپنی تربیت کی وجہ سے اپنے تمام کام سر انجام دے پائیں گے۔ افغان حکومت کے افسران نے باہمی اعتماد کی ایک یاداشت پر 9 جنوری، 2010 کو دستخط کیۓ جو کہ وزارت دفاع کی پروان میں قید خانے کی ذمہ داریاں سنبھالنے میں رہنمائی کرتی ہے۔ اس یاداشت میں اہم وزارتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ اس منتقلی کے عمل میں قید خانے میں عملہ بھرتی کرنے کے لیۓ امریکی عملے کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیۓ اپنے عملے کی شناخت اور فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔ اس معاہدے کے مطابق اے این اے عمارت کو چلانے کے لیۓ عملے اور گارڈ فورس اور صدر دفتر کے عملے کے لیۓ وزارت انصاف، سپریم کورٹ، اٹارنی جنرل کے دفتر، سیکیوریٹی کے قومی ڈائیریکٹوریٹ اور دفتر داخلہ کے ساتھ مل کر ان کی تربیت، سامان اور ضروریات فراہم کریں گے۔ افغان قومی فوج کے پہلے کوہورٹ فوجیوں نے اپنی تربیت اپریل میں کابل میں کیمپ دارالامان میں اے این اے ملٹری پولیس سکول میں شروع کی جہاں انہوں نے اصلاحات کی بنیادی کاروائیاں اور انفرادی مہارتیں سیکھیں۔ مئی میں کوہورٹ 1 پروان میں اے این اے کی نظام فوج کی کاروائیوں کے لیۓ جدید انفرادی تربیتی پروگرام شروع کرنے کے لیۓ آۓ جو کہ اے این اے کے فوجیوں کو ڈی ایف آئی پی میں گارڈ کے طور پر کام کرنے کے لیۓ تیار کرتا ہے۔ سیف اللہ نے کہا کہ آج پہلا دن ہے کہ آپ خود مختاری سے کام کر رہے ہیں۔ تربیت ختم ہو گئی ہے اور اب ہم یہاں کام کرنے کے لیۓ آئے ہیں۔ یہ افغانستان کے لیۓ ایک عظیم دن ہے۔ اے این اے ڈی ایچ یو میں روز مرہ کے معمول کی کاروائیاں انجام دیں گے۔ ان کاموں میں نگرانی، سیل کے اندر غیر ممنوعہ اشیاء کی تلاش، قیدیوں کو ان کی ملاقاتوں تک لے کر جانا اور واپس لانا، تفریح کی نگرانی، روزانہ کی صفائی اور کھانے کے دوران کی نگرانی شامل ہیں۔ ڈی ایچ یو میں ذیادہ تر گارڈ اے این اے کے ہوں گے، امریکی فوجی کم تعداد میں اپنے افغان ہم عصروں کے ساتھ اس وقت تک موجود رہیں گے جب تک یہ منتقلی مکمل نہ ہو جاۓ۔ امریکی فوجی کرنل مائیکل وائیٹ ڈپٹی کمانڈر 46ویں فوجی پولیس کمانڈ/ٹاسک فورس پیس کیپر نے کہا کہ جب تک ہم باقاعدہ طور پر قید خانے کی کاروائیاں افغان حکومت کو منتقل نہ کر دیں ہم قیدیوں کی ذمہ داریاں برقرار رکھیں گے اس لیۓ امریکی فوجیوں کی موجودگی ضروری ہے۔ پیس کیپرجو کہ امریکی فوجی بریگیڈئیر جنرل مینڈی مرے، 46ویں فوجی پولیس کمانڈ کے تحت ہے ڈی ایف آئی پی کے قیدیوں کی کاروائیوں کی نگرانی فراہم کرتی ہے۔ وائیٹ نے مذید کہا کہ یہ ہمارے افغان حکومت کے ساتھ معاہدے کے مطابق ڈی ایف آئی پی کی مشروط منتقلی کی طرف ایک اہم قدم کی نمائیندگی کرتا ہے۔ اس باہمی تعاون کے مطلوبہ نتائیج ایک خودمختار افغان قومی قید خانے اور قانون کی بالادستی (اصلاحات) کے حامل ادارے ہیں جو افغان اور بین الاقوامی قوانین کے ماتحت ہوں۔ مشترکہ انٹرایجنسی ٹاسک فورس -435 افغان حکومت کے ساتھ قید خانے کی کاروائیوں کے ضمن میں مشیر کی حیثیت سے کام کرتی ہے تاکہ قید خانے کی کاروائیوں کی منتقلی افغان اور بین الاقوامی قوانین کے تحت کی جا سکے۔ ڈی ایف آئی پی کا ڈیزائین قیدیوں کی محفوظ، ہمدردانہ اور موثر انتظامیہ کو ممکن بنانے میں مدد دیتا ہے اور خواہشمند قیدیوں کو گروپ کی کاروائیوں میں حصہ لینے اور تعلیمی اور تربیتی پروگراموں میں حصہ لینے کی اجازت دیتا ہے۔ اس قید خانے میں جدید طبی سہولیات، عمارت کے اندر فیملی وزیٹیشن مرکز، وڈیو ٹیلی کانفرنسنگ کی سہولت، بڑے تفریحی علاقے، فنی- تکنیکی تربیت، تعلیمی کمرے اور بڑے قانونی کاموں کے لیۓ جگہ موجود ہے۔ منتقلی کے بعد، قید خانہ عظیم تر پروان جسٹس مرکز کا حصہ بن جاۓ گا جو کہ افغانستان میں مقدمے سے پہلے قید خانہ، ملزمان کے مقدمات اور ان لوگوں کے لیے جن سے ملک کو خطرہ ہے ایک مرکزی جگہ ہو گی۔ جے ٹی ایف -435 7 جون، 2010 کو افغانستان میں قیدیوں کی کاروائیوں کے لیۓ عمل میں آئی تھی۔ یہ یکم ستمبر کو سی جے آئی اے ٹی ایف -435 منتقل ہوئی تھی۔ سی جے آئی اے ٹی ایف -435 میں انٹر ایجنسی کے شراکت دار بھی شامل ہیں اور اس کی کمان امریکی بحریہ کے نائب ایڈمرل رابرٹ ہارورڈ کے ذمہ ہے۔ |
Detention Facility in Parwan Province, Afghanistan
تصویریں
Podcasts
There are no podcasts available at this time.








