Combined Joint Interagency Task Force-435
| افغانوں نے ڈی ایف آئی پی میں قیدیوں کے لیے دوسرے رہائشی یونٹ کی زیادہ تر ذمہ داریاں سنبھال لیں |
|
منجانب Sgt. Jason Boyd, Combined Joint Interagency Task Force 435 صوبہ پروان، افغانستان 2 نومبر، 2010 – افغان قومی فوج کے سپاہیوں نے پہلی نومبر کو پروان کے قید خانے میں قیدیوں کے دوسری رہائشی یونٹ کو چلانے کی اکثر ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ اس طرح ڈی ایف آئی پی کا نظم و نسق حکومتِ افغانستان کو منتقل کرنے کے لیے ایک اور اہم سنگِ میل حاصل کر لیا۔ قیدیوں کے رہائشی یونٹ کے نگران آفیسر،افغان قومی فوج کے کیپٹن احمد جواد نے کہا کہ میں محسوس کرتا ہوں کہ میرے تمام سپاہیوں کو اچھی تربیت دی گیٔ ہے اور یہ کہ ہم اپنے امریکی ہم منصبوں کی طرف سے قائم کردہ اعلیٰ معیار کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ میں نے پلِ چرخی میں پانچ سال کام کیا ہے اور اُس ساری تربیت نے جو میں نے یہاں پنہچنے کے بعد حاصل کی ہے، اس شاندار موقع سے پورا پورا فائدہ اُٹھانے میں میری مدد کی ہے- افغان قومی فوج کے سپاہیوں اور اُن کے ہم منصب امریکیوں نے ایک دوسرے کو سراہا۔ ہر ایک نے اے این اے کی جامع تربیت اور ضروری تجربہ فراہم کرنے پر اپنے ہم منصب امریکیوں کا شکریہ ادا کیا۔ اے این اے کے ایک سپاہی، عاقَل احمد نے کہا کہ جو تعلیم میں نے یہاں حاصل کی ہے میں اُس سے بہت خوش ہوں اور میرے امریکی ساتھیوں نے مجھے جو تربیت فراہم کی ہے اُس کی مدد سے میں اپنے روز مرّہ کے کام انجام دینے کے لیے تیار ہوں۔ بحریہ فوجی پولیس بٹالین ۔ افغانستان ٹاسک گروپ ٹراائیڈنٹ کی گارڈ فورس کے رکن امریکی بحریہ کے پیٹی آفیسر سیکنڈ کلاس جان فریمین نے کہا کہ افغانیوں نے اپنی تربیت مکمل کر لی ہے اور وہ نظم و نسق کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے بے تاب ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں (افغانیوں کو) قیدیوں کی زبان جاننے کا فائدہ بھی حاصل ہے جس سے ذمہ داریاں منتقل کرنے کی کوششوں میں مدد ملتی ہے۔ ٹاسک فورس سپارٹن کی 96ویں فوجی پولیس بٹالین قید خانے کے نظم و نسق چلانے کے لیے افغان فوجیوں کی تربیت کرتی ہے اور امریکی اور اے این اے کے سپاہیوں اور قیدیوں کے درمیان زبان کی رکاوٹوں کو دور کرنے کی ماہر لسانیات فراہم کرتی ہے۔ سی جے آئی اے ٹی ایف- 435 کمانڈ کی ماتحت، 46 ویں فوجی پولیس کمانڈ، ٹاسک فورس پیس کیپر، ڈی ایف آئی پی میں قید کے بارے میں تمام کاروائیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ ٹاسک فورس پروان کے قید خانے میں قیدیوں کی محفوظ اور ہمدردانہ حفاظت، نگرانی اور دیکھ بھال کو یقینی بناتی ہے۔ اُن کی کاوشیں افغان قومی فوج کے سپاہیوں کو اس قابل بنا رہی ہیں کہ وہ اپنے امریکی ہم منصبوں سے ذمہ داریاں سنبھال لیں اور اس قید خانے کو چلا سکیں گے۔ مشترکہ انٹر ایجنسی ٹاسک فورس 435، اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت اور امریکی انٹر ایجنسی اور بین الاقوامی شرکت داروں کے ساتھ مل کر قید خانوں، اصلاح کے مراکز، عدالتی معاملات اور بایومیٹرکس کے امور انجام دیتی ہے۔ بالآخر اگر حالات نے اجازت دی، سی جے آئی اے ٹی ایف- 435 قانون کی حکمرانی کو ترقی دیتےہوئے قید خانوں کا نظم و نسق افغانیوں کو منتقل کر دے گی۔ ڈی ایف آئی پی، بگرام ہوائی اڈّے سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع جدید ترین سہولیات سے لیس ایک قید خانہ ہے، جس کی تکمیل ستمبر 2009 میں ہوئی تھی اور قیدی دسمبر 2009 کے اواخر میں لائے گئے تھے۔ ڈی ایف آئی پی میں طبی سہولیات، عمارت کے اندر فیملی سے ملاقات کا مرکز، پیشہ ورانہ تربیت کی سہولتیں اور تعلیمی کمرے موجود ہیں۔ ڈی ایف آئی پی کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ وہ قیدیوں کو معاشرے میں دوبارہ شامل کرنے کی کوششوں میں مدد کرتا ہے اور جے آئی اے ٹی ایف- 435 کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ قیدیوں کے متعلق کاروائیوں کو افغانستان میں پُرتشدد بغاوت کو شکست دینے کی حکمتِ عملی کے ساتھ بہتر طور پر ہم آہنگ رکھیں۔ |
Detention Facility in Parwan Province, Afghanistan
تصویریں
Podcasts
There are no podcasts available at this time.








