Combined Joint Interagency Task Force-435
| افغانی رہنماوں نے ہلمند شوری' میں 14 قیدیوں کی رہائی کے موقعے پر امن کی ضرورت پر زور دیا |
|
منجانب MCC (SW) Maria Yager, Combined Joint Interagency Task Force 435 صوبہ ہلمند، افغانستان 4 نومبر، 2010 – ہلمند کے صوبائی رہنما نے 3 نومبر کو حکومتی کمپاؤنڈ میں قیدیوں کی رہائی کی شوری' کے موقے پر اپنے معاشرے کے لوگوں کو امن اور صلح کی طلب میں شامل ہونے کو کہا۔ حاجی عبدالستار جو کہ ہلمند کے ڈپٹی گورنر ہیں نے ان مردوں کو معاشرے میں دوبارہ واپسی پر خوش آمدید کہتے ہوۓ کہا کہ کسی بھی اس شخص جس نے کچھ وقت قید میں گزارا ہو میں ان کے لیۓ دعا کرتا ہوں کہ وہ آئیندہ کوئی غلط کام نہیں کریں گے۔ اپنے ملک کے لیۓ بھلائی کیجیۓ۔ ستار نے ان کو بھی جو ابھی بھی حکومت کے خلاف نبرد آزما ہیں کو افغانستان میں امن کے قیام کے لیۓ ان کے ساتھ شامل ہونے کی دعوت دی۔ ستار نے کہا کہ اپنی بندوقوں کو نیچے رکھ دیں اور اس سلسلے میں ہمارے ساتھ آن ملیں۔ کُچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ چونکہ یہاں غیر ملکی موجود ہیں یہ وقت جہاد کا ہے، لیکن غیر ملکی یہاں معصوم لوگوں کو قتل کرنے نہیں آۓ ہیں۔ وہ یہاں لوگوں کو محفوظ افغانستان کے قیام کے لیۓ مدد دینے کو آۓ ہیں۔ آئیے اور ہمارے ساتھ بہتر افغانستان کے قیام کے لیۓ مل جائیے۔ چودہ افراد جو کہ پروان کے قید خانے سے رہائی پا کر آۓ تھے انکو شوری' کے دوران قبیلے کے بزرگوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ قیدیوں کی رہائی کا یہ افغان پروگرام افغان معاشرے میں ان کی دوبارہ بحالی کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ مقامی رہنماوں نے شوری' کے موقعے پر ان افراد کی رہائی کے لیۓ رہا شدہ قیدیوں پر نظر رکھنے کے وعدے کے ساتھ ضمانتی بیانات پر دستخط کیۓ ہیں کہ وہ ان کی معاشرے میں واپسی پر ان کو سہارا دیں گے اور ان کے کردار پر نظر رکھیں گے۔ افغان قومی فوج کے میجر جنرل مرجان شجاع جو کہ مشترکہ انٹر ایجنسی ٹاسک فورس 435 کے افغان کمانڈر ہیں اُنھوں نے شوری کی صدارت کی اور سابقہ قیدیوں کو خوش اور پر امن زندگی گزارنے پر اُکسایا۔ مرجان نے کہا کہ میں امید اور دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے لیۓ، اپنے خاندانوں کے لیۓ اور اپنے ملک کے لیۓ بھلائی کریں گے۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ وہ اس ملک کے لوگوں کے خلاف کچھ کرنے کا نہیں سوچیں گے۔ اگر حالات اجازت دیں تو جنرل اور ان کا عملہ سی جے آئی اے ٹی ایف-435 کی حیثیت سے امریکی افسران کے ساتھ مل کر قیدیوں کی تمام کاروائیوں کو افغان کے کنٹرول میں دینے کے لیۓ کام کریں گے۔ یہ منتقلی 9 جنوری، 2010 کے طے شدہ معاہدے کی یاداشت کے مطابق ہو گی جس پر افغان وزارت دفاع، وزارت انصاف، سپریم کورٹ، اٹارنی جنرل کے دفتر، قومی ڈائریکٹور آف سیکیوریٹی اور وزارت داخلہ نےدستخط کر دیے ہیں۔ پچھلے گیارہ مہینوں میں 500 سے ذاید افغان قومی فوج کے فوجیوں نے تربیت مکمل کی اور ڈی ایف آئی پی میں گارڈ فورس میں شمولیت اختیار کی۔ قید خانے میں قیدیوں کے چار میں سے دو رہائشی یونٹ اب امریکہ کی نگرانی میں اے این اے کے زیر انتظام ہیں۔ منتقلی کے بعد، قید حانہ پروان کے وسیع تر قانونی مرکز کا حصہ ہو گا، جو کہ قومی سیکیوریٹی کے ملزموں کے لۓ افغانستان کی قبل از مقدمہ کی مرکزی جگہ ہو گی اور یہ مقدموں کے دوران اور مقدموں کے بعد قید خانے کے طور پر کام کرے گا۔ ڈی ایے آئی پی قیدیوں کی دوبارہ بحالی کی کوششوں کی گنجائش رکھتا ہے اور سی جے آئی اے ٹی ایف-435 کو قیدیوں کی کاروائیوں کو شدت پسند بغاوت کے خلاف مجموعی طریقہ کار کے مطابق رکھنے کے قابل کرتا ہے۔ اہل قیدی علمی اور فنی تربیت میں ڈی ایے آئی پی حصہ لیتی ہے جو کہ ان کو وہ مہارتیں مہیا کرتی ہیں جو ان کو معاشرے کا دوبارہ حصہ بننے میں مدد دیں گی۔ فنی تربیت میں درزی گری، زراعت اور بنکاری شامل ہیں۔ جنوری سے اس کے نفاذ سے لے کر اب تک 250 سے ذیادہ مردوں نے قیدیوں کی رہائی کی شوری کے ذریعے معاشرے میں دوبارہ شمولیت اختیار کی۔ |
Detention Facility in Parwan Province, Afghanistan
تصویریں
Podcasts
There are no podcasts available at this time.








