صفحہ اول | خبریں | پریس ریلیس | افغان ایساف دستوں کا ہیلمند میں دہشت گردوں کے خلاف حملہ
افغان ایساف دستوں کا ہیلمند میں دہشت گردوں کے خلاف حملہ
منجانب , 3rd Marine Aircraft Wing

واشنگٹن (21 جون، 2010)  فوجی حکام کی رپورٹ کے مطابق افغان اور اتحادی فوجوں نے ہفتے کے اواخر میں افغانستان کے اردگرد کی بہت سی کارروائیوں کے دوران صوبہ ہیلمند میں باغیوں کی کارروائیوں پر دھاوا بول دیا۔

حکام نے بتایا کہ 19 جون کی رات کو ناد علی کے جنوب میں افغان افواج نے بین الاقوامی حفاظتی مددگار افواج کے شراکت داروں  (International Security Assistance Force partners)  کے ساتھ کام کرتے ہوئے باغیوں کی علاقے میں  حملوں میں مطابقت کرنے کی صلاحیت، ہتھیاروں کی ترسیل اور بم بنانے کے مواد کی روک تھام کیلیے کارروائی کی۔

ایک کمپاؤنڈ جس مِں ایک طالبان باغی اور شریکہ مقیم تھے، اس کا محاصرہ کرنے کے بعد افغان خصوصی پولیس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کمپاؤنڈ کے تمام مکین حفاظت کے ساتھ نکل جائیں۔ متعدد خواتین اور بچوں کی حفاظت کی گئی اور متعدد مردوں کو روک لیا گیا جن کے پاس حملہ آور ہتھیار اور افیم کی غیر مبینہ مقدار تھی۔ روکے گئے لوگوں میں سے دو کی یقینی طور پر طالبان کمانڈروں کی حیثیت میںشناخت کی گئی جنہوں نے ناد علی میں متعدد حملے اور انکی منصوبہ بندی کی تھی اور اسی علاقے میں ہتھیار فراہم کیے تھے۔

اسی رات ایک دوسری کارروائی میں ایک افغان بین الاقوامی حفاظتی دستے نے طالبان کمانڈروں کو ڈھونڈتے ہوئے جو صوبے کے مغربی حصوں میں باغیانہ کارروائیوں کے ذمہ دار ہیں صوبہ قندھار میں متعدد مشتبہ باغیوں کو اپنی حراست میں لیا۔ حفاظتی افواج نے صوبے کے پنجوائی ضلعے کے ایک کمپاؤنڈ کی تلاشی کے دوران مردوں کو حراست میں لیا اور 45 پاؤنڈ کی گیلی افیم کا ایک تھیلہ بھی برآمد کیا۔

حکام نے بتایا کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی اور تلاشی کے دوران موجودہ عورتوں اور بچوں کی مشترکہ حفاظتی افواج نے حفاظت کی۔

مزید اسی رات کو ایک علیحدہ افغان-بین الاقوامی حفاظتی دستے نے حقانی دہشتگردی کےنیٹ ورک کے کمانڈر کو ڈھونڈتے ہوئے خوست صوبے کے صابری ضلعے میں متعدد مشکوک باغیوں کو گرفتار کر لیا۔ حفاظتی افواج نے اس کارروائی کے دوران گھروں میں بنے ہوئے متعدد بم برآمد کیے اور انکو ناکارہ بنایا۔ تلاشی کے دوران عورتوں اور بچوں کی مشترکہ افواج نے مستقل حفاظت کی اور کمپاؤنڈز کو کوئی نقصان نہِں پہنچنے دیا۔ 

اسی رات لوگار صوبے کے باراکی باراک ضلعے میں ایک اور افغان بین الاقوامی حفاظتی دستے نے طالبان کے ایک نائب کمانڈر کو جو افغان اور اتحادی افواج پر بم مارنے اور راکٹ فائر کرنے میں ملوث تھا اس کو ڈھونڈتے ہوئے دو مشتبہ باغیوں کو حراست میں لیا۔ ادھر کوئی گولی نہیں چلائی گئی اور تلاشی کے دوران موجودہ عورتوں اور بچوں کی مشترکہ افواج نے حفاظت کی۔

حکام نے بتایا کہ افغان اور بین الاقوامی افواج نے خوست اور پاکٹیا صوبوں کی سرحدوں کے ساتھ ساتھ 19 جون کو رات بھر اور سارا دن حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں کیںـ خود حفاظتی اقدامات کے طور پر بڑی تعداد میں مسلح باغیوں کے خلاف محتاط ہوائی حملے کیے گئے ۔

ایساف کے حکام نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ ہمیں مقامی حکام کی طرف سے بتائی گئی شہری ہلاکتوں کی متصادم رپورٹوں کا علم ہے اور ہم مصروفیات کی کارروائیوں کی تفصیل پر نظر ثانی کررہے ہیں۔ ہمارا مقصد آبادیوں کی حفاظت کرنا ہے اور ہم  باغیوں کے خلاف اس سخت جنگ میں غیر ارادی طور پر شہریوں کو ضرر پہنچنے کی پوری ذمہ داری قبول کرینگے۔

حکام نے بتایا کہ اسی رات کے دوران ایک افغان - بین الاقوامی حفاظتی دستے نے طالبان کے ایک ضمنی کمانڈر کو کندوز صوبے کے چہار داراہ ضلعے میں متعدد باغیوں کے ہمراہ ہلاک کردیا۔ ملا عبد الرزاق صوبے کے پورے مشرقی حصے میں خود کش کارروائیوں کو چلانے کا ذمہ دار تھا اور طلاقوہ گاؤں میں طالبان کا فوجی کمانڈر تھا۔ افغان پولیس نے رزاق کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔ متعدد خفیہ رپورٹوں نے رزاق کو 16 جون کے ایک سر راہ بم دھماکے میںمشتبہ قرار دیا ہے جس میں دو امریکی سپاہی ہلاک ہو گئے تھے۔

حفاظتی دستے نے چہار داراہ ضلعے میں ایک کمپاؤنڈ کی تلاشی لی جسکے دوران ان پر خود کار ہتھیاروں اور گرینیڈ سے مسلح افراد نے فائرنگ کی۔ مشترکہ افواج نے جوابی فائرنگ کی اور کمپاؤنڈ کو تحویل میں لے لیا۔

حکام نے بتایا کہ تلاشی کے دوران ایک شہری مرد اپنے گھر سے باہر آیا اور افغان اور اتحادی افواج کو بتایا کہ طالبان کمپاؤنڈ کے ساتھ والی سڑک کو روزانہ استعمال کرتے ہیں اور باغی اکثر اوقات اسکے گھر کے پیچھے والی مسجد میں ٹھہرتے ہیں۔ طالبان اس بات کو جانتے ہوئے مسجدوں کو اپنی پناہ گاہ اور ہتھیاروں کے ذخیرے کی جگہ کے طور پر استعمال کررہے ہیں کہ بین الاقوامی فوجوں کو اس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔

خود کار ہتھیاروں کی ایک بڑی تعداد، اسلحے سے بھرے ہوئے میگزین، گرینیڈز، اور ایک آر پی جی (RPG) لانچر کمپاؤنڈ میں پایا گیا۔ تلاشی کے دوران عورتوں اور بچوں کی مشترکہ افواج نے حفاظت کی۔

ایک اور افغان - بین الاقوامی حفاظتی دستے نے اس رات زابل صوبے میں ایک طالبان کمانڈر اور متعدد مشتبہ باغیوں کو گرفتار کیا۔ کمانڈر اس سڑک کے ساتھ جو زابل اور افغان دارالخلافہ کابل کو ملاتی ہے ادھر ایک سر راہ بم دھماکوں میں ملوث ہے۔

حفاظتی افواج نے طالبان کمانڈروں کی موجودگی کے بارے میں خفیہ رپورٹوں کے ملنے کے بعد ایک دور دراز علاقے شاہ جوئے ضلعے میں کمپاؤنڈز کے ایک سلسلے کی تلاشی لی۔ کوئی گولی نہیں چلائی گئی اور تلاشی کے دوران موجودہ عورتوں اور بچوں کی مشترکہ افواج نے حفاظت کی۔

18 جون کی ایک کارروائی میں ایک مشترکہ افغان - بین الاقوامی حفاظتی دستے نے ہیلمند صوبے میں ایک سینیر طالبان کمانڈر کو ڈھونڈتے ہوئے ایک مشتبہ باغی کو ہلاک، متعدد مشتبہ باغیوں کو گرفتار اور بم بنانے کا مواد برآمد کیا۔ حفاظتی دستہ جب لشکر گاہ ضلعے میں ایک کمپاؤنڈ کے پاس پہنچا تو ان پر فورا ہی کمپاؤنڈ سے باہر سے ایک شخص نے فائرنگ کردی۔ مشترکہ افواج نے جوابی فائرنگ کرکے اسکو ہلاک کردیا۔

کمپاؤنڈ کو قبضے میں لینے کے بعد حملہ آور دستے کو سات گھریلو طور پر تیار کردہ دھماکہ خیز مواد کے مرتبان، متعدد ابتدا کرنے والے آلات اور بم بنانے کی اشیاء ملیں جنہیں انہوں نے ناکارہ بنادیا۔

ایک علیحدہ افغان - بین الاقوامی حفاظتی دستے نے 18 جون کی رات کو طالبان کے ایک فرضی گورنر کو ڈھونڈتے ہوئے جو کہ لوگار صوبے میں اتحادی فوجوں پر حملے کا ذمہ دار تھا، متعدد مشتبہ باغیوں کو گرفتار کرلیا۔

حفاظتی افواج نے خفیہ ذرائع کی باغیانہ کارروائیوں کی تصدیق کے بعد کریزے زافران کے جنوب میں کمپاؤنڈز کے ایک سلسلے کی تلاشی لی۔ تلاشی کے دوران حفاظتی افواج کو 50 پاؤنڈز سے زائد امونیم نائٹریٹ (Ammonium Nitrate) ملا جو کہ عام طور پر دھماکہ خیز اشیاء کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے اور افغان حکومت کی طرف سے اس پر پابندی ہے۔

علاقے سے جانے کی تیاری کے دوران دستے نے ایک شخص کو ہلاک کردیا جس نے ان پر فائرنگ کی تھی۔ جو عورتیں اور بچے موجود تھے انکی افواج نے حفاظت کی اور کسی بھی عمارت کو نقصان نہیں پہنچا۔

17 جون کو افغان آرمی کمانڈوز نے امریکی خصوصی کارروائیوں کے دستوں کی مدد سے ایک باغی کمانڈر کو تلاش کرتے ہوئے باغدیز صوبے میں متعدد باغیوں کو ہلاک کردیا۔

حکام نے بتایا کہ افغان سربراہی والے دستے اس وقت مورغاب ضلعے میں تھے جب ان پر باغیوں نے بھاری چھوٹے ہتھیاروں، مشین گنوں اور راکٹ کے ذریعے داغے جانے والے گرینیڈ کا استعمال کرتے ہوئے مضبوط ٹھکانوں سے حملہ کیا۔ مشترکہ افواج نے جوابی فائرنگ کی اور محتاط ہوائی حملے طلب کرکے متعدد باغیوں کو ہلاک کردیا۔ اس میں کوئی شہری ہلاکت نہیں ہوئی اور کسی شہری مالی نقصان کی اطلاع نہیں آئی۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 23 times

فیس بُک پر دوست
33,167+