صفحہ اول | خبریں | پریس ریلیس | سند حاصل کرنے سے افغان حکومت کی انسانی شناخت کے انتظام اور تجزیے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا
سند حاصل کرنے سے افغان حکومت کی انسانی شناخت کے انتظام اور تجزیے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا
منجانب Master Sgt. Adam M. Stump, Combined Joint Interagency Task Force 435

کابل، افغانستان (6 اکتوبر، 2010) – 4 اکتوبر کو کابل میں انسانی شناخت کے مرکز سے مخفی فنگر پرنٹ اور سسٹم ایڈمنسٹریٹر کے کورسز میں گیارہ افغان وزارت داخلہ نے سند حاصل کیں، جس سے افغان حکومت کی انسانی شناخت کی تفصیلات کے تجزیے اور انتظام کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔

چار ہفتے کے مخفی پرنٹ کورس سے افغان گریجویٹس میں سے نو اور ہفتے کے نیٹ ورک ایڈمنسٹریٹر  کے کورس سے دو افغان 22 گریجویٹ ہوئے۔

مخفی پرنٹ کورس نے ان طلباء کو اعلی تربیت فراہم کی جنہوں نے پہلے ہی پچھلے سال بنیادی فنگر پرنٹنگ کی کلاس مکمل کی ہے۔ نو بہترین کارگزاروں نے جرائم کی سراغرسانی کیلیے جزوی فنگر پرنٹس کے مقابلے، تجزیے اور تعین کے بارے میں بعد میں ہونے والی تربیت مکمل کی۔  

کورس کے استاد ڈوگ آڈامیک نے کہا کہ دو نیٹ ورک ایڈمنسٹریٹر طلباء نے افغان خودکار انسانی شناخت کی پہچان کا نظام، جس میں اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت انسانی شناخت کی تفصیلات کے ذخیرے استعمال کیے جاتے ہیں، اِس پر کام کرنا سیکھا۔ طلباء نے مشین کے پرزہ جات کی تبدیلی، نیٹ ورک کے قیام، افغانستان کے جدید ترین کمپیوٹر سسٹم پر کام کرنا اور اسکی دیکھ بھال کرنا سیکھا۔

افغان جرائم کی سراغرسانی کی ڈویژن کے ڈائریکٹر، افغان قومی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل مرزا محمد یارمند نے کہا کہ افغان انسانی شناخت کی صلاحیتیں روز بڑھ رہی ہیں اور سند یافتہ افراد افغان حکومت کیلیے اہم کام انجام دینگے۔

یارمند نے کہا  کہ (انسانی شناخت) ہمارے آدھے جرائم کے معاملات کو حل کرتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ پہلے ہم پرانا نظام استعمال کررہے تھے اور آج جبکہ ہمارے پاس نو مخفی فنگر پرنٹ کے تجزیہ کار موجود ہیں اس سے ہمیں اپنے پروگرام کو ترقی دینے میں بہت مدد ملے گی۔ ہمارے پاس اپنے سسٹم ایڈمنسٹریٹر نیٹ ورک کے لوگ بھی موجود ہیں۔ اس سے حقیقت میں ہمیں اپنے پروگرام کو ترقی دینے اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنے زیر استعمال میں لانے میں مدد ملے گی۔ جب ہمارے پاس یہ سب صلاحیتیں موجود ہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہمارے ڈپارٹمنٹ کیلیے ایک مثبت کامیابی رہی ہے۔

یارمند نے کہا کہ سند یافتہ افراد افغان تاریخ میں انسانی شناخت کے افتتاح کرنے والوں کی حیثیت سے جانے جائینگےمگر انہیں اپنی تعلیم جاری رکھنے کی ضرورت ہو گی۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ تمام کامیابیاں جن پر اب تک ہم پہنچے ہیں ابھی کافی نہیں ہیں بلکہ ہمیں مزید بہت کُچھ کرنا ہے۔

استادوں میں سے ایک نے کہا کہ طلباء اپنی تربیت کو اس بات کو یقینی بنانے کیلیے استعمال کرینگے کہ افغانستان کا ایک محفوظ مستقبل بن سکے۔

معاہدے پر کام کرنے والی ایک استاد الزیبیتھ اولیور نے کہا کہ آسان دور ختم ہوا اور اب آپ لوگوں کے کیس ورک کے ساتھ حقیقتاً مشکل کام شروع ہونے والا ہے۔ میں بہترین تفتیش کنندگان کو دیکھ رہی ہوں اور آپ اس کام میں حصہ لینے جارہے ہیں جو کہ مستقبل میں آپکو اپنے ملک کیلیے کرنا ہے۔ آپ افغانستان کی حفاظت کرینگے اور اسکو محفوظ بنائینگے۔

فنگر پرنٹس کے تجزیے کے دفتر کے نو نئے اراکین  موقعہ واردات سے حاصل شدہ مخفی فنگر پرنٹس کے مقابلے سے لیکر انسانی شناخت کے اندراج سے 10 – پرنٹ کی تفتیش پر کام کرتے ہوئے فوری طور پر کام شروع کردینگے۔ ایک دفعہ 10-پرنٹ کی تفتیش معیار کے کنٹرول کی رکاوٹ سے کامیاب ہوجائے تو پھر وہ اے- اے بی آئی ایس میں ضم ہوجاتے ہیں۔ فنگر پرنٹس کے تجزیہ کار موقعہ واردات سے حاصل ہونے والے نامعلوم، بیشتر جزوی پرنٹس کا مقابلہ ڈیٹا بیس میں جمع شناخت شدہ پرنٹس سے کرتے ہیں۔

اگلے چند ماہ کے اندر، وزارت داخلہ کے جرائم کی سراغرسانی کی ڈویژن کو توقع ہے کہ اسے ہزاروں الیکٹرانک فنگر پرنٹس کے نمونے تجزیے کیلیے موصول ہونگے۔ افغان تجزیہ کار اپنے سابق استادوں کے ساتھ ساتھ کام کرینگے، اور آخر کار تبدیلی کے ساتھ اپنے آپ پورے فنگر پرنٹ کے تجزیے کے دفتر کو چلائینگے۔

سند یافتہ افراد پورے ملک میں قانون کی عملداری کے قیام کے فروغ میں بھی مدد کرینگے۔ انسانی شناخت جو کہ قانون کی پابندی کرنے والے افغانی شہریوں پر مکمل طور پر رضاکارانہ ہے، یہ افراد کو ناقابل تردید شناخت بہم پہنچاتی ہے جو کہ بناوٹی نہیں ہوسکتی اور جو کہ تعاون کرنے والے افغان باشندوں کی بڑی تعداد کو مجرموں اور باغیوں سے علٰیحدہ کرتی ہے۔

جنین ڈیجیوسیپپی جو کہ ایک ایف بی آئی ایجنٹ ہیں انھوں نے کلاس کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ افغانستان میں قانون کی حکمرانی کا مستقبل ہونگے۔ آپ وہ ماہر ہونگے جن کی طرف استغاثہ اور جج دیکھینگےکہ آپکی شہادت اس بات کو یقینی بنائے کہ مجرم قید خانے جائیں اور معصوم لوگ بری ہوں۔

افغان وزارت داخلہ مجموعی مشترکہ بین الایجنسی ٹاسک فورس 435 کے ساتھ پورے افغانستان میں انسانی شناخت کے اندراج کی صلاحیت کے قیام کیلیے بہت قریب سے ملکر کام کررہی ہے تاکہ خودمختار اسلامی جمہوریہ افغانستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کرسکے اور افغان شہریوں کے قومی ڈیٹا بیس کو قائم کرسکے۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
33,164+