صفحہ اول | خبریں | خبریں | افغان عدالت میں مقدمہ سُنانے پر تین آدمیوں کو سزا
افغان عدالت میں مقدمہ سُنانے پر تین آدمیوں کو سزا
منجانب , JTF 435

صوبہ پروان، افغانستان (3 اگست، 2010) – تین افغان آدمی جو اس وقت پروان کی جیل میں قید ہیں انکو یکم اگست کو پروان کے قانونی مرکز میں افغان عدالت نے تحت جرم ثابت ہونے پر افغان قانون کے مطابق جیل میں قید کی سزا سنائی۔

ملزمین کو اندرونی اور بیرونی سیکیوریٹی آرٹیکل 9 اندرونی اور بیرونی سیکیوریٹی کے خلاف منظم کاروائیاں آرٹیکل 5 باغیانہ کاروائیاں، اغوا اور غیر قانونی ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کو قبضے میں رکھنے کے قانونوں کی خلاف ورزی کے جرم میں سزائیں سنائیں۔

پہلے مقدمے میں دو ملزمین پر ایک غیر قانونی اور باغیانہ گروہ کا رکن ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔  عدالت کے ریکارڈ کے مطابق، دونوں آدمیوں کے لیے 2008 میں ایک چھاپہ مارا گیا جو کہ مشتبہ باغیوں کو پکڑنے کے لیۓ سر انجام دیا گیا تھا۔ اس کے دوران پکڑے جانے والے شخص اور ان کے قبضے سے دوسرے مواد کے ساتھ ساتھ خود ساختہ دھماکہ خیز آلات کے اجزا اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوئے ہیں۔ چھاپے کی جگہ سے پراپگینڈے کا مواد بھی برآمد ہوا اور ایک ملزم پر سے کیمیاوی ٹسٹ کے بعد دھماکہ خیز مواد کے آثار بھی ملے۔

عدالت کے ریکارڈ کے مطابق دونوں ملزمین نے شہادتیں دیں اور خود ساختہ بموں کے مواد اور دھماکہ خیز مواد رکھنے کے ایک دوسرے پر الزامات لگاۓ۔

مقدمے کے دوران وکلا صفائی نے ان آدمیوں کے پکڑے جانے اور قید ہونے پر اعتراضات کا اظہار کیا کہ آئین کے مطابق اتحادی فوجوں کا افغانی شہریوں کو پکڑنا اور قید میں رکھنا غیر قانونی ہے۔

 دوسرے مقدمے میں ایک ملزم تھا اور عدالت کے ریکارڈ کے مطابق یہ شخص اس احاطے میں پایا گیا تھا جہاں اتحادی فوجیوں نے چھوٹے ہتھیاروں کی گولیاں وصول کی تھیں۔ یہ شخص احاطے کے اس حصے میں بھی پایا گیا تھا جہاں 15 افغانیوں کو یرغمالیوں کے طور پر رکھا گیا اور جن میں 13 افغانیوں نے ملزم کی شناخت کر لی جو کہ جیل کی حفاظت پر معمور تھے۔ ہتھیاروں کا ذخیرہ جن میں راکٹ بھی شامل تھے اِسی جگہ سے برامد ہوا۔

مقدمے کے دوران ملزم نے ہیڈ جج کی بارہا سفارشات کے باوجود وکیل صفائی کی معاونت حاصل کرنے سے انکار کر دیا۔ ملزم نے اپنے پر لگاۓ الزامات کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور یہ دعوی کیا کہ اس کے قبضے سے برآمد کیے گۓ راکٹوں کو وہ کھیتی باڑی کے طور پر استعمال کرتا تھا۔  اثبات کا معائینہ کرنے کے بعد تین ججوں کی ٹیم نے ملزم کواغوا، ہتھیار رکھنے اور ایک غیر قانونی دہشت گرد تنظیم کا رکن ہونے کے الزامات میں قصور وار قرار دیا۔

افغانی قانون کے تحت ملزم کو اپیل کرنے کے لیۓ 20 دن حاصل ہیں۔

اسوقت جب قیدیوں کو مسلح تنازع کے قانون کے تحت پروان کی جیل میں زیرتحویل رکھا گیا ہے تو افغان حکومت فوجداری مقدموں کی تحقیق اور قانونی کاروائی جے سی آئی پی میں کرتی ہے اور فوجداری کے الزامات کو افغان پینل کوڈ کے تحت نمٹاتی ہے۔

مقدمے افغان استغاثہ کی طرف سے پیش کیۓ گۓ تھے اور ملزمین کو افغان وکلا صفائی کی طرف سے پیش ہونے کا موقع دیا گیا تھا اور تین ججوں کی ٹیم نے مقدموں کی صدارت کی تھی۔

قید کی کاروائیوں اور اس سے منسلک عدالتی طریقہ عمل اور یہ مقدمے جو کہ جے سی آئی پی میں دوسرے اور تیسرے نمبر پر تھے، امریکی حکومت سے کنٹرول اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت کو منتقلی کی طرف ان اہم اقدامات کی علامت ہیں جو کہ اس ضمن میں اٹھاۓ جا رہے ہیں۔ 

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 23 times

فیس بُک پر دوست
33,167+