Combined Joint Interagency Task Force-435
| 13 سابقہ قیدیوں کو 11 اکتوبر کو پروان جیل خانے سے رہا کر دیا گیا |
|
منجانب Sgt. Jason Boyd, Combined Joint Interagency Task Force 435 صوبہ پروان، افغانستان 11 اکتوبر، 2010 – پر امن زندگی گزارنے کے عہد کی تصدیق کرنے کے بعد 13 سابقہ قیدیوں کو 11 اکتوبر کو پروان جیل خانے سے رہا کر دیا گیا اور ان کو انکے خاندانوں اور قبیلے کے سرداروں کی طرف سے قید سے رہائی کی شوری' کے دوران خوش آمدید کہا گیا۔ افغان قیادت کے تحت قیدیوں کی رہائی کا یہ پروگرام، جس کا اطلاق جنوری 2010 میں ہوا ان کی دوبارہ معاشرے میں بحالی کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ اس کے اطلاق سے لے کر اب تک 40 سے زاید شوری' کے تحت تقریبا" 240 قیدی رہائی پا چکے ہیں۔ افغان قومی فوج کے میجر جنرل مرجان شجاع، افغان نیشنل آرمی کے مشترکہ انٹر ایجنسی ٹاسک فورس 435 کے کمانڈر نے شوری' کی صدارت کی۔ انھوں نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ یہ لوگ اپنی تعلیم جو کہ ان کو مہیا کی گئی ہے کو اچھی نوکریاں تلاش کرنے کے لیۓ استعمال کریں گے۔ اللہ آپ کی اپنے خاندانوں اور گاؤں میں واپسی میں مدد کرے اور آپ کو دوبارہ غلط راہ پر جانے سے روکے۔ شوری' کے ایک اہم حصے کے طور پر، ہر قیدی نے عدم تشدد کے معاہدے پر دستخط کیۓ، ہتھیار نہ اٹھانے کا وعدہ کیا اور افغان حکومت سے وفاداری کا عہد اٹھایا۔ افغان معاشرے کی رویات کے مطابق افغان قبائل کے بزرگوں نے ان معاہدوں پر گواہوں کے طور پر دستخط کیۓ کہ وہ ان سابقہ قیدیوں کی دوبارہ معاشرے میں بحالی میں مدد کریں، ان کی معاشرے میں واپسی کی حمائت کریں اور ان کے کردار پر نظر رکھیں گے۔ گواہوں کا بیان غیر رسمی نوعیت کا ہے اور یہ قانونی طور پر لاگو نہیں ہوتا لیکن یہ اس طرح لکھا گیا ہے کہ مقامی رویات کے مطابق ہو۔ اس دوبارہ بحالی کا مقصد یہ ہے کہ ان افغان جنگجوں کو جو تشدد سے توبہ کر لینے پر تیار ہوں، لڑائی سے ہٹا کر افغانی آئین کو قبول کرتے ہوۓ عزت اور وقار سے دوبارہ معاشرے میں لاِئے جا سکیں۔ ڈی ایف آئی پی میں قید کے دوران ان قیدیون کو تعلیمی اور فنی تعلیم کا موقع ملتا ہے۔ ان کلاسوں کے ذریعے یہ اپنی رہائی کے بعد نوکری کے مواقوں میں اضافے کی غرض سے اپنی مہارتوں میں اضافہ کرتے ہیں - نتیجتاً یہ اقتصادی مقاصد کے لیۓ واپس باغیانہ روش اختیار کرنے کی ممکنات کو کم کرتے ہیں۔ یہ حضرات ڈی ایف آئی پی سے رہا ہوۓ، جو کہ پروان میں ایک جدید ترین عمارت ہے جس میں تھیٹر بھی موجود ہے، یہ بگرام سے کئی کلومیٹر دور ہے اور یہ ستمبر 2009 میں مکمل ہوئی تھی اور اس میں قیدی دسمبر 2009 میں آۓ تھے۔ ڈی ایف آئی پی اس طرح ڈیزائن کی گئی ہے جو قیدیوں کی بحالی کی کوششوں کو سہارا دیتی ہے اور مشترکہ انٹر ایجنسی ٹاسک فورس 435 کو اپنی قیدیوں کی کاروائیوں کو افغانستان میں باغیوں کو شکست دینے کی عام حکمت عملی سے ہم آہنگ بنانے کے قابل بناتی ہے۔ 700 سے زاید افعان قومی فوجی پولیس سولجرز گارڈ کی نفری بڑھانے کے لیۓ اس وقت تربیت لے رہے ہیں اور 100 سے زائد مکمل طور پر تربیت یافتہ ہیں اور عمارت اے اندر اپنے امریکی ہم عصروں کے ساتھ گآرڈ کی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں۔ سی جے آئی اے ٹی ایف-435 افغان فورسز کے ساتھ مل کر اس ملٹری قید خانے کی افغان حکومت کو ذمہ دارانہ منتقلی کی تیاریوں کے لیۓ سرگرم عمل ہے۔ سی جے آئی اے ٹی ایف-435، اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت اور امریکی انٹر ایجنسی اور بین الاقوامی ساتھیوں کے ساتھ مل کر قید خانے میں، بحالی، عدالتی شعبے اور بائو میٹرکس کی کاروائیاں کرتی ہے۔ بلآخر، سی جے آئی اے ٹی ایف-435 قانون کی بالادستی کے اطوار کو اپنانے کو بڑھاتے ہوۓ قیدیوں کی کاروئیاں افغان کنٹرول میں دے دے گی۔ 46ویں ملٹری پولیس کمانڈ، ٹاسک فورس پیس کیپر، جو کہ سی جے آئی اے ٹی ایف-435 کمانڈ کے ماتحت ہے، ڈی ایف آئی پی میں قیدیوں کی تمام کاروائیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ ٹاسک فورس پروان کے قید خانے میں قیدیوں کی محفوظ اور رحمدلانہ قید، کنٹرول اور ان کے خیال رکھے جانے کو یقینی بناتی ہے۔ ان کی کوششیں افغان قومی افواج کے فوجیوں کو امریکی ہم عصروں سے قید خانہ چلانے کی ذمہ داریاں اپنے ذمہ لینے کے قابل بناتی ہیں۔ 96ویں ملٹری پولیس بٹالین، ٹاسک فورس سپارٹن، افغان فوجیوں کو قید خانے کی کاروائیوں کے لیۓ تربیت دیتی ہے۔ ایک لسانیات کے ماہرین کا گروہ اے این اے کو زبان کے بارے میں مدد فراہم کرتا ہے تاکہ فوجیوں کی قیدیوں سے ان کی اپنی زبان میں گفتگو کرنے کو یقینی بنایا جا سکے۔ |
Detention Facility in Parwan Province, Afghanistan
تصویریں
Podcasts
There are no podcasts available at this time.








