ترقی کے لیے امن و امان آپریشن کا آغاز ایساف میں شمولیت کی دعوت پر 16 مارچ 2002 کو مشن والے علاقے میں سپاہیوں کا پہلا گروہ بھیجا گیا۔ اس کے اہداف سب سے پہلے بارودی سرنگوں کی صفائی، کابل میں ہوائی اڈے کی حفاظت، سڑکوں، پُلوں اور ایساف کی سرگرمیوں کے لیے ضروری انفراسٹرکچر کے دیگر عناصر کی تعمیر تھے۔ مجموعی طور پر وہاں درج ذیل یونٹوں کے 300 سپاہی تھے: - 1st سیپر بریگیڈ بریزگ - 10th لاجسٹک بریگیڈ اوپول - 4th کیمیکل رجمنٹ براڈنیکا - فوجی ادارہ برائے حفظانِ صحت اور علم امراض وبائی پلاوے - خصوصی یونٹ گروم - "رئیر ایڈمرل ثاورے زرنکی" بحری جہاز پولش فوجی رستہ برائے افغانستان میں جلد ہی تبدیلی کی گئی اور وسط 2002 سے یہ 120 سپاہیوں پر مشتمل ہے۔ وسط 2007 تک دستے نے بنیادی طور پر انجینئرنگ سے متعلق کام سرانجام دیے۔ افغانستان میں موجودہ صورت حال افغانستان میں آپریشن ان بڑی مشکلات میں سے ایک ہے جن کا سامنا گزشتہ چند برسوں میں پولینڈ کی مسلح افواج کو کرنا پڑا۔ مشن والے علاقے کے ثقافتی، تہذیبی اور ماحولیاتی حالات یورپی حقائق سے بالکل مختلف ہیں۔ افغانستان میں صورت حال تا حال غیر یقینی ہے۔ سیاسی میدان میں ہونے والی مثبت پیش رفت کے باوجود افغان صوبوں میں امن و امان کی صورت حال غیر تسلی بخش ہے۔ باغیوں نے ملک کے جنوب اور مشرقی علاقوں میں دوبارہ مسلح کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے اور وہ پھر سیاسی غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اندرونی فسادات دوبارہ شروع ہو گئے ہیں، دیہاتی علاقوں میں صدر حامد کرزئی کی مقبولیت کم ہو رہی ہے۔ بعض اوقات منشیات کی تجارت میں ملوث مقامی قبائلی رہنما بہت طاقت ور ہوتے ہیں۔ طالبان باغیوں کی دہشت گردی کی کارروائیاں، خصوصاً گلبدین حکمت یار کا انتہا پسند گرو نیز القاعدہ کے بعض گروہ تاحال افغانستان میں عسکری خطرے کا بنیادی سبب ہیں۔ افغانستان میں مجموعی طور پر 70000 جنگجوؤں پر مشتمل 1800 مسلح گروہ موجود ہیں۔ دہشت گردوں کے علاوہ وہاں منشیات فروش امرا اور علاقائی رہنماؤں کی "ذاتی" مسلح فورسز ہیں، وہ بھی اتحادی فوجوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں ملک کے تمام علاقوں پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ افغانستان میں مسلح گروہوں کی کارروائی کا ہدف زیادہ تر سفر کی رکزی گزرگاہیں اور اتحادی فوجوں اور افغان نیشنل سکیورٹی فورس کے اہم مقامات ہوتے ہیں۔ ایساف میں پولینڈ کا فوجی دستہ افغانستان میں ایساف مشن ایک استحکام بخش آپریشن ہے جو اقوام متحدہ کی حفاظتی کونسل کی قرارداد 1386، بتاریخ20 دسمبر 2001، قرارداد 1510، بتاریخ 13اکتوبر 2003، 1563، بتاریخ 17 ستمبر 2004، 1623، بتاریخ 13 ستمبر 2005 اور قرارداد 1707 بتاریخ 13 ستمبر 2006 نیز مستقل حکومتی اداروں کی تشکیل نو کو زیر غور رکھتے ہوئے افغانستان میں عارضی انتظامات پر بون میثاق، بتاریخ 5دسمبر 2001 کے مطابق شروع کیا گیا۔ پولینڈ کے فوجی دستے میں سپاہیوں کی تعداد 2600 سے زائد ہے جو کہ دیگر 47 ممالک کے سپاہیوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ ایساف کی فورسز کے سپاہیوں کی تعداد مجموعی طور پر 130000 سے زائد ہے۔ عمومی معلومات نومبر 2008 میں افغانستان میں تعینات پولینڈ کے فوجی دستے کے ڈھانچے کو تبدیل کیا گیا۔ ٹاسک فورس سفید عقاب، پولینڈ تشکیل دی گئی اور علاقائی کمانڈ جنوب [آر سی ای] میں موجودہ لڑاکا گروہوں میں سے ایک کے طور پر انہوں نے صوبہ غزنی کی ذمہ داری قبول کی۔ پولینڈ کا دستہ پانچ چھاؤنیوں میں تعینات ہے۔ - غزنی - جنگجو - گِرو - آتش فشاں - قارا باغ اور بگرام ہوائی اڈہ اے ایف بی بگرام میں اہداف - ٹاسک فورس، پولینڈ کے زیر تحویل علاقوں کی حدود میں، اُن علاقوں کی حفاظت کرنا جہاں تعمیر کا کام ہو رہا ہے۔ - صوبہ غزنی میں افغان تعمیری زون کی حفاظت کرنا - مرکزی سفری پٹی کا بل۔ قندھار پر صورت حال کو کنٹرول کرنا - افغان مسلح افواج اور پولیس کو تربیت دینا مزید معلومات کے لیے آپ درج ذیل ویب سائٹس پر دستیاب ذرائع تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ |
|
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 


















حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002
viewed 19 times
حالیہ یو ٹیوب وڈیوز
عيد الأضحى اور حج کے موقع پر مبارک باد
viewed 0 times
فیس بُک پر دوست
33,143+