سینیٹ مسلح سروسز کمیٹی کے روبرو افغانستان اور پاکستان کی صورتحال اور امریکہ کےمرکزی کمان کے موقف کے حوالے سے امریکی فوج کے جنرل ڈیوڈ ایچ پٹریاس اور امریکہ کے سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر کا بیان 16 مارچ 2010 گزشتہ برسوں کے دوران ہم نے پاکستان میں اہم تبدیلیاں رونما ہوتے دیکھی ہیں۔ اس عرصے میں پاکستانی عوام سیاسی رہنمائوں اور علما اس ادراک میں متحد تھے کہ ان کے ملک میں بعض اندرونی انتہا پسند گروہوں سے اور بالخصوص پاکستانی طالبان سے پاکستان کوخطرہ لاحق ہے۔ پاکستانی عوام نے صوبہ خیبر پختونخواہ، فاٹا اور پاکستان کے بعض شہری علاقوں میں بھی طالبان کی بربریت، بلاامتیاز تشدد اور استحصالی کارروائیاں اپنی آنکھوں سے دیکھیں ہیں۔ انہیں احساس ہوا کہ طالبان پاکستان کو آگے نہیں بلکہ کئی صدیاں پیچھے لے جانا چاہتے ہیں۔ پاکستانی عوام اور قائدین کی مدد سے پاکستانی فوج نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران مزاحمت کاروں کے خلاف متاثر کن کارروائیاں کیں ہیں۔ اس عرصے میں پاک فوج اور فرنٹیئر کور نے ضلع سوات، جس کا میں نے صرف تین ہفتے قبل دورہ کیا تھا اور خیبر پختونخواہ کے دیگر علاقوں سے طالبان کا صفایا کیا۔ انہوں نے جنوبی وزیرستان جو کہ بیت اللہ محسود کا گڑھ ہے اور جو ان انتہاپسند عناصر کا سرغنہ اور بے نظیر بھٹو کا قاتل اور ہزاروں معصوم سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کے قتل میں ملوث ہیں میں بھی موئثر کارروائی کی۔ ایسی ہی عمدہ کارروائیاں فاٹا اور باجوڑ ایجنسی سمیت دیگر علاقوں میں بھی کی گئی ہیں۔ یہ موخر الذکر آپریشن خطے کی شمالی کمان میں ایساف فورسز کے ساتھ رابطے کے تحت کیے گئے اور اس رابطے سے آر سی-ایسٹ (RC-East) عوامل فعال میں بھی کیے گئے تا کہ پاکستانی آپریشن سے فرار ہو کر افغانستان میں داخل ہونے والے انتہاپسندوں کو بھی سنبھالا جا سکے۔ مختصر یہ کہ پاک فوج متاثر کُن کارروائیاں کرتی رہی ہے اور اسی دوران پاک فوج اورعوام نے بھاری نقصان بھی اٹھایا ہے۔ ہم ان کارروائیوں کے دوران پاکستان کے لیے اضافی امداد کی ضرورت کو سمجھتے ہیں اور پاک فوج کی معاونت کے نت نئے راستے تلاش کرنے کے لیے کانگرس کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔ دراصل ہماری توجہ پاکستانی فورسز کی معاونت پر مرکوز رہی ہے۔ ہم یہ تعاون مختلف شکلوں میں جاری رکھے ہوئے ہیں مگر اصل میں میدانِ جنگ میں تو پاکستانیوں کو خود ہی لڑنا ہے۔ جیسا کہ سیکرٹری گیٹس نے بیان کیا، ہمارا کام یہ یقین دلانا ہے کہ ہم غیر متزلزل ساتھی ہیں اور ہم پاکستان سے ایسا سلوک نہیں کریں گے جیسا ماضی میں کیا گیا تھا- جیسے کہ "چارلی ولسنز کی جنگ کے بعد" جب ہم نے خاصی مقدار میں امداد دی اور پھر پاکستانیوں کو ایسی صورتحال میں بے یارومددگار چھوڑ دیا جسے بنانے میں ہم نے ہی مدد کی تھی۔ لہذا یہ ضروری ہے کہ ہم دیرپا شراکت کا وعدہ کریں اور آپ کی مدد سے ہم یہی کرنے جا رہے ہیں۔ کیری لوگر برمان بل کے ذریعے پاکستان کو پانچ برس تک 1.5 ارب ڈالر سالانہ اقتصادی امداد دی جائے گی۔ اتحادی حمایتی فنڈ، بین الاقوامی فوج کا فنڈ،پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف مہم کا فنڈ (Pakistan Counterinsurgency Fund) اور سکیورٹی امداد کی دیگر شکلوں کے ذریعے پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو مزید امداد دی جا رہی ہے۔ مجموعی طور پر یہ فنڈنگ اور ہماری امداد اس اہم سٹریٹجک شراکت اور مضبوط کرنے اور اپنی پاکستانی ساتھیوں کی مدد کرنے کی امریکی خواہش کا اظہار ہے۔ |
|
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 


















حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002
viewed 19 times
حالیہ یو ٹیوب وڈیوز
عيد الأضحى اور حج کے موقع پر مبارک باد
viewed 0 times
فیس بُک پر دوست
33,142+