صفحہ اول
مشترکہ فضائیہ ہم آہنگی سیل کی سیلاب کی امدادی کوششوں میں مدد
منجانب Staff Sgt. Kali L. Gradishar, U.S. Air Force Central Public Affairs

اسلام آباد 31 اگست، 2010 – فوجی اور شہری دونوں کی بہت سی پاکستانی، امریکی اور بین الاقوامی تنظیمیں 28 اگست کو راولپنڈی کی چکلالہ فضائیہ فورس بیس پر مشترکہ فضائیہ ہم آہنگی سیل کے قیام کے لیۓ جمع ہوۓ تاکہ پاکستان کی سیلاب کی امدادی کوششوں کاروائیوں کے ضمن میں ہوائی کاروائیوں کو ہم آہنگ بنایا جا سکے۔

ملک بھر میں شدید بارشوں اور پانی کی اونچی لہروں جو کہ نہائت تیزی سے قصبوں اور گاؤں تک آ پہنچیں، کے بعد بہت سے لوگ خوراک، پانی، چھت اور دوسری بنیادی ضروریات کے بغیر تھے۔ پاکستان فضائیہ کے سنٹرل فلڈ ریلیف سیل (مرکزی امدادی سیل براۓ سیلاب) نے پاکستان ائیر فورس بیس چکلالہ پر امدادی کاروائيوں کا رخ اشد ضرورت کی جگہوں کی طرف موڑنے کا بیڑا اٹھایا لیکن بہت سے پاکستانی اور بین الاقوامی امداد مہیا کرنے والوں اور تنظیموں میں ابھی بھی بہت باہمی مواصلات کی کمی تھی۔   

امریکی فضائیہ فورس کے کرنل گریگ نیلسن نے کہا جو کہ چکلالہ میں متعین انسانی بنیادوں پر مدد کی امریکی نقل و حمل کی فورس براۓ پاکستان کے ڈائریکٹر ہیں کہ پاکستان کی زیر قیادت جے اے سی سی ہر قسم کی کوششوں کو مستحکم کرتا ہے اور آگے بڑھنے میں ایک بڑی کامیابی پیش کرتا ہے۔

نیلسن جو کینٹکی ائیر نیشنل گارڈ کے 123 ائیر لفٹ ونگ سے بھیجے گۓ تھے نے کہا کہ شہری تنظیموں میں سب سے آگے قومی آفت انتظامیہ ہے اور انھیں دنیا بھر سے مدد اور سامان فراہم کیا گیا ہے۔ جب تک یہ ہم آہنگی کا سیل نہیں بنا تھا، ہم اکٹھے مل کر ایک ترتیب وار ہوائی صلاحیت کے لیۓ مطلوبات اور سامان کی ایک واضع تصویر پیش نہ کر سکتے تھے۔

نیلسن نے کہا کہ اس سے حقیقتاً پاکستان بھر میں ضروریات کو فضائی راستے کے ذریعے سے پہنچانے کی کارکردگی میں اضافہ ہو گا۔ یہ سب حکومت پاکستان کی این ڈی ایم اے کی ذریعے مدد کے لیۓ ہوا ہے اور یہ سیل ان تمام کوشش کو اکٹھا کرتا ہے۔

لیفٹننٹ جنرل (ر) ندیم احمد، این ڈی ایم اے کے چئیرمین نے جے اے سی سی قائم کی اور پاکستان فوجی فضائیہ کمانڈ کے کمانڈر میجر جنرل راجا محمد عارف ناظر کو اس ہم آہنگی سیل کی صدارت کے عہدے پر مختص کیا۔ جے اے سی سی کی پہلی میٹینگ این ڈی ایم اے کے نمائیندوں کو قریب لائی پاکستان فوج اور فضائیہ فورس، یو این لاجسٹکس کلسٹر، ورلڈ فوڈ پروگرام اور یو ایس کے شراکاء نے میسر خوراک اور سامان اور تمام ملک میں سیلابی علاقوں کے لیے ضروریات اور ان کو پہنچانے کے ذرائع پر گفتگو کی۔ اس میٹنگ نے امدادی سرگرمیوں میں شامل ملکوں اور تنظیموں کے درمیان ابلاغ قائم کرنے اور عطیات، ہوائی اثاثوں، اور مدد گاروں کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کا موقع فراہم کیا۔

امریکی فضائیہ فورس کے دفاع کے دفتر پاکستان کے نمائیندے لیفٹننٹ کرنل ایلیٹ ایونز نے کہا کہ تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز رہی ہے کہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے ملک بھر کی کیا ضروریات ہیں اور پھر ان کو اہمیت کے لحاظ سے ترتیب دیا جا سکے اور یہ معلوم کیا جا سکے کہ ہمیں دستیاب ذرائع جیسے کہ خوراک ہو سامان یا چھت اور ان کا تخمینہ لگایا جا سکے۔ پھر مشترکہ فضائیہ سیل اکٹھا ہوتا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ہوائی جہاز کہاں سے میسر ہیں اورجو سامان ہم نے لے کر جانا ہے اس کے پہنچانے کی صلاحیت کیا ہے اور اس کو کیسے ہم آہنگ کیا جا سکے۔

کرنل جو کہ ورجینیا کے ائیر نیشنل گارڈ سے بھیجے گۓ ہیں نے مذید کہا کہ یہ اطلاعات کو جاری رکھنے کے لیۓ بہت اہم ہے تاکہ تمام تنظیمیں جو کہ حکومت پاکستان اور قومی آفات انتظامیہ کے زیر قیادت ہیں انکو یہ انسانی بنیادوں پر امدادی سامان کی ترسیل کو شفاف رکھتا ہے اور مواصلات میں مدد کرتا ہے تاکہ علاقوں کو ضرورت کے لحاظ سے فوقیت دی جا سکے اور ہم سب سے ذیادہ ضرورت مند اور سیلاب سے تباہ حال علاقوں تک یہ سامان جلد از جلد پہنچایا جا سکے۔

بہتر بنائی گئی اطلاعات کے علاوہ، جے اے سی سی کے قیام نے منصوبہ بندی کے طریقہ کار کو مستقبل بعید میں دیکھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

نیلسن نے کہا کہ جے اے سی سی کے قیام تک، مختلف اشیاء کی ترسیل ائیر سیل کو بھیجی جاتی تھی تاکہ، اگلے چوبیس گھنٹے کے دوران ائیر فلو پلان تیار کیا جا سکے۔ اب ہم نے اگلے پورے ہفتے کی طرف دیکھنا شروع کر دیا ہے۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
120511-N-NN926-057

120511-N-NN926-057
viewed 23 times

فیس بُک پر دوست
17,356+