صفحہ اول | خبریں | خبریں | خواتین کا مرکز افغان خواتین کے لیۓ نئے مواقعے مہیا کرتا ہے
خواتین کا مرکز افغان خواتین کے لیۓ نئے مواقعے مہیا کرتا ہے
منجانب Cpl. Meredith Brown, II Marine Expeditionary Force (Forward)
120124_women
کرنل ہیلن پریٹ ضلع نو زاد، صوبہ ہلمند میں 11 جنوری کو نئے مرمت شدہ خواتین کے مرکز میں تصویربنوانے کے لیۓ کھڑی ہوئیں۔. مرکز کا اس سرکاری سہولت میں ایک تقریب کے دوران افتتاح کیا گیا۔ (ڈی او ڈی فوٹو منجانب کارپورل میریڈتھ براؤن)

ضلع نوزاد ، افغانستان (جنوری 23، 2012) -- صوبہ ہلمند میں ضلع نو زاد خواتین مرکز، افغانستان سرکاری طور پر اس سہولت کا آغاز 11 جنوری کو ایک تقریب کے دوران ہوا۔ جس میں 100 سے زائد مقامی عورتوں اور بچوں نے حصہ لیا۔ مرکز مقامی خواتین کے لئے جمع ہونے اور کام کرنے کے لئے ایک محفوظ جگہ فراہم کرتا ہے۔

فارورڈ آپریٹنگ نوزاد بیس سے کام کرنے والی خواتین انگیجمنٹ ٹیم 2 نے خواتین مرکز کھولنے کی کوششوں کی قیادت کی تھی۔ احاطے میں کچھ تعمیر نو کرنے کی ضرورت تھی تاکہ اس مرکز کوجب خواتین استعمال کریں تو ان کے  لیے ایک مثبت اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے، اس لیے انگیجمنٹ ٹیم نے ایف او بی کی معاشرتی معاملات کے گروپ اور دوسری ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کیا۔

سارجنٹ کیتھرین کمفرٹ جو کہ خواتین انگیجمنٹ ٹیم 2 کی رکن ہیں انھوں بیان کیا کہ اس مرکز کو استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کے طور پر، خواتین کے لئے معاشرتی معاملات کے فنڈز کے ساتھ سلائی مشینیں بھی خریدی گئیں ۔ یہ خواتین کو اپنے خاندانوں کے لیۓ کپڑے سینے اور زیور بنا کر مقامی بازار میں فروخت کرنے کا موقع دیتا ہے. ثقافتی پابندیوں کی وجہ سے، خاص طور پر صوبے کے دیہی علاقوں میں، خواتین عام طور پر اپنے گھروں سے باہر کام نہیں کرتیں۔

کرتے وقت کہا کہ مرکز میں دلچسپی ، اجتماعات کی حوصلہ افزائی اور مقامی خواتین کے لئے ایک پائیدار مستقبل پیدا کرنے کے لیۓ تقریب کے دوران صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ سے تین بااثر خواتین رہنماؤں نے بات چیت کی ۔

ساؤتھ لینڈ، مشنی گن کی ایک مقامی، کمفرٹ نے کہا کہ لشکر گاہ کے خواتین پہلے سے ہی ایک خواتین مرکز کا استعمال کرتے ہیں اور وہ عورتیں بہت ترقی اور تعلیم یافتہ ہیں، یہ خواتین کے لئے یہاں آنے اور نوزاد کی خواتین سے بات کرنے کا موقع تھا، جو یا تعلیم یافتہ نہیں ہیں یا یہ سوچتی ہیں کہ وہ گھر سے باہر کام نہیں کر سکتی ہیں۔ وہ بنیادی طور پر ان سے کہہ رہی ہیں کہ ایک متقی مسلمان خاتون ہوتے ہوۓ بھی گھر سے باہر کام کرنا ٹھیک ہے اور وہ یہ کر سکتی ہیں۔"

نوزاد کے ڈسٹرکٹ گورنر، سید مراد سادات نے بھی تقریب میں شرکت کی اور سہولت کا دورہ کیا۔ اس کے علاوہ، دو افغان میڈیا کے نمائندوں نے تصویر اور اس موقع کے لئے ویڈیو بنانے کی مدد فراہم کی۔ 

جب خواتین نے کمپاؤنڈ کے اندر ملاقات کی، سیکینڈ بٹالین، چوتھی میرین رجیمینٹ اور افغان نیشنل پولیس کے ساتھ میرینز نے مل کر کمپاؤنڈ کے ارد گرد کے علاقے کو محفوط بنایا۔ 

کمفرٹ نے کہا کہ ہم صرف ایک راستہ مہیا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے زریعے یہ خاندان اپنی اپنی زندگی برقرار رکھ سکیں ۔ ہم حقیقت میں ان خواتین کو سیکورٹی فراہم کرنے کے لئے مقامی سیکورٹی فورسز پر انحصار کر رہے ہیں۔ ہم اسے افغانوں کے ذریعے چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کیپٹن مائیکل پٹیٹ جو کہ نو زاد میں ایف او بی کے  معاشرتی معاملات کی ٹیم کے لیڈر ہیں انھوں نے وضاحت کی کہ سینٹر کھولنا معاشرتی معاملات ، ایف ای ٹی اور بیٹیل سپیس اونر کے انضمام ، اوراس کے ساتھ ساتھ ڈسٹرکٹ استحکام کی ٹیم کا مجموعی طور پر اکٹھے کام کرنے کی ایک کتابی تھی ۔

" بیٹیل سپیس اونر کو آپریشن کی سلامتی کا انتظام کرنے اور ایک محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لئے افغان نیشنل سیکورٹی فورسز کے ساتھ مشترک کیا گیا ہے۔ معاشرتی معاملات کے شعبے نے خواتین انگیجمنٹ ٹیم کی مدد کی، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ سماجی و اقتصادی ترقی میں بھی مدد کی ہے۔ آخر میں ، ضلع کی استحکام کی ٹیم آپریشن کے انتظام  میں بھی شامل تھی۔ انہوں نے امریکی محکمہ خارجہ کے ساتھ مل کر اس تقریب کے لیۓ گرانٹ حاصل کی اور افغان حکومت کے مقامی حکام کے ساتھ اس بات کا یقین دلانے کے لئے کام کیا کہ وہ اس تقریب کے بارے میں علم رکھتے تھے اور اس واقعے کے حامی تھے۔"

سنٹر کی ابتدائی تقریب کا اختتام شرکا کے لیۓ دوپہر کے کھانے سے ہوا۔

د� P����0W�ں، نوجوان فوجییوں کو سکھاتے ہیں کہ میدان جنگ کے بارے میں وہ کس طرح کی توقع رکھیں۔

 

مینجس نے کہا کہ ان کی پلاٹون کابل کے علاقے میں کام کرے گی۔

انہوں نے کہا  کہ یہ واقعی ایک انسداد بغاوت آپریشن ہے ۔ ہم فارورڈ آپریٹنگ بیس کے ارد گرد کے لوگوں سے بات چیت کریں گے اور ان سے دوستی قائم کریں گے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں خطرات سے جلد از جلد نمٹنے کے قابل بھی ہونا ہے۔

میک گارتھ نے کہا کہ ان تعلقات کو مضبوط بنانا افغانستان کے استحکام کے لیے بہت اہم ہے۔

میک گارتھ نے کہا کہ میرے خیال میں ایک کامیاب افغانستان سب کے مفاد میں ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ ان کو ایک ایسا نظام  دیا جاۓ جو پائیدار ہو۔ اگر ہم ان کو ایسی چیزیں دیں جن کو وہ برقرارہ نہیں رکھ سکیں، تو پھر وہ تمام اوزار غیر موثر ہیں۔ ہم ان کو ایسا نظام دینا چاہتے ہیں جو افغانستان کو مستقبل میں لے جاۓ اور کم از کم ان کو خوشحالی کی طرف واپس لے آئے جو کہ سوویت یونین سے پہلے ابتدائی 70 کی دھائی میں موجود تھی۔

پی آر ٹی کو ان کے مشن میں کامیابی کے لیے ضروری سیکیوریٹی مہیا کرنے کے لیۓ بٹالین تقسیم کر دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہر پی آر ٹی کو بٹالین لائن کمپنی میں سے ایک رائفل پلاٹون تفویض کر دی گئی ہے۔

مینجس نے کہا کہ پی آر ٹی کو تحفظ فراہم کرنے کے اس مشن کو پورا کرنے کے لئے، فرسٹ بٹالین، 143ویں انفنٹری (فضائی)، کے فوجیوں نے گاڑیوں اور پیدل گشت لگانے، دھماکہ خیز آلات، ابتدائی طبی امداد، بائیومیٹرک آلات کا استعمال، ہتھیاروں، انسداد بغاوت کا نظریہ، ثقافتی تفہیم اورمقامی زبانوں کی تربیت حاصل کی۔

دنیا بھر کے لوگ اب جب اپنے کیلنڈروں پر 2014 کو فغانستان سے ہمارے نکلنے کی نشاندہی کر رہے ہیں، اتنی دور کی سوچ بھی فرسٹ بٹالین، 143ویں انفنٹری (فضائی) کے فوجیوں کا مشن تبدیل نہیں کرتی۔

مینجس نے کہا کہ ہم اپنے مشن کو جاری رکھیں گے ۔ کسی بھی تنازعے میں ایک سیاسی اور فوجی پہلو ہوتا ہے۔ میرا مقصد یہ ہے کہ میرے لوگ مشن پر توجہ مرکوز رکھیں اور باقیوں کو دوسری چیزوں کے بارے میں فکر کرنے دیں۔ انھوں نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں اپنے لوگوں کو محفوظ طریقے سے گھر واپس پہنچانے کے لیۓ جو کچھ بھی کر سکتا ہوں وہ کروں گا۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
120511-N-NN926-057

120511-N-NN926-057
viewed 23 times

فیس بُک پر دوست
17,356+