| وائٹ ہاؤس: طالبان کے دوسرے نمبرسربراہ کی گرفتاری نے ایک اہم کامیابی کی نمائندگی کی ہے۔ |
منجانب , American Forces Press Service شئیرمتعلقہ خبریںواشنگٹن: (فروری 18، 2010) وائٹ ہاؤس کے ایک افسر نے کہا کہ افغان طالبان کی سرگرمیوں کے اعلی ترین کمانڈر اور دوسرے نمبرکے سربراہ کی حالیہ گرفتاری نے ایک اہم کامیابی کی نمائندگی کی ہے۔ امریکی افسروں نے ملا عبدالغنی برادر، جو کہ طالبان کا ملا عمر کے بعد دوسرے نمبر پرکمانڈر تھا، اُس کی گرفتاری کے بارے میں کھلم کھلا کچھ نہیں کہا، البتہ وائٹ ہاؤس کے نمائندے رابرٹ گبز نے کل اسے "اہم کامیابی" قرار دیا ہے۔
"ظاہر ہے، وہ افغان طالبان کا نمبر دو سربراہ تھا اور طالبان سرگرمیوں کا سرکردہ تھا، تویہ کامیابی ہماری مشترکہ کوششوں کی نمائندگی کرتی ہے۔" گبز نے وائٹ ہاؤس خبرنویسوں کو بتایا۔
پاکستانی حکومت نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ پاکستانیوں نے سی آئی اے کے ساتھ مل کر برادرکو پکڑنے کے بعد تحویل میں لیا، گبز نے کہا، جنہوں نے طالبان کمانڈر سے تفتیش کے دوران حاصل ہونے والی معلومات بتانے سے انکار کر دیا تھا۔
اس گرفتاری کی خبر اس وقت آئی جب نیٹو اور افغان فوجیوں نے طالبان جنگجؤں کے خلاف جنگ شروع کی، جو کہ بظاہر برادر کی کمان میں جنوبی افغانستان میں لڑی جا رہی تھی۔ حکام نے کہا کہ مرکزی ہلمند کے صوبے مرجاہ کے علاقے میں اِس کاروائی کے نتیجے ہیں ابتدائی پیش رفت اور سخت مزاحمت کا سامنا ہوا ہے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















