صفحہ اول | خبریں | ویسٹ پوائنٹ کے کیڈٹس نے مصر میں تاریخ بنتے دیکھی
ویسٹ پوائنٹ کے کیڈٹس نے مصر میں تاریخ بنتے دیکھی
منجانب Kathy Eastwood, West Point Public Affairs
CENTCOM

ویسٹ پوائن کلاس 2012 کے کیڈٹ بینیٹ ہول کومب محکمہ غیر ملکی زبان کے عربی سیکشن کے تعاون سے ہونے والے ایک پروگرام کے تحت 16 دیگر ساتھیوں کے ہمراہ گزشتہ برس بھی مصر آئے تھے۔ لیکن اس مرتبہ جنوری میں اس دورے پر وہ اور انکے ساتھیوں نے مصر کے انقلاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

ویسٹ پوائنٹ، نیویارک 2 مارچ 2011 ۔۔ ویسٹ پوائنٹ کے کیڈٹ مصر میں زبان سیکھنے گئے تھے لیکن وہاں انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے تاریخ بنتے بھی دیکھی۔

امریکی بحری اکیڈمی کے دو اہلکاروں کے ہمراہ کلاس 2012 کے آٹھ ارکان کیڈٹس جن کے نام بریٹ شاک، برینڈین مہاہونی، برینڈین لوپیز، پیٹرک او شانسی، میتھیو میکگوفن، کالاں سنائیڈر، جیسن سٹیٹم اور بینیٹ ہول کومب ہیں، 25 جنوری کو مصر پہنچے۔ ان کا مقصد قاہرہ کی امریکن یونیورسٹی میں ایک سمسٹر پر محیط پروگرام کو مکمل کرنا تھا۔

ان میں سے تین کیڈٹ ہول کومب، مہاہونی اور سنائیڈر گزشتہ برس مئی میں بھی قاہرہ کے درایا لینگوئج سکول سے گرمیوں کے پروگرام میں عربی سیکھنے کے لیے یہاں آئے تھے اور اپنے اگلے چکر میں وہ ایک انقلاب میں پھنس چکے تھے۔

اپنی ایک ای میل میں سنائیڈر لکھتے ہیں کہ قائرہ پہنچنے کے بعد پہلے دن سے ہی، اگرچے صورتحال غیر یقینی تھی، لیکن ہم رکنا چاہتے تھے۔ ماحول بہت گرم تھا۔ یہ ایسی خانہ جنگی نہیں تھی جیسی ہم خبروں میں دیکھتے رہے ہیں۔ یہ تو بس مصری عوام کے لیے دلچسپ وقت تھا اور ہم ایسے اچھے وہاں تھے جب مغربی صحافیوں نے ملک میں آنے سے انکار کر دیا تھا۔

سنائیڈر کا مزید کہنا ہے کہ اگرچے وہ ایک دن ہوٹل سے آتے ہوئے اتفاق سے مظاہرین کے قریب گاڑی میں پھنس گئے لیکن کوئی بھی انہیں اس کام میں پڑنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس، خاص طور پر خفیہ والے، ہمیں وہاں سے لے گئے اور اجنبی لوگ گزرتے ہوئے ہمارے کانوں میں سرگوشیاں کرتے تھے کہ اس گلی سے بچنا اور اس گلی سے بچنا۔ ہمیں اپنی حفاظت کا کوئی خطرہ نہیں تھا اور سارا دن باہر گھومتے رہے لوگوں سے باتیں کیں، کھانا کھایا اور گھومے پھرے جہاں فوج کی موجودگی کے باوجود حالات کافی مختلف نظر آتے تھے۔

کیڈٹ مصر پہنچے تو انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ سفارتخانے سے احکامات لیں۔

محکمہ غیر ملکی زبان عربی کے انسٹرکٹر میجر مارک وٹمین کا کہنا ہے کہ ہم نے حالات پر کڑی نظر رکھی تھی۔ انٹرنیٹ اور سیل فون دستیاب نہیں تھا لیکن کیڈیٹس نے لینڈ لائن فون سے رابطہ برقرار رکھ کر کمال کا کام کیا۔

وٹمین کہتے ہیں کہ کیڈیٹس کا پہلا سٹاپ امریکی سفارتخانہ تھا جہاں انہیں بریفنگ دی جانی تھی۔

وٹمین بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر کیون پیٹرک نے کیڈٹس کو آگے لے گئے کیونکہ وہ قاہرہ میں ایک محفوظ کمپاونڈ میں رہتے ہیں۔ کل پیٹرک کا بیٹا کلاس 2012 کا کیڈٹ ہے اور اس کے والد صاحب اس ملک میں آنے والے کیڈیٹس کی اکثر میزبانی کیا کرتے ہیں۔

سنائیڈر بتاتے ہیں کہ حتیِٰ کہ قائرہ کے بعض علاقوں میں لوگ لوٹ مار میں مصروف تھے اردگرد کے بعض مقامی لوگوں نے کل پیٹرک کے گھر کے سامنے چوکی بنا لی اور ساری رات پہرے داری کرتے رہے۔

کیڈیٹس کو مصر سے نکال کر عربی بولنے کسی دوسرے ملک میں پہنچانے کا عمل باآسانی مکمل ہو گیا۔

وٹمین کہتے ہیں کہ کیونکہ لوگ بڑی تعداد میں ملک چھوڑ کر جا رہے تھے اس لیے ایئرپورٹ پر ایک دن کی تاخیر ہو گئی۔ پھر وہ ایتھنز، یونان گئے اور وہاں بھی دیر ہو گئی۔ بالاخر مشرقِ وسطیٰ کی ایک یونیورسٹی نے کیڈیٹس کو لینے پر رضامندی ظاہر کر دی۔ کیڈیٹس کو رجسٹرڈ کرانے میں ہمیں بہت مدد ملی۔

اگرچے بحری اکیڈمی کا اس یونیورسٹی کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں لیکن دو مڈشپمین بھی یونیورسٹی میں رکھ لیے گئے۔ وٹمین کہتے ہیں کہ اس سارے عمل میں یونیورسٹی نہایت مددگار رہی۔

مصر میں انقلاب سے قبل کیڈیٹس عربی سیکھنے کے لیے مصر، مراکش یا اردن جایا کرتے تھے۔

بیرونِ ملک تعلیم پروگرام کی ڈائریکٹر ہیتھر چیڈویک کے مطابق پروگرام کے 40% سے کے لگ بھگ شرکاء نے زبان کے علاوہ دیگر شعبوں میں تعلیم حاصل کی۔

چیڈ وک نے بتایا کہ اس عمل میں ایک معیارمقر رہے، کیڈٹ یا تو جونئر ہوتے ہیں یا سینئر اور ان کیلئے ایک زبان میں تین سمیسٹرکرنا ضروری ہوتا ہے۔ کیڈٹس کو پانچ کورسزکی پڑھائی کی ضرورت ہوتی ہے، جن میں سے تین کورسزمیزبان ملک کی زبان کے حوالے سے ہوتے ہیں انہیں گریجویشن کیلئے سمیسٹر کی تکمیل کے دوران تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔

اس پروگرام کا مقصد کیڈٹس کوغیرملکی ثقافت کے حوالے سے وسیع تناظراور بہتر سوجھ بوجھ فراہم کرنا ہے۔ جو کہ پوری دنیا میں امریکا کی نمائندگی کرنے والے فوجیوں کیلئے ایک انتہائی ضروری امر ہوتا ہے۔

چیڈوک نے بتایا کہ ہم کہنیوں کے بل رینگنے، دوڑنے کےعلاوہ چہل قدمی کے ذریعے بھی ایسا کرتے ہیں۔ کیڈٹ کلاسوں میں وقت گزارنے پر کرالنگ یعنی کہنیوں کے بل رینگنے کی مشق کرتے ہیں یا پھر انفرادی تعلیمی بہتری میں پیش ایڈوانس انڈیویزول اکیڈمی کیلئے دوڑتے ہیں، یا پھرکسی بھی ملک میں ورک سٹڈی کے سمیسٹر کے ساتھ بھاگے بھاگے پھرتے ہیں۔

ویسٹ پوائنٹ میں بیرون ملک تعلیم کا پروگرام 1998 میں شروع ہوا جب کیڈٹ فرانس میں ایکول خصوصی فوجی سکول میں تعلیم حاصل کرنے گئے۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 23 times

فیس بُک پر دوست
33,167+