| آتش فشاں کی راکھ نے افغانستان سے زخمیوں کو منتقل کرنے کا راستہ بدل دیا |
منجانب , American Forces Press Service شئیرمتعلقہ خبریں
فضائیہ کے بریگیڈیر جنرل سٹیون کواسٹ نے کہا کہ محکمہ دفاع کے عہدہ داروں نے دستوں کی زندگی بچانے کے امکان کو بہتر بنانے اور بگرام میں جہاں پر افغانستان میں امریکی ابتدائی طبی مرکز واقع ہے طبی گنجائش کو برقرار رکھنے کے لیۓ جنگ کے زخمیوں کو بلاد عراق میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ 455 ویں فضائی مہماتی ونگ کے کمانڈر کواسٹ نے پینٹاگون کے نامہ نگاروں کو بتایا کہ " یہ طبی ضرورت کارفرما ہے کہ سفر کے دوران وقفہ دینے سے زندگیاں بچ سکتی ہیں اور ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔" کواسٹ نے کہا کہ بلاد میں اتنی گنجائش تو ہے نہیں جنتی جرمنی کے لینڈ سٹوہل کے علاقائی طبی مرکز میں ہوتی ہے جہاں عموما" مزید علاج کے لیۓ امریکہ بھیجنے سے پہلے دستوں کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ فوج نے یہ یقینی بنانے کے لیۓ کہ عراق میں ویسی ہی دیکھ بھال فراہم ہو متعدد اقدامات کیۓ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ"حقیقت یہ ہے کہ لینڈ سٹوہل کی بجاۓ بلاد جانے کی وجہ سے دیکھ بھال کے معیارمیں کوئی کمی نہیں آئے گی۔" بگرام کے فیلڈ ہسپتال میں گنجائش برقرار رکھنے کی ضرورت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوۓ کواسٹ نے بچھلے سال کیٹنگ کی دور افتادہ جنگی چوکی پر ہونے والی لڑائی کا حوالہ دیا۔ پاکستان کی سرحد کے قریب امریکی فوج کے دور افتادہ کیمپ میں جو لڑائی پھوٹ پڑی اس میں آٹھ امریکی فوجی ہلاک اور 24 زخمی ہوۓ جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہلاک یا زخمی ہونے والوں کےعلاج کے لیۓ ضروری ساز و سامان سے لیس ایک فیلڈ ہسپتال کی ضرورت محسوس ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ "ہم کوفوری نوٹس پر کیٹنگ کی دور افتادہ جنگی چوکی ک طرح یا دشمن کی طرف سے ایک تباہ کن حملے کے لیۓ تیار رہنا چاہیۓ۔ ایسی صلاحیت کو حاصل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ان زخمی سپاہیوں کو [عراق] منتقل کرنا پڑے گا اور ہمیں ان کو اس طریقے سے منتقل کرنا پڑے گا جس میں ہمارے پاس غیرمتوقع حالات سے نمٹنے کے لیۓ صلاحیت ہو۔ کواسٹ نے کہا کہ تاہم جنگی کاروائیوں کے دوران زخمی اور ہلاک ہونے والوں کو منتقل کرنے کے لیۓ فوج مختلف پروازوں میں ایسے فضائی راستے استعمال کر رہی ہے جو راکھ کے بادل سے ہٹ کر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ" آتش فشاں پھٹنے کے بعد ان کےجسد خاکی کو وطن واپس لانے میں ان کی وقت کی پابند کارکرگی اور عزت و احترام میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔" راکھ کا ایک بادل جو بچھلے ہفتے پھیلنا شروع ہوا ابھی تک یورپی اور اوقیانوس کی پروازوں کے راستے میں حائل ہو رہا ہے جن میں یہ امریکی فوجی جہاز بھی شامل ہیں۔ آئرلینڈ سے لے یوکرین تک ہزاروں شہری اور فوجی پروازیں منسوخ کر دی گئ ہیں جبکہ ایجیف جالاجوکل آتش فشان کا راکھ اگلنے کا عمل جاری ہے۔ افغانستان جنگ میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لیۓ راستہ بدلنے کے علاوہ امریکی فوج نے دوسری تبدیلیاں بھی کی ہیں۔ انگلستان میں امریکی فضائی اڈّے ملڈن ہال اور لیکن ہیتھ اور جرمنی میں رمسٹین اور سپرینگ ڈاہلم اس راکھ کے بادل سے متاثر ہوۓ ہیں۔ کل پینٹاگون کے ترجمان برائن وہٹمین نے کہا کہ "یورو کنٹرول کی طرف سے پروازوں پر لازمی پابندی اور ان کو معطل کرنے کے باعث کوئی پروازیں اڑ نہیں رہیں ہیں۔ یورو کنٹرول امریکی وفاقی ہوائی انتظامیہ کے مساوی ہیں۔ وہٹمین نے مزید کہا کہ "ہمارے پاس اپنے زخمیوں کو [امریکی مرکزی کمان کے علاقے سے] نکالنے کے لیۓ ایک ٹھوس ہنگامی منصوبہ موجود ہے اور ہم نے اپنے انخلا کے طبی ہوائی جہازوں میں سے کچھ روٹا، اسپین پنہچا دیۓ ہیں۔ ان کے ساتھ طبی ٹیمیں بھی ہیں جو تمام راستے دیکھ بھال فراہم کرتی ہیں۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 























