صفحہ اول | خبریں | آتش فشاں کی راکھ نے افغانستان سے زخمیوں کو منتقل کرنے کا راستہ بدل دیا
آتش فشاں کی راکھ نے افغانستان سے زخمیوں کو منتقل کرنے کا راستہ بدل دیا
منجانب , American Forces Press Service

امریکی فضائیہ کے اسٹاف سارجنٹ جو کوول اور ڈین گریوائس 20 اپریل کو جرمنی میں رامسٹین کے ہوائی اڈے پر ایک خالی فلائیٹ لائن میں بیٹھے ہیں۔ آئس لینڈ میں ایک آتش فشاں کے پھٹنےکی باعث پروازیں بند کر دی گئیں تھیں۔
واشنگٹن (20 اپریل، 2010)  - واشنگٹن - آج ایک فوجی عہدہ دار نے بتایا کہ آئس لینڈ میں ایک آتش فشاں کی راکھ نے یورپی فضائی آمدورفت کو محدود کر دیا جس کی وجہ سے امریکی فوج افغانستان میں زخمی دستوں کے راستہ کو بدل کر جرمنی کے  بجاۓ عراق  کے راستے سے لے جانے پر مجبور ہو گئے۔

فضائیہ کے بریگیڈیر جنرل سٹیون کواسٹ نے کہا کہ محکمہ دفاع کے عہدہ داروں نے دستوں کی زندگی بچانے کے امکان کو بہتر بنانے اور بگرام میں جہاں پر افغانستان میں امریکی ابتدائی طبی مرکز واقع ہے طبی گنجائش کو برقرار رکھنے کے لیۓ جنگ کے زخمیوں کو بلاد عراق میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

455 ویں فضائی مہماتی ونگ کے کمانڈر کواسٹ نے پینٹاگون کے نامہ نگاروں کو بتایا کہ " یہ طبی ضرورت کارفرما ہے کہ سفر کے دوران  وقفہ دینے سے زندگیاں بچ سکتی ہیں اور ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔"

کواسٹ نے کہا کہ بلاد میں اتنی گنجائش تو ہے نہیں جنتی جرمنی کے لینڈ سٹوہل کے علاقائی طبی مرکز میں ہوتی ہے جہاں عموما" مزید علاج کے لیۓ امریکہ بھیجنے سے پہلے دستوں کی دیکھ بھال  کی جاتی ہے۔  فوج نے یہ یقینی بنانے کے لیۓ کہ عراق میں ویسی ہی دیکھ بھال فراہم ہو متعدد اقدامات کیۓ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ"حقیقت یہ ہے کہ لینڈ سٹوہل کی بجاۓ بلاد جانے کی وجہ سے دیکھ بھال کے معیارمیں کوئی کمی نہیں آئے گی۔"

بگرام کے فیلڈ ہسپتال میں گنجائش برقرار رکھنے کی ضرورت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوۓ کواسٹ نے بچھلے سال کیٹنگ کی دور افتادہ جنگی چوکی پر ہونے والی لڑائی کا حوالہ دیا۔ پاکستان کی سرحد کے قریب امریکی فوج کے دور افتادہ کیمپ میں جو لڑائی پھوٹ پڑی اس میں آٹھ امریکی فوجی ہلاک اور 24 زخمی ہوۓ جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہلاک یا زخمی ہونے والوں کےعلاج کے لیۓ ضروری ساز و سامان سے لیس ایک فیلڈ ہسپتال کی ضرورت محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ "ہم کوفوری نوٹس پر کیٹنگ کی دور افتادہ جنگی چوکی ک طرح یا دشمن کی طرف سے ایک تباہ کن حملے کے لیۓ تیار رہنا چاہیۓ۔  ایسی صلاحیت کو حاصل کرنے کا  مطلب یہ ہے کہ ہمیں ان زخمی سپاہیوں کو [عراق] منتقل کرنا پڑے گا اور ہمیں ان کو اس طریقے سے منتقل کرنا پڑے گا جس میں ہمارے پاس غیرمتوقع حالات سے نمٹنے کے لیۓ صلاحیت ہو۔

کواسٹ نے کہا کہ تاہم جنگی کاروائیوں کے دوران  زخمی اور ہلاک ہونے والوں کو منتقل کرنے کے لیۓ فوج مختلف پروازوں میں ایسے فضائی راستے استعمال کر رہی ہے جو راکھ کے بادل سے ہٹ کر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ" آتش فشاں پھٹنے کے بعد ان کےجسد خاکی کو وطن واپس لانے میں ان کی وقت کی پابند کارکرگی اور عزت و احترام میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔"

راکھ  کا ایک بادل جو بچھلے ہفتے پھیلنا شروع ہوا ابھی تک یورپی اور اوقیانوس کی پروازوں کے راستے میں حائل ہو رہا ہے جن میں یہ امریکی فوجی جہاز بھی شامل ہیں۔ آئرلینڈ سے لے یوکرین تک ہزاروں شہری اور فوجی پروازیں منسوخ کر دی گئ ہیں جبکہ ایجیف جالاجوکل آتش فشان کا راکھ  اگلنے کا عمل جاری ہے۔

افغانستان جنگ میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لیۓ راستہ بدلنے کے علاوہ امریکی فوج نے دوسری تبدیلیاں بھی کی ہیں۔  انگلستان میں امریکی فضائی اڈّے ملڈن ہال اور لیکن ہیتھ اور جرمنی میں رمسٹین اور سپرینگ ڈاہلم اس راکھ کے  بادل سے متاثر ہوۓ ہیں۔

کل پینٹاگون کے ترجمان برائن وہٹمین نے کہا کہ "یورو کنٹرول کی طرف سے پروازوں پر لازمی پابندی اور ان کو معطل کرنے کے باعث کوئی پروازیں اڑ نہیں رہیں ہیں۔  یورو کنٹرول امریکی وفاقی ہوائی انتظامیہ کے مساوی ہیں۔

وہٹمین نے مزید کہا کہ "ہمارے پاس اپنے زخمیوں کو [امریکی مرکزی کمان کے علاقے سے] نکالنے کے لیۓ ایک ٹھوس ہنگامی  منصوبہ موجود ہے اور ہم نے اپنے انخلا کے طبی  ہوائی جہازوں میں‎ سے کچھ روٹا، اسپین پنہچا دیۓ ہیں۔ ان کے ساتھ طبی ٹیمیں بھی ہیں جو تمام راستے دیکھ بھال فراہم کرتی ہیں۔

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 25 times

فیس بُک پر دوست
33,184+