صفحہ اول | خبریں | ویتنام کے تجربہ کار فوجیوں کی افغانستان میں خدمات جاری
ویتنام کے تجربہ کار فوجیوں کی افغانستان میں خدمات جاری
منجانب Capt. Christina Wright, 101st Combat Aviation Brigade Public Affairs
121022_vietnam
چیف وارنٹ آفیسر 4 والٹر جونز 61 سالہ کلارکس ول، ٹینسی کے مقامی ہیں، جو ڈی کمپنی، 5 ویں بٹالین، 101 ویں جنگی فضائی بریگیڈ کے ساتھ مشرقی افغانستان میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ جونز ویت نام کے ایک تجربہ کار فوجی ہیں اور انھیں 30 سال کی خدمات کا تجربہ حاصل ہے۔ (فوٹو منجانب کیپٹن کرسٹینا رائٹ)

صوبہ لوگر، افغانستان (21 اکتوبر، 2012) – آپ چیف وارنٹ آفسر 4 والٹر جونز سے پوچھیے کہ وہ کیوں خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور وہ آپ کو بتائیں گے کہ "یہ سب کچھ اڑنے کی خواہش اور فوجیوں کے لیۓ ہے۔"

جونز جو ماؤنٹین ہومز، آئڈاہو میں پیدا ہوۓ تھے، افغانستان میں کمپنی ڈی، 5ویں بٹالین، 101ویں جنگی ایوی ایشن بریگیڈ کے ساتھ فضائیہ کی دیکھ بھال کے ایک افسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جونز اٹھارہ سال کی عمر میں فوج میں بھرتی ہوۓ تھے اور 1969 میں بنیادی تربیت مکمل کرنے کے بعد، یو-ایچ- 1 "ہیوئی" کے عملے کے چیف بننے کے لیۓ فورٹ رکر، ایلیباما چلے گۓ۔ اس کے فوراً بعد انہوں نے خود کو کین ٹو، ویت نام میں 162ویں حملہ آور ہیلی کاپٹر کمپنی کے ساتھ تفویض پایا۔

ایک دن ایک مشن کے دوران ان کے طیارے پر چھوٹے ہتھیاروں سے گولیاں برسنا شروع ہو گئیں۔ گولیوں کا راؤنڈ ہیلی کاپٹر کے ایندھن کے حصے پر لگا، اور طیارے کو فوری طور پر آگ لگ گئی۔ ہیلی کاپٹر نے زمین سے 200 فٹ کی بلندی پر گھومنا شروع کر دیا۔

جونز نے تصادم کے لیۓ تیاری پکڑ لی اور اس نے ان کو بے ہوش کر دیا۔

وہ زخمی ہو گۓ اور ہسپتال میں دس ماہ تک بحالی کے لیۓ رہے۔ اس دوران انھوں نے ایک اہم فیصلہ کیا۔

جونز نے کہا کہ "اس تجربے نے واقعی میں میری اس بات پر توجہ مرکوز کی کہ میں زندگی میں کیا کرنا چاہتے تھا ۔ میں فوج میں کیریئر بنانا چاہتا تھا۔" فوج نے ایک ٹیلی فون لائن مرمت کنندہ کے طور پر اس کی دوبارہ درجہ کی اور فورٹ بریگ، شمالی کیرولائینا میں 82 ویں فضائی ڈویژن کے ساتھ تعینات کر دیا۔ ویت نام میں ایک ہیوئی کے عملے کے سربراہ کے طور پر قابل قدر لڑائی کا تجربہ ہونے کی وجہ سے انھوں نے فوری طور پر واپس ہوا بازی میں آنے کا راستہ نکال لیا۔

یہ 1973 ء میں عرب اسرائیل جنگ کے دوران ان کا سرد جنگ کے ساتھ پہلا تجربہ تھا۔ انھیں تیار رہنے کی حالت میں سبز ریمپ پربیٹھ کر ضرورت پڑنے پر اسرائیل کی مدد کے لیۓ بیٹھنا یاد ہے، لیکن اسرائیل کو اس کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔

فورٹ بریگ میں تعیناتی کے دوران انھوں نے مستقبل کے یو-ایچ-60 بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کا پورے سائیز کا تجرباتی بالسا ووڈ کا بنا ہوا ماڈل بھی دیکھا۔ انھوں نے اپنے دوستوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا، "میں اس کو ایک دن اڑاؤں گا۔"

"اور میں نے ایسا کیا"، جونز نے کہا، جو اب ایک بلیک ہاک کے تجربہ کار پائلٹ ہیں۔

1975 میں، وہ فضائی اسکول سے پڑھ کر فارغ ہوۓ۔ 101 فضائی ڈویژن ان کی نظر میں اگلا مرحلہ تھا۔ ڈی کمپنی، 158 ویں حملہ آور ہیلی کاپٹر بٹالین کے تعینات، یہی وہ جگہ ہے جہاں 'گھوسٹ رائیڈر' کے ساتھ ہوتے ہوۓ ان کا بلیک ہاک اڑانے کا خواب حقیقت بن گیا۔ ڈی کمپٹی فوج کی پہلی یونٹ تھی جس کو یو-ایچ-60 ملا، اور 1979 میں وہ ان پہلے پائلٹوں میں سے ایک بن گۓ جنہوں نے یو-ایچ-60 کے لیۓ قابلیت کے کورس کیۓ۔

جونز نے کہا کہ "جہاں تک فوج کی فضائیہ کا تعلق ہے 101 ویں نے معیار قائم کیا ۔ 101 ویں ایسا کرنے کا واحد طریقہ ہے، یہ فضائی حملوں کا معیار قائم کرتی ہے۔"

کوریا، ہوائی، اور ٹیکسس میں کام کرنے کے بعد جونز اس وقت واپس فورٹ کیمبل، کینٹکی واپس آ گۓ جب 6 ویں حملہ آور ٹریننگ بٹالین 101 ویں کے گھر واپس آ گئی اور دوسری/101 ویں حملہ آور بٹالین بن گئی۔

جونز 1993 میں فورٹ کیمبل سے فعال ڈیوٹی سے ریٹائر ہو گے۔ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ٹھیکے کی نوکری کے لیۓ سعودی عرب چلے گۓ، جہاں انھوں نے اڑانا جاری رکھا۔

1999 میں ان کی بیوی ڈائین نے انھیں انتباہ کیا۔

جونز نے یاد کرتے ہوۓ کہا کہ"اس نے مجھ سے کہا کہ اگر تم دربارہ گۓ تو واپس آنے کی زحمت مت کرنا" ۔

تو انھوں نے 2001 میں ڈن کارپ کے ساتھ فورٹ کیمبل پر دوبارہ نوکری کر لی۔ فوجی اڈے پو دوبارہ واپس آنا، فوجیوں کے ساتھ کام کرنا، اور صرف جہازوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سے جونز نے ایک فوجی اور ایک شہری کی زندگی میں واضع فرق محسوس کیا۔

انہوں نے کہا کہ"فوجیوں کے ارد گرد ہونے کے ناطے اور ایک شہری کے طور پر صبح نو سے شام پانچ بجے تک کی نوکری مختلف ہے ۔ جب آپ ایک شہری کے طور پر کام کر رہے ہوتے ہیں، 10 میں سے نو مرتبہ، آپ ان لوگوں سے جن کے ساتھ کام کرتے ہیں کام کے بعد منسلک نہیں ہوتے، جب بھی آپ اپنا کام ختم کرنے کے بعد اپنا راستہ لیتے ہیں۔"

جونز نے فوجیوں کے ساتھ دوستی خاندان کا احساس جو فوجی کام کے ساتھ آتا ہے کی کمی محسوس کرنی شروع کر دی۔ ڈائین یہ محسوس کر سکتی تھیں کہ ان کے شوہر کو اپنی پرانی زندگی کی کمی محسوس ہو رہی تھی۔

"جب وہ ریٹائر ہوۓ، میرا نہیں خیال تھا وہ دوبارہ فوج میں جائیں گے،" ڈائین نے کہا۔ "لیکن اس بات کو زیادہ دیر نہیں لگی جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ اس کی کمی محسوس کر رہے تھے اور ریٹائر ہونے پر پچھتا رہے تھے۔"

والٹر اور ڈائین، جنہوں نے ابھی اپنی شادی کی چالیسویں سالگرہ منائی تھی، فوجی خاندانوں میں پلے بڑھے تھے دونوں کے والد نے فضائیہ میں خدمات سر انجام دیں تھیں۔

"سچی بات یہ ہے کہ مجھے بھی فوجی زندگی کی کمی محسوس ہو رہی تھی،" ڈائین نے کہا۔ "فضائیہ میں پلنے بڑھنے سے فوج وہ واحد چیز تھی جس سے ہم مانوس تھے۔"

2004 میں، جونز نے فیصلہ کیا یہ تبدیلی کا وقت تھا۔ انہوں نے ایک منصوبہ بنایا اور فعال ڈیوٹی سروس پر واپس جانے کے مالی فوائد کے بارے میں ڈائین سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔

"میں جب بھی اس بارے میں سوچتا ہوں تو جذباتی ہو جاتا ہوں،" والٹر نے کہا۔ "اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا 'تم دوبارہ اڑنا چاہتے ہو۔' اگر میں نے کبھی بھی ملک سے باہر ٹھیکے کی دیکھ بھال کی نوکری کا ذکر کیا تو وہ نہ کر دے گی۔ لیکن میں فوج کے ساتھ جتنی مرتبہ مرضی چاہوں تعینات ہو سکتا ہوں۔ وہ ہر طرح سے ایک فوجی کی بیوی ہے۔"

والٹر نے ایک رضاکارنہ طور پر واپسی کے پروگرام کے تحت فعال ڈیوٹی پر واپسی کے لیۓ درخواست دی۔"

فارموں میں سے ایک جس کو انھوں نے بھرنا تھا اس کا نام فوج کی "ڈریم شیٹ" تھا۔ جب انھیں اپنے پسندیدہ تین سر فہرست کا انتخاب کرنے کو کہا گيا، تو والٹر کے پاس صرف ایک ہی جگہ تھی جہاں وہ جانا چاہتے تھے—فورٹ کیمبل۔

جونز نے کہا کہ"میں نے ان کو کہہ دیا کہ صرف 101ویں کے ساتھ، کوئی اگر مگر نہیں" ۔

جنوری 2005 میں، جونز فورٹ کیمبل میں نوکری دلانے کی ایک کمپنی کے پاس گۓ اور وہاں سے اپنی یونٹ کے پاس بھیجے گۓ۔ والٹر اسی یونٹ میں واپس بھیجے گۓ جہاں انھوں نے پہلے بھی تقریباً 30 سال تک خدمات سر انجام دیں تھیں۔ یہ ایسی بات تھی جس کی انھیں توقع نہیں تھی۔

جونز نے کہا کہ "جب میں واپس آیا، تو میں نے کسی خاص یونٹ کے لیۓ نہیں کہا تھا میں صرف واپس فضائی حملے میں آنا چاہتا تھا، واپس ہاک کو اڑانے کے لیۓ ۔ "جس کسی نے بھی یہ ممکن کیا ہے، ان کا شکریہ۔"

جونز کے لیۓیہ ایسا ہی تھا جیسا کہ گھر واپس آنا اور وہ اس پر بہت خوش تھے۔

پچھلے سات سالوں کے دوران 101 ویں جنگی فضائی بریگیڈ کے ساتھ کام کے دوران جونز 101 سی-اے-بی کے ساتھ چار مرتبہ ملک سے باہر تعینات ہوۓ۔ حالیہ تعیناتی ان کی افغانستان میں تیسری مرتبہ ہے۔

32 سالوں کی فعال ڈیوٹی کے تجربہ کے ساتھ جونز آپ کو بتائیں گے کہ ان کے ویت نام میں خدمات کے دنوں سے لے کر اب تک کچھ زیادہ نہیں بدلا۔

جونز نے کہا کہ "جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو اور سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ آلات اور ٹیکنالوجی بہت زیادہ پیچیدہ ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ وقت سادہ تھا۔ اب نوجوان فوجیوں کو وہ کام کرنے کے لیۓ جو ہم اس وقت کیا کرتے تھے، بہت زیادہ ہوشیار ہونا پڑتا ہے۔ میں ان نوجوان فوجیوں کی ان باتوں پر تعریف کرتا ہوں جن سے وہ نمٹنے اور اور جس کے ساتھ وہ کام کرتے ہیں۔"

جونز ایک ایسے شخص کی روشن مثال ہے جو ہر روز وہ کچھ کرتا ہے جسے وہ دل سے چاہتا ہے۔

ڈائین نے کہا کہ "وہ فوج میں واپس آنے پر خوش ہے اور وہ کام کر رہا ہے جس سے اسے محبت ہے ۔ مجھے خوشی ہے کہ وہ اس کام کو کرنے کے قابل ہے جس سے اُسے لگاؤ ہے۔"

 

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 22 times

فیس بُک پر دوست
33,148+