| یو ایس اے سی ای جنوبی افغانستان میں پانی اور بجلی تک رسائی کو بہتر بناۓ گا |
منجانب Karla Marshall, Army News Service شئیرمتعلقہ خبریں
کجاکی بجلی گھر، صوبہ ہلمند، افغانستان امریکی آرمی کور آف انجینئرز کی مرمت کے لیۓ سر فہرست ہے۔ (فوٹو منجانب کارلا مارشل)
قندھار ائیر فیلڈ، افغانستان (25 جون، 2012) - امریکی فوج اور اس کے اتحادی پارٹنرز اپنے جنگی مشن کو افغانستان میں کم کر رہے ہیں لیکن اگلے دو سال یو ایس آرمی کور آف انجینئرز افغانستان انجینئر ضلع جنوبی کی مصروفیت جاری رہے گی۔ اس مالی سال کے دوران جنوبی ضلع کے 51 تعمیراتی منصوبوں کی اجازت دی جائے گی، تین پانی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے ضلع کی ترجیح کی فہرست پر اول نمبر پر ہیں – دھالہ اور کجاکی ڈیم اور جنوب مشرقی بجلی کا پاور سسٹم - افغانستان کے بنجر جنوب میں اہم بنیادی ڈھانچے کا نظام جن کوجدید بنانے اور مرمت کی کافی ضرورت ہے۔ "یہ تین منصوبے ہلمند اور قندھار کے صوبوں میں افغان شہریوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیئے اہم ہیں، ائیرفورس کرنل بنیامین وہیم، جنوبی ضلع کمانڈر نے کہا۔ "اکٹھے یہ تَقريباً 421 ملین ڈالر کی مالیت کی تعمیر کی نمائندگی کرتے ہیں اور دونوں صوبوں کے لیئے پانی اور بجلی کی فراہمی کو بہتر بنائیں گے۔" دھالہ ڈیم ارغنداب دریا پر قندھار صوبے میں واقع، دھالہ ڈیم سالوں کی غفلت اور جنگ کی وجہ سے متاثر ہوا ہے۔ اس میں اندر آنے اور [پانی کے] باہر نکالنے کا کام صحیح طریقے سے نہیں ہوتا اور مٹی گارے نے ذخائر کی صلاحیت کو کم کر دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں صوبہ قندھار کے لیئے آب پاشی کے نظام جس کی کینیڈین انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایجنسی کی جانب سے گزشتہ کئی سالوں کے دوران نہروں کی مرمت کے باوجود پانی کی فراہمی 30 فی صد تک بھی نہیں پہنچتی۔ آب پاشی کے لیئے پانی میں اضافہ ہونے کا مطلب ہے کہ ایک دفعہ کے زرخیز "افغانستان کا زرعی علاقہ" پھر دوبارہ سے پھل اور سبزیاں پیدا کر سکتا ہے جن کی افغانستان کو اپنے لوگوں کا پیٹ بھرنے کے لیۓ ضرورت ہے۔ "کینیڈا نے پہلے ہی اپنے ارغنداب آبپاشی کی بحالی کے پراجیکٹ کے ایک حصے کے طور پر دذالہ ڈیم کے جنوب میں آب پاشی کی نہروں کی مرمت کر دی ہے،" وہیم نے کہا۔ "ہمارے مشن کے تین مرحلے ہیں: دھالہ ڈیم میں ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ تاکہ آب پاشی کے لیئے زیادہ پانی دستیاب ہو، سپل واٹر کی اونچائی میں اضافہ اور موجودہ دیواروں اور سیڈل ڈیموں کے کنارے کو مظبوط بنانا ہے۔" انجینئرز کور دھالہ ڈیم کی تعمیر کی نگرانی دو مرحلوں میں کریں گے۔ پہلے مرحلے میں [پانی کے] اندر آنے اور باہر نکالنے کے کام میں بہتری شامل ہو گی۔ "ہم دھالہ ڈیم کے منصوبے کے اس مرحلے کو شروع کرنے کی توقع کرتے ہیں،" لنڈا مرفی نے کہا جو جنوبی ضلع کے پانی اور بنیادی ڈھانچے کی شاخ کی سربراہ ہیں۔ موجودہ ان ٹیک ٹاور کو ڈیم کی آٹھ میٹر کی بلندی کو موافق بنانے کے لیۓ اس کی مرمت کی جائے گی، موجودہ ٹاور کے گیٹ اور آپریٹنگ مشینری کی مرمت کی جاۓ گی، اور ایک ٹاور گیٹ کے ڈیزائن کو ٹاور گيٹ کی جگہ کومضبوط کرنے اور ایک نئے ٹاور گيٹ کی فراہمی اور آپریٹنگ مشینری کے ذریعے برقرار رکھا جاۓ گا۔
نیا آؤٹ لیٹ موجودہ والو ہاؤس سے ملحقہ نۓ والو ہاؤس اور آؤٹ لیٹ ٹنل کی توسیع سے منسلک ہو گا۔ چار نئے والوز دو موجودہ والوز کی جگہ لیں گے اور والو ہاؤس کی مستقبل کے صنعتی پانی کی فراہمی کو ایڈجسٹ کر کے بنایا جاۓ گا۔
دوسرے مرحلے دیواروں کا کام شامل ہو گا۔ "ہم ڈیم کی دیواروں کو پانچ میٹر بلند کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں،" مرفی نے کہا۔ "بجٹ کے اندر رہنے کے لیئے، ہم ایک مٹی کی دیوار کو میکانکی طور پر مستحکم کرکےاستعمال کریں گے۔" مرفی نے کہا کہ منصوبہ بندی میں مٹی سے بھرتی والے چھ سیدل ڈیموں کو اونچا کرنا اور بڑی سپل وے کو رولر سے دبائی ہوئی کنکریٹ کے ذریعے چوڑا کرنا شامل ہے۔ دوسری سپل وے کو مٹی سے بناۓ گۓ سیڈل ڈیم سے بدل دیا جاۓ گا۔ 2013 کے ملی سال میں جیسے ہی رقم مہیا ہو گی، ضلعے کو دوسرے مرحلے پر کام دیا جاۓ گا۔ کجاکی ڈیم ہلمند صوبے میں ہلمند دریا پر واقع کجاکی ڈیم دو افعال کے لیئے خدمات انجام دیتا ہے: ہلمند دریا کے نچلے حصے میں آب پاشی اور پانی کے لیئے ایک ذریعہ اور پن بجلی کی پیداوار۔ یو ایس اے سی ای نے کجاکی ڈیم کے منصوبے کے ساتھ ساتھ کئی اور منصوبے بھی بناۓ ہیں جن کی کل مالیت تَقريباً 205 ملین ڈالرہے۔ تمام کے تمام منصوبوں آب پاشی کے لیۓ پانی کے بہاؤ اور بجلی کی پیداوار کو بہتر بنائیں گے، مرفی نے کہا جو کہ یو ایس اے سی ای لوئیزول ضلعے سے یہاں تعینات ہیں۔ پہلے مرحلے میں ڈیم کے [پانی اے اندر آنے] ان ٹیک ڈھانچے کی مرمت کی جائے گی۔ اس وقت گیٹ بند نہیں ہوتے، تو گیٹوں کی یا آب پاشی کے لیۓ سرنگوں کی کسی بھی طرح کی مرمت نہیں کی جا سکتی، نادر نوری نے کہا جو ڈیم کے لیئے ضلعی پروجیکٹ مینیجر ہیں۔ "اس منصوبے میں موجودہ ان ٹیک کے ڈھانچے کے اجزاء کی بحالی بھی شامل ہے---ان ٹیک دیوار گیٹ، سٹیل سلائیڈنگ گیٹ، کرین، کرین کو اٹھانا اور جوڑنا، اس کے جڑے حصے، اور ہائڈرولوجی پیمائیش،" نوری نے کہا جو افغانستان کے ایک مقامی ہیں اور جو 30 سال سے بھی پہلے ریاستہاۓ متحدہ امریکہ میں جا بسے تھے۔ دوسرے مرحلے میں آب پاشی کی سرنگ کے اندراور84 -انچ کے تین روٹو والوز اور آب پاشی کی سرنگ کے اختتام پر تین 84- انچ کے جیٹ والوز کی بحالی کی جاۓ گی۔ نوری کے مطابق، روٹو والو کو پانی کے زیادہ دباؤ کے باوجود کھولنے اور بند کرنے کو نسبتا آسان کرنے کے لیۓ بنایا گیا ہے۔ جیٹ والوز کو آؤٹ لیٹ کے ڈھانچے کے حصے کے طور پر لگایا گیا ہے، اور یہ ڈیم کی تہ سے باہر نکلنے والے پانی کے دباؤ میں کمی کرتا ہے جو کہ شکست و ریخت اور کرچن سے بچاتا ہے۔ اس منصوبے کا ایک اور حصہ ڈیم پر ناکارہ پائیزو میٹر کی موجودہ حالت کا اندازہ کرنے کے لیئے اور ان کی مرمت یا تبدیلی کے لیۓ بولیاں حاصل کرنا ہے۔ نوری نے کہا کہ پائیزو میٹر ڈیم سے گزرتے پانی کے بہاؤ کو ماپتا ہے؛ وہ آپریٹرز کو ڈیم کے استحکام اور"صحت" پر نظر رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ "کجاکی میں ہمارے سامنے چند ایک چیلنج ہیں،" مرفی نے کہا۔ "ہمارے پاس کئی متحرک ٹکڑے ہیں جو کہ معاہدے میں شامل ہیں۔ ٹریکنگ اور ان کے لیۓ الگ الگ مالی امداد کی فراہمی میں زیادہ وقت لگے گا لیکن آخر میں اس کو کام کے لیۓ دینے اور تعمیر کے عمل کو شفاف بناۓ گا جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اخراجات اور شیڈول پر نظر رکھنے کے زیادہ اثر پذیر اور موثر طریقے سے کریں گے۔" جنوب مشرقی بجلی گھر یہ دو مرحلہ منصوبے کا مقصد ہلمند اور قندھار کے صوبوں کے باشندوں کے لیئے بجلی تک رسائی کو بہتر بنانے کا وعدہ ہے۔ موجودہ نظام سالوں کی جنگ اور لاپرواہی کا شکار رہا ہے، جس میں کجاکی ڈیم کا بجلی گھر سر فہرست ہے۔ 70" کی دھائی میں یہ بجلی گھر بنایا گیا تھا،" جم مرے ایس ای پی ایس کے پروجیکٹ مینیجر نے کہا۔ "یہ تین ٹربائین کو سنبھال سکتا ہے لیکن کبھی بھی صرف دو کو ہی نصب کیا گیا تھا، یو ایس اے سی ای، ایس ای پی ایس کے اپ گریڈ کےایک حصہ کے طور پر تیسرے ٹربائن کو شامل نہیں کر رہا، لیکن ہم جو کر رہے ہیں وہ بجلی کی ترسیل کو بہتر بنا رہا ہے۔ یو ایس ایڈ کجاکی ڈیم کے بجلی گھر میں تیسرے ٹربائن کو نصب کرے گا۔ ایس ای پی ایس -- ہلمند مرحلے میں کجاکی سب سٹیشن کی تعمیر نو شامل ہے؛ جس میں 20 کلو والٹ کی لائن جو کجاکی سب سٹیشن سے تنجی تک جاتی ہے کی تبدیلی؛ تنجی میں ایک نیا سوئچ بورڈ؛ موسی قلعے میں ایک نیا سب سٹیشن؛ کجاکی سب سٹیشن سے موسی قلعے سب سٹیشن تک ایک نئی 110 کلو والٹ کی لائن؛ کجاکی سب سٹیشن سے کجاکی گاؤں تک ایک نئی 20 کلو والٹ کی لائن، اور کجاکی سب سٹیشن سےسنگین تک ایک نئی 110 کلو والٹ کی لائن کی تعمیر نو شامل ہے۔ منصوبے میں سنگین شمالی سب سٹیشن کی تعمیر نو، سنگین جنوبی میں ایک نئے سٹیشن کی تعمیر، سنگین سے درائی جنکشن تک کے لئے ایک110kV لائن کی تعمیر نو، اور درائی جنکشن سے لشکر گاہ تک ایک110kV لائن کی تعمیر نو شامل ہے۔ یو ایس اے سی ای نے 22 جون کو فارمنگھیم، میساچوسٹھس کی پرینی مینجمنٹ سروسز انکارپوریٹڈ کو 22 جون کو اس منصوبے سے نوازا، 550 دن کی کارکردگی کے عرصے کے ساتھ۔ ایس ای پی ہیس-قندھار منصوبے میں موجودہ 110 کلو والٹ کی لائن کی درائی جنکشن سے لے کر قندھار شہر تک مرمت، میونڈ اور پشمول میں نئے سب سٹیشنوں کی تعمیر، اور برشنا کوٹ کے سب سٹیشنوں کی اپ گریڈنگ شامل ہے۔ اس منصوبے کو مالی سال کے آخر تک نوازا جائے گا۔ ان منصوبوں کو صوبہ ہلمند میں لشکر گاہ کے علاقے، اور قندھار شہر کے علاقے کے لوگوں کو بجلی کی تقسیم کو بہتر بنانا چاہئے۔ "یہ تین منصوبے واقعی کافی پیچیدہ ہیں،" وہیم نے کہا۔ "لیکن جب مکمل ہو جائیں گے تو یہ ہلمند اور قندھار صوبے کے باشندوں کو ایک ان کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیئے امریکہ کے عہد کا عملی مظاہرہ ہوں گے۔ مجھے اس کام کا ایک حصہ ہونے پر فخر ہے کہ یہ ہماری لوگوں کے لیئے بہت اہم خدمات فراہم کرنے کے لیۓ افغانستان کی اپنی صلاحیت میں اضافہ کرنے کی خواہش کی نمائندگی کرتا ہے۔" |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















