| امریکہ اور اُردن کے فوجیوں کی اکٹھی مشقیں، ان کی مہارتوں کو بڑھاتی ہیں |
منجانب Sgt. Christopher Bigelow, 364th Expeditionary Sustainment Command
9ویں پرنس محمد بٹالین کی طرف سے ایک فوجی سکیورٹی کی ذمہ داری اٹھاتے ہوۓ جبکہ ان کی پلاٹون کے رہنما نے ایک مصنوعی گاؤں کے اہم رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کی جبکہ کو جوائنٹ بیس لیوس مک کورڈ، واشنگٹن کے فرسٹ بٹالین، 94ویں فیلڈ آرٹلری کے فوجیوں نے مشترکہ تربیتی مرکز، اُردن میں 11 مئی، 2012 کو ایک تربیتی مشق کے دوران ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ (فوٹو منجانب سارجنٹ کرسٹوفر بگلو)
مشترکہ تربیتی مرکز، اُردن (17 مئی، 2012) – ایک چھوٹی وادی سے گزرنے ہوئے اور لڑنے کی توقع رکھتے ہوۓ، قافلہ بڑے اور ڈھیلے پتھروں پر سے گزرا تاکہ فوجی آگے جا سکیں۔ فوجی اپنے گاڑیوں میں آرام سے بیٹھے ہوۓ تھے۔ جیسے ہی وہ دھول کے بادلوں سے گزرے تو ان کے بارود سے محفوظ رکھنے والے حفاظتی گاڑیوں سے آوازیں بلند ہوئیں جب بکتر بند ٹرک اپنے ارد گرد پڑے بڑے پتھرں سے ٹکراۓ۔ آہستہ سے بائیں سے دائیں دیکھتے ہوۓ ، فوجی نے ارد گرد کی پہاڑیوں کا جائزہ لیا جو اور بھی بڑے اور نزدیک ہوتے جا رہے تھے۔ دھول اور ارد گرد کے بڑے پتھروں کے سایوں کے درمیان، سورج غائب ہو گیا تھا۔ گنرز اپنے جگہوں پر نیچے ہوگۓ؛ ان کی بارود سے محفوظ رکھنے والی حفاظتی گاڑیوں پر لگی دھاتی دیواروں سے ان کو جو محفوظ ہونے کا احساس ہو رہا تھا۔ بوم! کانواۓ مکمل طور پر رک گیا۔ دھواں اتنا زیادہ تھا کہ کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ پٹاخ، پٹاخ، پٹاخ! پھر ایسا ہو رہا ہے: حملہ گنرز نے ان ہتھیاروں کو دشمن کی طرف موڑا اور جیسے ہی کانواۓ کی دو گاڑیاں لڑائی کو حملہ آوروں تک لے جانے کے لیئے اپنی فارمیشن توڑ کر الگ الگ ہو گئیں تو وہ دشمن پر قہر بن کر ٹوٹ پڑے تاکہ اپنے ساتھیوں کو اپنے زخمیوں کی مدد کرنے اور فرار ہونے کا قیمتی وقت ملے۔ لیکن سب ٹھیک تھے۔ کیونکہ بالآخر، یہ صرف ایک تربیتی مشق تھی۔ پہلے رابطے سے، دو منٹ کے گھات کے حملے نے جوائنٹ بیس لیوس-مک کورڈ فرسٹ بٹالین، 94ویں فیلڈ آرٹلری کے ساتھ مبصر/ کنٹرولر- ٹرینروں کو وہ کچھ دیکھنے کو دیا جس کی انھیں ضرورت تھی۔ ان کے طالب علم، جو اُردن کی مسلح افواج کے 9ویں پرنس محمد بٹالین کے فوجی ہیں، سب سیکھ رہے تھے۔ یہاں جوائنٹ ٹریننگ مرکز پر 1/94ویں کا مشن اُردن کی مسلح افواج کے فوجیوں، ٹاسک فورس 222جی، کو تعیناتی سے قبل ٹریننگ فراہم کرنا ہے۔ فرسٹ لیفٹننٹ برائن بئیرورتھ، جو 1/94ویں کے ساتھ ایک او/سی – ٹی ہیں، نے کہا کہ ہم اُردنیوں کو مستقبل کی کامیابی کے لیے تیار کر رہے ہیں ۔ جے-اے-ایف کے فوجیوں کی تربیت کا آغاز جنوری میں ہوا تھا، بئیرورتھ کے مطابق، 1/94ویں جے-اے-ایف کو ان چیوون کا جائزہ دے رہی ہے جو وہ اپنی تعیناتی کے دوران ایک جنگی ماحول دیکھیں گے۔ جے-ٹی-سی تربیت جے-اے-ایف کے فوجیوں کی بنیادی فوجی مہارت اور جنگی تیاری کو مضبوط بنانے کے لئے پانچ مراحل میں تقسیم ہے۔ تربیت کا پہلا مرحلہ انضمام ہے۔ اس مرحلے میں، جے-اے-ایف کے کمیشنڈ اور نان کمیشنڈ افسران کو بنیادی فوجی قیادت پر کورس دیا جاتا ہے۔ کورس امریکی فوج کے جنگی لیڈر کے کورس کی طرح سے سکھایا جاتا ہے۔ کورس جے- اے-ایف کے رہنماؤں کی ان مہارتوں، جو ان کے پاس پہلے ہی ہیں، کو مضبوط بنانے اور بڑھانے کے لئے بنائی گئی ہے۔ دوسرا مرحلہ، بنیادی فوجی مہارتوں کو مظبوط بنانے کا ہے۔ لیفٹیننٹ کرنل ایرن مک ڈینئیل ، عمان میں امریکی سفارت خانے پر فوجی امداد کے رابطہ دفتر کے سربراہ نے کہا کہ دوسرے مرحلے کی توجہ بنیادی فوجی مہارتوں پر مرکوز ہے ۔ فوجی اپنے انفرادی ہتھیاروں کے ساتھ تربیت کرتے ہیں، اسی کے ساتھ ساتھ عملے کے لیۓ ہتھیاروں سے بھی؛ انھیں زندگی بچانے کا کورس بھی دیا جاتا ہے۔ مک ڈینئیل نے کہا کہ تربیت کا تیسرا مرحلہ پہلے دو مرحلوں کو ملا کر بنایا گیا ہے جس کا نتیجہ بنیادی پلاٹون کی سطح پر ایک تربیتی مشق ہے۔ مک ڈینئیل نے کہا کہ جے-اے-ایف پلاٹون ایک پلاٹون کی سطح پر کام کرتی ہے، قیدیوں سے گھیراؤ سے تلاشی کی کاروائیوں تک ۔ چوتھا مرحلہ ان تمام مہارتوں، جو پہلے تین مرحلوں میں سیکھیں گئیں تھیں، کو اکٹھا کرتا ہے، تمام سیکھے گۓ اسباق کو مظبوط تر بنایا جاتا ہے۔ مک ڈینئیل نے کہا کہ فوجی خود کو مشن کی تیاری کے لئے تیار کرنے کی غوض سے اپنے کاموں کی بار بار دُہراتے ہیں۔ اپنی تربیت کے حتمی مرحلے میں جے-اے-ایف کے فوجی 10 دن کے مشن کی تیاری کی مشق میں حصہ لیتے ہیں۔ مک ڈینئیل کے مطابق، پانچواں فیز اہم ہے کیونکہ یہ جے-اے-ایف کے بٹالین کی سطح کے عملے کو مشن کی منصوبہ بندی اور احکامات کو عمل درآمد کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ بئیرورتھ نے کہا کہ او/سی – ٹی اُردنی کمپنی اور بٹالین کے عملے کے ساتھ کام کرتی ہے، انھیں انٹیلی جنس جمع کرنے کی کاروائیوں اور طریقہ کار کی تعلیم دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح، ان کی اعلٰی سطح کی کمانڈ اس مفید معلومات کو بعد میں مستقبل کی گشت میں تبدیل کر سکتے ہیں۔. ٹاسک فورس 222جی نے اپنی تربیت 12 مئی کو مکمل کی۔ بئیرورتھ نے کہا کہ جب ہم نے جنوری میں اپنا تربیتی بلاک شروع کیا تو اس کے بعد اُردنی فوجیوں میں بہتری آئی ہے۔ اب انھوں نے وہ پیش قدمی کی ہے جہاں مجھے لگتا ہے کہ وہ امریکہ اور دیگر مشترکہ اتحادی فوجوں کے ساتھ مستقبل کی کارروائیوں میں ضم کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















