صفحہ اول | خبریں | امریکی فضائیہ فوجیوں کی زخمی افغان بچوں کو مدد
امریکی فضائیہ فوجیوں کی زخمی افغان بچوں کو مدد
منجانب 50th Space Wing Public Affairs Schriever AFB, 50th Space Wing
130111_50th
سینئر ائیرمین ریان ٹروی، جو50 ویں سکیورٹی فورسز سکواڈرن کے ساتھ ہیں، اپنی حالیہ تعیناتی کے دوران بگرام ایئرفیلڈ، افغانستان، کی حدود کے باہر ایک علاقے میں گشت کے دوران ایک زخمی افغان بچے جس کا انہوں نے سامنا کیا کو اٹھاۓ ہوۓ۔ ٹروی اور ان کے 50ویں ایس-ایف-ایس کے ساتھیوں نے معمول سے اپنی گشت کے دوران افغان بچوں کو طبی امداد فراہم کی۔

بگرام ائیرفیلڈ، افغانستان - سینئر ائیرمین ریان ٹروی کا اپنی پہلی تعیناتی کے دوران بنیادی کام بگرام ایئرفیلڈ، افغانستان میں تحفظ فراہم کرنا اور اسے بہتر بنانا تھا۔

مئی 2012 سے قبل کی تعیناتی، 50ویں سکیورٹی فورسز ائیرمین نے خود کو افغانستان کے کٹھن ماحول میں پیش آنے والے حالات کو برداشت کرنے کے لیۓ تیار کیا، لیکن انھیں اس بات کا قطعاً اندازہ نہیں تھا یہ کام ان کے دنیا کے بارے میں نقطہ نظر کو بنیادی طور پر تبدیل کر دے گا۔

ٹروی کو تفویض ہوۓ ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا تھا کہ انھیں دیہی افغانستان میں زندگی کے تلخ حقائق کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک بکتر بند گاڑی جسے ایم-اے-ٹی-وی کے طور پر جانا جاتا ہے پر ایک گنر کے طور پر، ٹروی نے بیس سے باہر چار ماہ سے بھی زیادہ مشکوک سرگرمی کی تلاش میں ایک علاقے میں گشت کی۔

وہ اور ان کے چار افراد پر مشتمل عملے نے کبھی کبھار کچھ ایسا پایا جس پر تحقیقات کرنا فائدہ مند تھا، لیکن ان کا زیادہ تر وقت اپنے ماحول کو سیکھنے اور بیس کی حدود سے باہر مقامی لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے میں گزرا۔

بیس کے ارد گرد کی اصل افغان آبادی کے حالات زندگی نے ٹروی کو اس وقت پوری طاقت کے ساتھ جھنجھوڑ ڈالا جب ایک مقامی لڑکے نے ان کی تعیناتی کے شروع کے دنوں میں ان کی گشتی گاڑی سے رابطہ کیا۔

" ٹروی، جو اوہائیو کے مقامی ہیں نے کہا کہ "جب وہ ہمارے قریب آیا تو میں نے دیکھا، کہ اس کی ٹانگیں بُری طرح جل گئی تھی" ۔ "سادہ اشاروں، ٹوٹے جملوں اور چند عارضی ترجمانوں کے مدد سے، ہم پر اس لرزہ خیز صورتحال کا اندازہ ہوا۔"

لڑکے، جس کو سکیورٹی افواج کے ارکان صدام کے نام سے جانتے ہیں، نے بیس کے باہر ایک علاقے میں کھڑے ایندھن کے ٹرکوں میں سے پٹرول چوری کرنے کی کوشش کی اپنی کہانی بتائی۔

کچھ پیسہ کمانے کی امید میں، لڑکے نے ایک ٹرک کے پیچھے ایندھن کے نل کے نیچے ایک پلاسٹک کا شاپنگ بیگ رکھ کر ٹونٹی کھول دی اور بیگ بھر لیا۔ اس نے یہ کام تقریباً ختم کر لیا تھا جب ایک مقامی افغان ٹرک ڈرائیور نے اسے ایسا کرتے ہوۓ پکڑ لیا۔

گھبراۓ ہوۓ، لڑکے نے بیگ گرا دیا، ایندھن کے چھنٹے اپنے گھٹنوں تک گراتے ہوۓ۔ اس وقت ٹرک ڈرائیور نے اسے ایک فوری اور ظالمانہ سزا دینے کا فیصلہ کیا۔ اس نے لڑکے پر ایک جلتی ہوئی ماچس کی تیلی پھینک دیی، اور اس کی دونوں ٹانگوں کو آگ لگا دی۔

ٹروی نے کہا کہ "ہمیں معلوم نہیں تھا کہ اس بات کو کتنا وقت گزر گيا تھا، لیکن ہم نے صدام کو اُسی دن دیکھا تھا ۔ سکیورٹی کے خدشات کی وجہ سے، ہم اسے طبی امداد کے لئے بیس پر لے جانے کے قابل نہیں تھے، تو ہم جو کچھ بھی کر سکتے ہم نے وہ کیا۔"

طبی امداد کی دیکھ بھال کا استعمال کرتے ہوئے، ٹروی نے اپنی گاڑی میں موجود سامان کے ساتھ لڑکے کی ٹانگوں پر پٹی باندھ دی۔ بعد میں اسی شام بیس پر آ کر، اس نے طبی عملے سے راہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ "یہ ایک مشکل صورت حال تھی" ۔ "میں نے آج تک اتنی بُری طرح سے جلے زخم کبھی نہیں دیکھے تھے۔ مجھے اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں تھی۔ میں جو کر سکتا تھا وہ میں نے کیا اور بھی بہت سے لوگوں نے پٹیاں اور جراثیم کش فراہم کیں، لیکن ہم زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے تھے کہ اس کی پٹیاں بدلتے رہیں اور یہ امید کریں کہ اس کے زخم بدتر نہ ہوں۔"

انھوں نے تندہی سے ہر روز صدام کی پٹیاں تبدیل کیں۔ اسی دوران انہوں نے مختلف ذرائع سے طبی مشورہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔

ٹروی نے کہا کہ "میری ماں سرکاری ہسپتال میں کام کرتی ہے اور انھوں نے جلے کے علاج کے ماہر ڈاکٹروں سے ان کے سب سے بہترین علاج کے لیۓ مشورہ کیا ۔ ڈاکٹروں نے ہمیں بتایا کہ لڑکے کے زخموں پر، صاف رکھنے اور ہوا لگانے کی ضرورت تھی بات یہ ہے کہ وہ بچہ مٹی میں رہتا ہے اور غسل نہیں کرتا ہے۔ اس کے پاس بدلنے کے لیۓ کپڑے نہیں ہیں۔ ہمارے پاس زیادہ حل نہیں تھے. ہماری واحد امید اس کی پٹیاں تبدیل کرتے رہنے میں تھی۔

ٹیک سارجنٹ ڈیوڈ کوپنحیور 50 ویں ایس-ایف-ایس ٹروی کے ساتھ تعینات بارہ ائیر مین سے ایک تھے۔ ان کا بنیادی کام علاقے کے قریب بگرام کے انٹری کنٹرول پوائنٹ پر ترسیلی ٹرکوں کا معائنہ شامل تھا۔ ٹروی کی کہانی سن کر، انھوں نے بھی مدد کرنے کا ایک موقع دیکھا۔

انہوں نے کہا کہ"ٹرکوں کے معائنے کے علاقے میں، ہمیں اکثر ملٹری فیلڈ کٹس ملتے ہیں" ۔ ڈرائیوروں کو انھیں اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہیۓ اور انہیں بیس پر لانے کی اجازت نہیں ہے، تو ہم انھیں ضبط کر لیتے ہیں۔"

ان میں سے بہت سی پٹیاں ٹرور تک پہنچیں، ہم نے ان کا ہر انچ استعمال کیا۔

ٹروی نے کہا کہ "صدام اکیلا نہیں تھا" ۔ "مقامی لوگ زیادہ تر کسان ہیں، لیکن کمیونٹی نے بیس انٹری کنٹرول پوائنٹ کی اہم ترین شاہراہ کے ساتھ ساتھ کھلی مارکیٹیں اور دوکانیں لگا لی ہیں۔ یہ مارکیٹیں ویسی نہیں ہیں جیسی ہم سوچتے ہیں، یہ ٹوٹے پھٹے کھوکھوں کی طرح ہیں۔ اور ہر جگہ بچے موجود ہیں، وہ وہاں کھیلتے اور زندگی گزارتے زخمی ہو جاتے ہیں، توایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہر روز ایک مختلف بچے کی پٹی کرتے تھے۔"

افغانستان کے جلا دینے والے سورج تلے جو کچھ انھوں نے دیکھا اس نے ان پر بہت اثر چھوڑا، ٹروی اور ان کے ساتھی ائیرمین نے اپنے گھروں سے آنے والے دیکھ بھال کے پیکیجوں میں خوراک اور کھلونوں کی درخواست کرنی شروع کر دی۔

انہوں نے کہا کہ"جب آپ پہلی دفعہ ایک بچے کو ایک سوڈا دیتے ہیں تو آپ کو توقع ہوتی ہے کہ وہ ایک مسکراہٹ کے ساتھ اسے فٹافٹ پی جاۓ گا" ۔ "یہ بچے؟ وہ سوڈا لیتے ہیں اور بھاگ جاتے ہیں۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ سوڈا قیمتی چیز ہے اور بچے اس کی مناسب قیمت موصول کر لیتے ہیں چاہے وہ کھلا ہوا ہی کیوں نہ ہو۔"

ٹروی کو کبھی معلوم نہیں ہوا کہ صدام رات کو کہاں گيا یا وہ کہاں سویا، لیکن طلوع آفتاب کے ساتھ ہی، وہ ہمیشہ وہاں دوسرے بچوں کے ساتھ موجود ہوتا تھا، پیسہ بنانے کے راستے کی تلاش میں۔"

جب موسم گرما خزاں میں بدل گيا، رات کا درجہ حرارت کم ہوگیا اور ٹھنڈ زیادہ ہو گئی۔ کچھ بچے موثے کپڑوں میں تھے، لیکن اکثر کے پاس مناسب جوتے نہیں تھے۔ بگرام کے ارد گرد جوتوں اور موسم سرما کوٹ کے لئے فون جانے لگے۔

ان کی تعیناتی کے اختتام سے دو ہفتے قبل ٹروی یونٹ کی جگہ لینے والے پہنچے۔ سینئر ائیرمین نے علاقے کے بارے میں نئے سیکورٹی فورسز کے ارکان کو بریفنگ دی اور مقامی لوگوں سے متعارف کروایا، بشمول ایک نوجوان لڑکا جس کی ٹانگوں پر زخموں کے نشان تھے۔. پٹیاں باندھنے اور شفا یابی کے چار ماہ کے بعد، صدام زندہ بچ گيا تھا۔ ٹروی کو اب اس لڑکے کو ٹانگیں کھونے کے بارے میں فکر نہیں تھی۔

ٹروی نے کہا کہ "وہ معجزانہ طور پر صحت یاب ہو گیا ۔ لیکن مجھے نہیں لگتا میں اس رات کو بھول سکوں گا جس رات ہم نے اس کے جل زخموں پر پیروکسائڈ ڈالا تھا۔ وہ رویا بھی نہیں تھا۔ وہ ان بچوں میں سے، جن سے میں آج تک ملا ہوں، سب سے بہادر بچہ تھا۔ اس کے باوجود، مجھے نہیں لگتا کہ وہ ہماری مدد کے بغیر بچ سکتا تھا۔"

پیچھے مڑ کر دیکھتے ہوۓ، ٹروی نے یہ بات تسلیم کی ہے وہ افغانستان واپس تعینات ہونا چاہتے ہیں، ہفتے کے 80 گھنٹے کام، انتہا کا درجہ حرارت اور بیرکوں کے طرز پر رہنے کے انتظامات کے باوجود۔

انہوں نے کہا کہ اس کام کو کرنے کے بارے میں کہنے کی ضرورت ہے" ۔ "پوری تعیناتی کے دوران، میں اٹھا، وردی پہنی، کام کے لیۓ گیا، گھر آیا، کھایا، نہایا، سو گیا اور دوسرے دن پھر سے یہی سب دُہرایا ۔"

لوگوں کی زندگیوں میں ایک حقیقی فرق لانے کے خیال کے بارے میں ذکر نہیں کیا گيا، لیکن انہیں امید ہے کہ ان کے اقدامات کے ذریعے، انہوں نے چند دلوں اور ذہنوں کو جیتنے میں مدد دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "مجھے یہ سوچنا پسند ہے کہ وہ ہمیں پسند کرتے ہیں" ۔"یہ کہ جو خوراک اور جوتے اور موسم سرما کے کپڑے ہم نے انہیں دیے اس سے فرق پڑا ہے۔ شائد کسی دن جب انھیں فیصلہ کرنا پڑے، وہ ہمیں یاد کریں گے۔"

 

 

Media Gallery

ویڈیو، بصری
تصویریں

جنگی کیمرہ -->

مرکزی کمان کی تصویریں -->

no press releases available at this time
No audio available at this time.
Content Bottom

@CentcomNews //Social Media//

حالیہ ٹویٹز
حالیہ فلکر پر تصویریں
RIDE002

RIDE002
viewed 19 times

فیس بُک پر دوست
33,142+