| امریکہ کو ایران پر پابندیوں کے لیۓ سعودی مدد کی ضرورت ہے |
منجانب , American Forces Press Service شئیرمتعلقہ خبریں
ایک بڑے دفاعی افسر نے پس منظر پر بات کرتے ہوۓ کہا کی یہ ملاقات خوشگوار اور تعمیری تھی اور ہم نے ایران کے جوہری ارادوں اور میزائلوں کے پھیلاؤ کے علاوہ بہت سے دوسرے معاملات پر بھی بات چیت کی۔ افسر نے مذید کہا کہ سربراہوں نے یمن کے بارے میں مل کر کام کرنے کی اہمیت، سعودی عرب کی عراقی تنظیم نو اور افغانی صورتحال پر بھی گفتگو کی۔ افسر نے کہا کی ان ملاقاتوں میں گیٹس نے امریکہ کے ایران کے بارے میں مجموعی حکمت عملی کی وضاحت کی اور اِس بات پر توجہ دلائی کہ جو دعوت صدر براک اوباما نے ایران کو حقیقی طور پر گفت و شنید کے لیے دی تھی اِسی دعوت کو وہ بڑی حد تک ٹھکرا چُکے ہیں۔ افسر نے کہا کہ "ہم اب بینالاقوامی برادری کے ساتھ مل کراور دباؤ بڑھا کر سخت پابندیوں کے نفاذ کی کوشش کریں گے۔" گیٹس نے سعودی قیادت کو بتایا کہ امریکہ کی ایران کو گفت و شنید کی دعوت نے ہمارے خلوص کو سچ دکھایا ہےاور یہ کہ ایران کی گفت و شنید کے انکار نے ایران کے اصل محرکات کو واضع کر کے پابندیاں لگانے کے لیے بینالاقوامی اتفاقی راۓ قائم کی ہے۔ افسر نے کہا کہ حالانکہ گفت و شنید کی دعوت ابھی بھی قائم ہے لیکن "ہم اس مرحلے سے گزر چُکے ہیں اور اب دباؤ ڈالنے کے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ ہمارا یہ مجموعی تاثرہے کہ سعودیہ بھی ہماری اِس کوشش کا حامی ہو۔" افسر نے کہا کہ گیٹس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ اِن سخت پابندیوں کا نشانہ ایرانی عوام پر نہیں بلکہ ایرانی حکمرانوں کو ہدف بناتے ہوۓ لگانا چاہتا ہے۔ افسر نے صحافیوں کو عراق کے بارے میں بتایا کہ وزیر دفاع گیٹس نے سعودی عرب سے بات کے دوران اپنے شمالی ہمساۓ کو گفتو شنید میں شامل کرنے کو کہا تھا۔ اُنھوں نے کہا کی سعودیوں کی ہچکچاہٹ 7 مارچ کے انتخابات کے نتائج کے انتظار کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ القاعدہ کی جزیرہ العرب میں موجودگی اور خاص طور پر اس دہشت گرد تنظیم کے یمن میں اضافے کو محسوس کر کے سعودی پریشان ہیں۔ اُنھوں نے دہشت گردوں کے خلاف یمن کی سرحد پر اپنے ملک میں کاروائیاں شروع کر دی ہیں اور گیٹس نے ان کاروائیوں میں سعودی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کا اظہار کر کے اُنہیں اُن کی کامیابیوں پرمبارکباد دی ہے۔ بڑے دفاعی افسر نے کہا کہ القائدہ کی جزیرہ عرب میں موجودگی امریکہ اور سعودیوں کے لیے پریشان کُن ہے اور وہ مل کراس گروہ کے خلاف کام کرکے فائدہ میں رہیں گے۔ گیٹس نے سعودی قیادت سے علاقائی حفاظت کی منصوبہ بندی جیسے موضوعات پر گفتو ؤ شنید کی۔ بہت سے خلیجی ممالک ایران کے جوہری ارادوں اور ایرانی میزائیل پروگراموں سے پریشان ہیں۔ افسر نے صحافیوں کوبتایا کہ گیٹس نے سعودیہ اور دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر ایران کو روکنے کے لیۓ کام کرنے کی تجویزپیش کی ہے اور کہا ہےکہ امریکہ علاقے کے تمام ملکوں کے ساتھ مل کر اس دفاعی منصوبہ بندی کو تشکیل دے گا۔ افسر نے کہا کہ"حالانکہ ایران کو اس ضرورت کی وضاحت نہیں ہے، یہ یقینا" اس کو سرعت دے رہا ہے۔" اِن سربراہوں نے افغانستان کی عمومی صورت حال اور اس بات پر گفتگو کی کہ افغانستان کا صرف فوجی حل کا استعمال کافی نہیں ہے۔ افسر نے کہا کہ افغانستان کو تمام حکموتی طریقوں کی ضرورت ہے اور اِس بات کو سعودی سمجھتے ہیں۔ افسر نے کہا کہ "وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اگرچہ صرف فوجی حل کافی نہیں ہے یہ دوسرے مرحلوں کے لیۓ بنیاد فراہم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔" |
ویڈیو، بصری
تصویریں
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 
no press releases available at this time
No audio available at this time.























