| افغانستان میں شہد کی مکھیوں کو بچانے کے لیۓ امریکی اور رومینیئن فوجیوں کی کوشش |
منجانب Sgt. Lori Bilyou, Mississippi National Guard شئیرمتعلقہ خبریں
سارجنٹ پال مارشل، جو مسیسیپی قومی گارڈ کی زراعتی ترقیاتی ٹیم 4 کے ساتھ ایک زراعتی ماہر ہیں اور رومانیہ کے پلوٹونئیر یوجین آرسن، جو رومانیہ کی 21ویں ماؤنٹین بٹالین کے ساتھ ہیں، 16 نومبر، 2012 کو فارورڈ آپریٹنگ بیس مسکل، افغانستان میں ایک چھتے پر کام کرتے ہوۓ۔ (فوٹو منجانب لوری بلیو)
فارورڈ آپریٹنگ بیس میسکل، افغانستان (12دسمبر، 2012) - جب مسیسیپی کی میسکل ڈیٹیچمنٹ زراعتی ترقی کی ٹیم 4 افغانستان میں پہنچی، انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ زراعتی ترقی کی ٹیم، یا اے-ڈی-ٹی سے شھد کی مکھیوں کے چھتے وراثت میں حاصل کر رہے تھے، لیکن انھیں بہت جلد ہی معلوم ہو گيا اور وہ بر وقت پہنچے تھے۔ ستمبر میں ایف-او-بی میسکل پہنچنے پر، جو کہ جنوبی افغانستان میں رومانیہ کی زیر قیادت ایک آپریٹنگ بیس ہے، مسسیپی ٹیم نے زابل صوبے میں تارنک و-جلدیک کے کاشتکار لوگوں کو بہتر زرعتی طریقے اور جانور کی افزائیش سیکھانے کی زمہ داری سنبھالی۔ ان سے پہلے لوگوں نے فصلوں کی تخم کاری کے مقصد کے لئے مکھیوں کی افزائیش کو بہتر طریقوں سے متعارف کرانے کی کوشش کی۔ شہد کی مکھیوں نے پھولوں سے پھلنے والی فصلوں جیسا کہ بادام اور انار، جو کہ دونوں مقامی علاقے کی خصوصیات ہیں، کی پیداوار میں نمایاں طور پر اضافہ ہونے کو ثابت کیا ہے۔ آس پاس کے علاقوں میں مختلف مارموں پر پچھلی اے-ڈی-ٹی کی ٹیم نے ایشیائی مکھیوں کے نو چھتے متعارف کراۓ تھے۔ جب مسیسیپی کی اے-ڈی-ٹی ٹیم پہنچی تو شہد کی مکھّیوں کے چھتے حملوں کی زد میں تھے۔ مقامی افغان حملہ آوروں کو "بھیڑیے مکھیاں" کہتے ہیں۔ لمبائی تقریباً دو انچ ، یہ تتیے جیسے کیڑے شہد کی مکھیوں کے چھتے پر حملے کر رہے تھے۔ وہ ایسے دشمن تھے جن کے لیۓ اے-ڈی-ٹی، جو زیادہ تر پیدل افواج ہیں، کے لئے تربیت یافتہ نہیں تھی۔ سارجنٹ پال مارشل، جو اے-ڈی-ٹی میسکل ڈیٹیچمنٹ کے ساتھ ماہر زراعت ہیں، نے کہا کہ "ہمارے پاس جو کچھ تھا اس میں سے کچھ بھی استعمال کرنے سے ساتھ ساتھ سب مکھیاں بھی مرجاتیں" ۔ تتیے، جو سائز میں مکھیوں سے پانچ گنا بڑے ہیں، اپنے شکار کا پرواز کے دوران ہی سر کاٹنے کے قابل ہیں اور اور صرف کچھ ہی دنوں میں ایک چھتے کو برباد کر سکتے ہیں۔ مسیسپی کی اے-ڈی-ٹی نے جتنی بھی تیزی سے ہوسکتا تھا کام کیا، لیکن اتنے بڑے مسلئے سے نمٹنے کے لیۓ ان کے پاس علم اور مہارت کی کمی تھی۔ خوش قسمتی سے، وہ رومانیہ کے ایک فوجی، جو ایف-او-بی میسکل میں ہی تعینات تھا، کے ذریعے مدد تلاش کرنے کے قابل تھے۔ رومانیہ کی 21ویں ماؤنٹین بٹالین کے ساتھ ایک فوجی پلوٹونئیر یوجین آرسن، کی پرورش شہد کی سینکڑوں مکھیوں کے چھتوں کے ارد گرد ہوئی تھی اور اس کے والد نے اسے اس بارے میں بہت کچھ سکھایا تھا۔ آرسن کی مدد سے، اے-دی-ٹی 4 نے اپنی توجہ بچ جانے والی مکھیوں پر ڈالی۔ سب سے پہلا کام جو کیا گیا وہ چھتوں کے داخلے کے راستوں کو چھوٹا کرنے کا تھا۔ اس ترمیم نے داخلے کے راستوں کو بہت چھوٹا کر دیا جس میں بڑے تتیے نہیں گھسن سکتے تھے اور شہد کی مکھیوں کا دفاع کرنا آسان ہوگیا۔ تاہم، اس تومیم کے باوجود مکھیاں ابھی بھی مشکل میں تھیں۔ ایسے کچھ مشکلات کا خدشہ تھا کیونکہ اس منصوبے کا مقصد تھا، مقامی افغانوں کو ایک بہتر زراعتی طریقے سے مکھیاں پالنے کے فوائد سکھانا۔ لیکن، جیسا کہ ڈریم ورکس کے 2007 کے کارٹون نما فلم میں دکھایا گیا تھا، زیادہ تر لوگ جب وہ مکھیوں کے بارے میں سوچتے ہیں تو ایک ہی بات سمچتے ہیں، اور افغان ان سے کوئی مختلف نہیں۔ مارشل نے کہا کہ "جب آپ شہد کی مکھیوں کے بارے میں لوگوں سے پوچھتے ہیں، وہ شہد کے بارے میں سوچتے ہیں،" ۔ "زیادہ تر لوگ ان خدمات کا احساس نہیں کرتے جو وہ فراہم کرتی ہیں۔" حالیہ تخمینوں کے مطابق ایک تہائی کے قریب تمام پودوں اور پودوں کی مصنوعات ،جن کو انسان کھاتے ہیں، بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر شہد کی مکھیوں کی سے کی گئی تخم کاری پر انحصار کرتے ہیں۔ حالانکہ شھد کی مکھیاں ہی صرف حشرات کی ایک ہی قسم نہیں ہیں جو تخم کاری کی خدمات سر انجام دیتی ہیں، وہ کئی وجوہات کی بنا پر، سب سے زیادہ مؤثر طور پر کام سر انجام دیتی ہیں۔ شہد کی مکھیوں کی ٹانگوں پر بال تخم کو چپکا لیتے ہیں جب وہ پھول سے پھول تک جاتی ہیں اپنے آپ کو فصل کے لی بہترین تخم کار بناتی ہیں۔ تخم کاری کے بغیر بہت کم بیج، بیر یا پھل تیار ہوں گے۔ افغان باغات میں چھتوں کے معائنے پر، آرسن اور مارشل نے محسوس کیا کہ کچھ شھد کے چھتوں کے خانے لاپتہ تھے۔ ٹیم پر واضع تھا کہ چھتوں سے شہد کاٹ کرالگ کیا گیا تھا۔ تخم کاری کے ضمن میں شہد کی مکھیوں کی کی افادیت کے بارے میں یہ غلط فہمی کہ وہ صرف شہد بناتی ہیں واضع طور پر دستاویز میں مہیا ہے۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کی رپورٹ جس کا عنوان "فصل کی تخم کاری کے لئے مکھیوں کی قدر" اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دنیا بھر میں بہت سے کسان مکھی کی تخم کاری کی ضرورت کو تسلیم نہیں کرتے۔ اقوام متحدہ کی اسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فصل کی قسم پر منحصر ہے، ان علاقوں میں جہاں زراعت مشکلات کا سامنا کرتی ہے فصلوں کی تخم کاری کی مشکلات کا اندازہ شھد کی پیداوار سے تقریباً 100 گنا زیادہ لگایا گیا ہے۔ کاشت کو بہتر بنانے میں شہد کی مکھیوں جو اہم کردار ادا کر سکتی ہیں وہ ایک سبق ہے جو مسسیپی اے-ڈی-ٹی 4 یقینی طور پر افغان کسانوں کو سکھانا چاہتے ہیں۔ تاہم ایسا کرنے کے لیۓ، مکھیوں کو زندہ رہنا ضروری تھا۔ آرسن کی سفارش کی بنیاد پر، اے-ڈی-ٹی 4 کمزور چھتوں کو بحالی کے لئے واپس ایف-او-بی مسکل پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا جو نتیجہ نکلا وہ مگس بانی پر پوری توجہ تھی، جس کا ماسٹر ٹیچرآرسن، اور مارشل اس کا سب سے اہم شاگرد۔ صرف تین چھتے تتیوں کے حملوں اور شھد کی چوری سے بچ پاۓ تھے۔ آرسن نے کہا کہ "ہم نے فوری حل نکالا" ۔ "ہم نے دراصل بہت سی سرگرمیاں ایجاد کیں۔" مارشل نے آرسن کی بہت تعریف کی۔ "اس نے چھ ماہ میں اتنے مسائل کا حل نکالا جتنوں کا اس نے اپنے ملک میں دس سال میں سامنا کیا ہو گا،" مارشل نے کہا۔ اگلے چند ماہ میں آرسن، مارشل اور اے-ڈی-ٹی 4 نے شہد کی مکھیوں کی دیکھ بھال کرنے کی کوشش میں پھپھوندی کے انفیکشن سے لے کر خوراک کی قلت تک ہر چیز کا سامنا کیا۔ جیسے جیسے مکھیوں کے چھتوں کی صحت بحال ہوئی ٹیم نے صحرا کے شدید درجہ حرارت اور موسمی حالات کا سامنا کرنے کے لیۓ چھتوں کے ڈبوں میں ترمیم کر جاری رکھا۔ اس کے بعد اے-ڈی-ٹی 4 افغانستان کے شدید موسم سرما کے لیے چھتوں کے اوپر ایک پناہ گاہ بنانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں ، ایک منصوبہ جس میں مدد کے لیۓ آرسن موجود نہیں ہوں گے جیسا کہ وہ جلد ہی اپنی یونٹ کے ساتھ واپس رومانیہ رونہ ہوں جائیں گے۔ مارشل نے کہا کہ "جو کچھ بھی آرسن نے کیا ہے، درست رہا ہے" ۔ "مجھے جوابات چاہیے تھے اور آرسن کے پاس ہر مرتبہ جوابات موجود تھے۔" تاہم، آرسن، اپنے جانے کے بعد مکھیوں کی دیکھ بھال کے لیۓ مارشل کی صلاحیتوں میں اعتماد رکھتے ہیں۔ مارشل اور اے-ڈی-ٹی 4 نے موسم بہار میں افغان مکھی کے منصوبے کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیۓ مزید چھتے شروع کرنے کے منصوبے بناۓ ہیں۔ شہد کی مکھیاں علاقے کی زراعتی پیداوار پر ایک بڑا اثر ڈال سکتی ہیں، مارشل نے وضاحت کی۔ منصوبے کو صرف افغانوں کو یہ سکھانا ہے کہ مکھیاں صرف شہد کے لئے نہیں ہوتیں، کم از کم ابھی تک تو نہیں۔
|
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















