| امریکہ اور پاکستان کے درمیان فوجی تعلقات بہتر ہورہے ہیں، ڈیمپسی |
منجانب Jim Garamone, Armed Forces Press Service شئیرمتعلقہ خبریںبیرون ملک امریکی فوجی طیارے میں پرواز کے دوران (29 مارچ، 2012) – آج فوجی جنرل مارٹن ڈیمپسی نے کہا کہ اگرچہ راستے میں متعدد رکاوٹیں موجود ہیں ، لیکن امریکہ اور پاکستان کے درمیان فوجی تعلقات بحالی کی راہ پر گامزن ہیں۔ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین نے اپنے ساتھ سفر کرنے والے نامہ نگاروں کو بتایا کہ انھیں امریکی سنٹرل کمانڈ کے کمانڈر،مرین کور جنرل جیمز میٹس، نیٹو انٹرنیشنل سیکورٹی اسسٹنس فورس کے کمانڈر مرین کور جنرل جان ایلن اور پاکستانی فوج کے جنرل پرویز اشفاق کیانی کے درمیان کل اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات سے چند قابل ذکر بیانات حاصل ہوئی ہیں۔ ڈیمپسی نے کہا کہ نومبر 26 والا واقعہ، جس میں 24 پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے تھے، کے بعد یہ پہلا مرتبہ تھا جس میں دونوں ممالک کے سربراہان ایک کمرے میں موجود تھے۔ ڈیمپسی نے کہا کہ اگرچہ فوجی تعلقات میں بحالی اپنی راہ پر گامزن ہے پھر بھی اس سے یہ بات آشکارا نہیں ہوتی کہ دو اتحادیوں کے درمیان روشنی کی چمک یکدم نمودار ہو رہی ہے. انہوں نے کہا کہ فوجی اہلکار رابطے قائم کرتے ہیں لیکن وہ پالیسی نہیں بناتے ۔ جنرل کا کہنا ہے کہ امریکی اور پاکستانی حکام کو چاہئیے کہ وہ مسائل کی اہمیت کے مطابق ان کی زمرہ بندی اور فوقیت مقرر کریں. انہوں نے کہا کہ کچھ چیزیں ہم دونوں کو مئی میں ہونے والے نیٹو اجلاس سے پہلے حل کرلینی چاہیے تھیں۔ ان مسائل میں سے ایک بذریعہ پاکستان، افغانستان کے لئے زمینی مواصلات کے راستوں کو کھولنے کا مسئلہ ہے۔ ڈیمپسی نے کہا کہ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ پاکستان کی جانب سے راستوں کو بند کرنا نہ صرف امریکہ، بلکہ نیٹو ممالک اور حصہ لینے والی دیگر اقوام پر بھی اثر انداز ہے۔ افغانستان جنگی موسم میں داخل ہورہا ہے، جس میں موسم سرما کے دوران چُھپنے والے جنگجو سابقہ تاریخ کے مطابق باہر نکل پڑتے ہیں ۔ جنرل نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے سپلائی لائن تمام نئی رسد آسان بنا دے گی۔ اس سے اتحادیوں کو درپیش طبیعات کے مسئلے کو حل کرنے میں بھی مدد ملے گی کیونکہ اس سے فوجیوں اور آلات کے انخلاء کا آغاز ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آلات کو افغانستان پہنچانے کے لئے دس مستحکم سال بسر کئے ہیں ۔ اب ہم سامان کو باہر نکالنے کے عمل کا آغاز کررہے ہیں اور ایسا کرنے کے لئے شمالی اور جنوبی سمتوں کا استعمال یقینی طور پر بہتر ہوگا۔ ایک اور عنصر جو امریکہ اور پاکستان کے فوجی تعلقات میں پیچیدگی پیدا کررہا ہے وہ وہ دس سال ہیں جب ہمارے درمیان تعلقات منقطع تھے .پریسلر ایمینڈمینٹ نے پاکستان امریکہ کے درمیان تمام فوجی تعلقات پر پابندی لگادی تھی۔ اس وقت کے حکومتی رہنماؤں کے خیال میں پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی ترقی کے خلاف یہ برمحل اقدامات تھے۔ " چیئرمین نے کہا کہ میں فوجی بہ فوجی تعلقات کو منقطع کرنے کی وکالت نہیں کرتا، خاص طور پر ان تعلقات کو جن کو استوار کرنے میں سالوں لگے ہیں۔ ہم نے اپنے ہم منصب پاکستانی فوجیوں کے ساتھ روابط استوار کرنے کے 10 سال ضائع کئے – وہ ہمارے اسکولوں میں نہیں آ رہے تھے، وہ ہمارے ساتھ تربیت نہیں پا رہے تھے، کوئی بھی فوجی مشقیں نہیں ہوئیں، کوئی فوجی فروخت کا پروگرام عمل میں نہیں آیا، ٹیکنالوجی کی منتقلی نہیں ہوئی، اور کوئی سیکورٹی تعاون نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا اس کا تدارک کرنے کے لئے امریکی فوج کی جانب سے بروئے کار لایا جانے والا منصوبہ، برق رفتار تعاون کا پروگرام ہے ۔ مثال کے طور پر، امریکی سنٹرل کمانڈ میں 64 مختلف رابطہ کمانڈ میں کام کرنے والے افسران ہیں، جن میں سے بہت سے پاکستان سے ہیں. ڈیمپسی نے کہا کہ یہ پروگرام اور ہمارے اسکول کے تبادلے ہمارے تعلقات کو دوبارہ استوار کرنے کا آغاز ہیں لیکن یہ راتوں رات ممکن نہیں ہے ۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 






















