| قدرتی آفت سے نمٹنے کے امدادی کاموں میں امریکی اور پاکستانی فوجیں ایک ہو گئیں |
منجانب , Office of the Secretary of Defense Public Affairs
بارودی سرنگوں کی روک تھام کے ہیلی کاپٹر سکواڈرن 15 کے ایچ ایم- 15 دستے کے جوان صوبہ پختون خواہ، پاکستان میں انسانی فلاحی کاروائیوں کے دوران بحریہ کے سی ڈریگن میں امدادی سامان لادنے میں پاکستانی فوجیوں کی مدد کر رہے ہیں۔ ( امریکی میرین کور فوٹو۔ بجانب کیپٹن پال ڈًٰٔنکن)
واشنگٹن ڈی سی۔ (26 اگست، 2010) پاکستان میں مصروف امریکی دستوں کے نگران جنرل نے 25 اگست کو کہا کہ پاکستانی فوج نے شمالی پاکستان میں سیلاب کے لیۓ امداد فراہم کرنے والی امریکی فورسز کے ساتھ زبردست تعاون، اعانت اور دوستی کا مظاہرہ کیا ہے۔ شمالی پاکستان کے غازی فضائیہ اڈے سے ایک ویڈیو- ٹیلی کانفرس بریفنگ کے دوران فوجی بریگیڈئر جنرل مائیکل نگاٹا نے پینٹاگون کے نامہ نگاروں کو بتایا کہ باہمی تعاون، اشتراکِ عمل، مدد، تحفظ اور دوستی – اور میں اس لفظ کا استعمال بہت سوچ سمجھ کے کر رہا ہوں – جن کا اظہار ہمارے پاکستانی ساتھیوں نے ہمارے لیے کیا ہے وہ بہت ہی اثر انگیز ہے۔ نگاٹا نے کہا کہ یہ باہمی تعاون کی بہترین مثالوں میں سے ایک ہے جو کہ میں نے کبھی فوجی شراکت داروں کے درمیان دیکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات جن میں دیر بالا، وادیء سوات اور کوخستان کے علاقے شامل ہیں وہاں آج امریکی فوج کی اعانت 230 برّی، بحری، فضائی افواج کے جوانوں اور میرینز اور 19 ہیلی کاپٹروں پر مشتمل ہے۔ نگاٹا نے کہا کہ فضائیہ اور میرین کور کے چار سی – 130 بار بردار طیارے پاکستان کے دوسرے علاقوں میں امدادی سامان فراہم کر رہے ہیں. نگاٹا نے بتایا کہ امریکہ نے اپنے سازوسامان میں بتدریج اضافہ کیا ہے۔ اس کی شروعات افغانستان سے آٹھ فوجی ہیلی کاپٹروں سے ہوئی جنہوں نے جولائی کے آخر میں سیلاب کے آغاز کے ساتھ غازی فضائیہ اڈے سے دو ہفتوں کے لیۓ کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں بحریہ اور میرین کور کے 15 ہیلی کاپٹروں نے فوجی ہیلی کاپٹروں کی جگہ لے لی۔ نگاٹا نے بتایا کہ توقع ہے کہ بھاری سامان اٹھانے والے مزید چار ہیلی کاپٹر ستمبر کے شروع میں غازی پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے اضافہ کرتے ہوۓ کہا کہ جب تک حکومت پاکستان درخواست کرے گی اُس وقت تک امریکی فوجی سیلاب میں امدادی کاوائیاں جاری رکھے گی۔ نگاٹا نے کہا کہ اس دوران مستقبل میں امدادی کاروائیوں پر غور کرنے کے لیے مختلف امریکی اداروں کی اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں وسیع پیمانے پر گفت و شنید ہو رہی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ سیلاب جس نے دس لاکھ سے زیادہ افراد کو بے گھر کر دیا ہے ایک تاریخی بڑا سیلاب ہے اوراس سے بحالی میں بہت وقت لگے گا۔ اگرچہ نگاٹا نے اس بارے میں گفتگو کرنے سے انکار کر دیا کہ وادیء سوات میں پاکستانی فوج کی باغیوں کے خلاف کاروائی کی کوششوں پر سیلاب کا کیا اثر پڑا ہے، انہوں نے کہا کہ چار ہفتے قبل جب سیلاب شروع ہوا انہوں نےمعقول پیش رفت کر لی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی باغیوں کے خلاف کئ سالوں سے بڑی توانائی اور عظمِ صمیم کے ساتھ جوابی کاروائیاں کر رہے ہیں۔ نگاٹا نے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے بارے میں کہا کہ وہ پوری طرح سے پُرخلوص ہیں اور اس ملک میں جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں ان کے بہت افراد ہلاک یا زخمی ہوے ہیں۔ نگاٹا نے کہا کہ باغیوں کے خلاف پاکستانی کاروائی، سکیورٹی کے لیے اُن کی موجودہ مدد اور سیلاب کی صورتِ حال کی ملی جلی وجوہات سے غالباً امریکی فورسز کو علاقے میں سکیورٹی کا کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ جب سے ہم پاکستان پہنچے ہیں ہمیں اپنی حفاظت کے لیے ڈرنے کی کوئی وجہ محسوس نہیں ہوئی۔ جنرل نے کہا کہ شمالی پاکستان میں ایک بڑے ہینگر اور دو دوسری جگہوں سے کام کرتے ہوۓ طیارے اور عملہ زیادہ تر بڑی مقدار میں کھانے کی چیزیں جیسے آٹا اور چاول اور اس کے ساتھ ساتھ دوسری چیزوں کے علاوہ کھانا پکانے کے برتن اور آسانی سے لے جاۓ جانے والے پانی صاف کرنے کے آلات تقسیم کر رہے ہیں۔ نگاٹا نے کہا کہ ابھی تک شمالی صوبوں میں بیماریوں میں جنوبی صوبوں سا اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس کی وجہ غالباً شمالی پہاڑی علاقوں میں ٹھرے ہوۓ پانی کو کم کرنے کے لیے پانی کی بہتر نکاسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی نکاسی کی وجہ سے علاقے کا جائزہ لینا ممکن ہو سکا جس سے فصلوں، سڑکوں، کھیتوں، عمارتوں اور دوسرے بنیادی ڈھانچے کو قابلِ ذکر نقصان ہوا ہے۔ جب اُن سے امریکی فوجیوں کے بارے میں پاکستانی شہریوں کے ردِعمل کا پوچھا گیا جو اُن کے ملک میں کام کر رہے ہیں تو نگاٹا نے کہا کہ وہ ممنون ہیں۔ میں نے بہت سے واقعات دیکھے ہیں جہاں وہ شکریہ ادا کرنے کے لیے امریکی اور پاکستانی فوجی ارکان کے پاس گۓ۔ |
جنگی کیمرہ 
مرکزی کمان کی تصویریں 




















